کانچے پل سے اشکومن تک جانے والی سڑک آثار قدیمہ کا مںظر پیش کرنے لگی، ایک گھنٹے کا سفر دو گھنٹوں میں طے ہونے لگا

کانچے پل سے اشکومن تک جانے والی سڑک آثار قدیمہ کا مںظر پیش کرنے لگی، ایک گھنٹے کا سفر دو گھنٹوں میں طے ہونے لگا

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چٹورکھنڈ(کریم رانجھا) ؔ کانچے پل تا اشکومن ،روڈ آثار قدیمہ کا منظر پیش کرنے لگی،جگہ جگہ گڑھے،تارکول کا نام ونشان نہیں،ایک گھنٹے کا سفر دو گھنٹوں میں طے ہونے لگا،مسافروں کو شدید پریشانی،متعلقہ حکام نے چپ سادھ لی۔وادی اشکومن کو دیگر علاقوں سے ملانے والی واحد ’’جرنیلی سڑک‘‘ ۔سڑک کیا ہے؟ایک پگڈنڈی ،جس پر گزرتے ہوئے مسافرآئندہ کے سفر سے توبہ کرلیتے ہیں لیکن چاروناچار حالات پھراسی سڑک پر سفر کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔کانچے پل سے اشکومن تک تارکول کا نام ونشان بھی مٹ چکا ہے،جگہ جگہ گڑھے،ان سے گزر جائیں تو خودساختہ واٹر چینلز سفر دشوار کردیتے ہیں،رہی سہی کسر بارشوں نے پوری کردی ہے درجنوں مقامات پر سیلاب کا ملبہ سڑک کنارے پڑا ہوا ہے جس سے حادثات کا خطرہ ہے لیکن مجال ہے جو محکمہ تعمیرات نے خبر لی ہو۔گلوداس کے مقام پر کلورٹس کی تعمیر کے نام پربیچ سڑک اندھے کنوئیں کھودے گئے ہیں لیکن متعلقہ ٹھیکیدار نے کھودے ہوئے کنووءں کے اس جانب یا اس جانب دو چار پتھر رکھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی اور ایک ہی روز دو موٹر سائیکل سوار ایک ہی کنویں میں گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ذرائع کے مطابق ہاسس نالے پر زیر تعمیر کازوے کی بنیاد کی کھدائی مجوزہ مقدار کے مطابق نہیں کی گئی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سیلاب کاایک ہی جھٹکا اس کا کام تمام کردے گی۔فمانی نالے پر بھی پانی کی آمد شروع ہوچکی ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہر سال گرمیوں میں ان مقامات پر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن محکمہ تعمیرات مستقل حل ڈھونڈنے کی بجائے کمیشن کی خاطر ’’کام چلاؤ‘‘ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔چالیس کلومیٹر طویل یہ سڑک پہلے ایک گھنٹے میں طے ہوتا تھا اب فرق یہ ہے کہ دو گھنٹے لگتے ہیں ۔اور آخر میں یہ خبر کہ دائین کے مقام پر خشک نالے پر تعمیر ہونے والے پل کے دونوں اطراف کی دیواریں بن چکی ہیں لیکن سات سال گزر جانے کے باوجود پل تعمیر نہ ہوسکا ۔’’محکمہ تعمیرات زندہ باد،پاکستان پائندہ باد‘‘۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔