مفت تعلیم کا تصور

مفت تعلیم کا تصور

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: محمدجان رحمت جان

مفت تعلیم سے مراد وہ تعلیم ہے جس کے اخراجات طلباء وطالبات سے فیس کے طور پر لینے کے بجائے ملکی یا ریاستی ٹیکس یا مخیر خواتین وحضرات یا ادارے مہیاکریں فری تعلیم کہلاتا ہے۔ بہت سارے ملکوں میں پرائمری سے ماسٹر لیول تک مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے بعض ملکوں میں صرف پرائمری سطح تک محدود ہے اور بعض ملکوں میں ثانوی درجے تک فراہم کی جاتی ہے۔بین الاقوامی معاہدہ معاشی‘ سماجی اور ثقافتی حقوق کے آرٹیکل تیرہ (The Article 13 of International Covenant on Economic, Social and Cultural Rights) کے مطابق ہرشہری کوپرائمری سطح سے سکنڈری سطح تک مفت تعلیم کا حق ہے لیکن اس پر عمل درآمد صرف چند ملکوں نے کی ہے۔ مفت تعلیم کا تصور تھومس پین نے اٹھارویں صدی میں دی۔امریکہ سمت دیگر ملکوں میں یہ تصور انیسویں صدی میں رواج پایا جب پرائمری تعلیم لازمی قرار دی گئی تھی۔اسلامی دنیا میں مفت تعلیم کا رواج ابتدائی تاریخ کے مطالعے سے ملتاہے۔ مسجد اور مدرسے کا رواج بھی بہت قدیم ہے جہاں مخیر خواتین وحضرات کے تعاون ‘ خلیفہ وقت کے حکم اوربیت المال سے اخراجات ادا کئے جاتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بہترین تعلیمی نظام بہت وسعت اختیار کرنے کے بعداب صرف دینی تعلیم تک محدود ہوگیا ہے۔فقہی مسائل کے وجود کے بعد مدارس کا اپنے اپنے فقہ تک محدود ہونے سے اس تعلیمی سلسلے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔اس کے باوجود بعض مدرسوں میں اب بھی عالمگیر سطح پر مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے مطابق تعلیم تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی ادائیگی کے فرائض ہرملک وریاست پر ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بہت سے ممالک نے یہ فرض پہلے ہی ادا کر رکھا ہے اور بیشتر ممالک اس کی تکمیل کی دوڑ میں اپنے آئینی حدود میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مفت ابتدائی تعلیم دینے کا سلسلہ مغربی ملکوں سے شروع ہوا اور آج تیسری دنیا کے لوگ بھی مفت تعلیم دینے کی کوشش میں لگے ہیں۔ پاکستان کے آئینی شق پچیس اے کے مطابق تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس معاملے میں کسی صنفی یا جنسی امتیاز نہیں۔ خاص کر ابتدائی تعلیم اس لئے بھی مفت دی جا رہی ہے تاکہ غریب لوگ تعلیم کے نعمت سے بہرہ ور ہوسکیں۔ دو ہزار بارہ میں پی پی پی دور حکومت میں پانچ سے سولہ سال تک کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کا بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا ہے جس پر عمل نہ کرنے والے والدین پر جرمانے بھی تجویز ہے۔۔۔نہ صرف یہ بلکہ نجی اداروں میں بھی مستحق بچوں کی تعلیم کے لئے وظیفے کا اعلان کیا گیا۔ ملکی وریاستی اقدامات اپنی جگہ محکمہ تعلیم بھی اس معاملے میں تگ ودو میں لگا ہے اور کہیں ایک اچھے اقدامات کر لئے گئے ہیں۔ مثلاََ پورے ملک اور گلگت بلتستان میں سرکاری اداروں میں مفت تعلیم دی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ صوبائی حکومت نے مفت تعلیم کے ساتھ والدین کے لئے بھی چندقوانین کا بل پاس کیا ہے۔ تعلیمی انقلابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور ان کے مراعات میں بھی خاطرخواہ اضافہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے میں بھی کثرت سے تعمیری کام جاری ہے۔ سکولوں کی عمارتوں اور دیگر ضروریات بھی باہم پہنچائی جارہی ہے۔ یہ کام سست صحیح لیکن قدم اٹھا لی گئی ہے۔ اس تمام کوشش کے باوجود لوگوں کا مفت تعلیم کی طرف کم توجہ دینا قابل غور ہے۔ ماضی کے بہت سی غلطیوں سے اداروں کو پاک کرنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس پیشے کی طرف آرہے ہیں۔ البتہ والدین اور عوام الناس کی توجہ حاصل کرنا کافی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس سلسلے میں کافی تجاویز دی جاسکتی ہے۔مفت تعلیم کا سلسلہ پوری دنیا میں ہے خاص کر امیر مغربی ممالک میں۔اس سلسلے میں جرمنی میں ابتدائی تعلیم سے یونیورسٹی سطح تک مفت تعلیم دی جاتی ہے یہاں تک کہ دوسرے ملک سے آنے والے طلباء کے لئے بھی مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ تعلیم دینے میں ہرقسم کی تعلیم شامل ہے مثلاََ سائنسی‘ زرعی‘ صنعتی ‘ انجینئرنگ اور آرٹس ۔ فن لینڈ میں بھی ذاتی خرچے کے علاوہ مفت تعلیم کا رواج ہے۔فرانس میں مفت کیساتھ ساتھ سستا نظام تعلیم موجود ہے۔ سوئیڈن میں نو سو سے زیادہ پروگرام پیش کئے جاتے ہیں لیکن پی ایچ ڈی سطح پر تعلیم فری ہے۔ ناروے کی حکومت بھی بین الاقوامی طلباء سے بھی فیس وصول نہیں کرتی ہے۔ ان کے کلاسوں میں طلباء کی تعداد کم رکھی جاتی ہے تاکہ استاد تک رسائی ممکن رہے۔برازیل میں بھی معمولی رقم لیکر داخلہ دیا جاتا ہے۔ انڈیامیں2009ء کو مفت اور لازمی تعلیم کے لئے قانون سازی کی گئی ان کے آئین کے آرٹیکل اکیس اے میں مفت اور لازمی تعلیم چھے سے چودہ سال تک لازمی قرار دیا گیاہے۔ بحرحال ان ملکوں میں مفت تعلیم کا مطلب میعاری تعلیم ہے اور یہ تعلیم قاعدہ سے پی ایچ ڈی تک پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان میں مفت تعلیم سے مراد کیا ہے؟ صرف پرائمری سطح یا میڑک لیول تک؟ اس سے اعلیٰ سطح پر اتنی مہنگائی ہے کہ اس کا حصول عام بچوں کی گنجائش میں نہیں ۔کچھ عرصے سے حکومتوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے اچھے اقدامات کئے ہیں جن میں بعض غریب اور دورافتادہ علاقوں کی یونیورسٹیوں میں مفت ایم۔اے سے ایم فل لیول تعلیم شامل ہے۔ لیپ ٹاپ سکیم اور دیگر سکالرشب پروگراموں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میعار اور مخلصی کتنی ہے۔ نجی اداروں میں اس سطح کی تعلیم لاکھوں کے اخراجات میں میسرہے۔

دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام حکومتوں کی وجہ سے آج دنیا میں مقابلے کا رجحان ہے۔ کاروبار زندگی میں مفت‘ سستا اور قیمتی کے درجات ہیں۔ آج کے سماج میں مفت چیز کو کوئی حیثیت حاصل نہیں۔ سستا بھی اپنی وقعت کھو چکا ہے سب لوگ قیمتی کی تلاش میں ہے۔ اب یہ کون سمجھائے گا کہ قیمتی کا معیار کیا ہوگا؟ کون یہ معیارات مقرر کرے گا؟ طاقتور کی استعمال کی چیزیں ہمیشہ قیمتی ہوتے رہے ہیں بھلے وہ جیسے بھی ہو۔ آج لوگ ان دکانوں کا رخ کرتے ہیں جہاں عام دکان کی نسبت مہنگائی ہے مثلاََکسی بھی بیکری میں جائیں اگر قیمتیں زیادہ ہیں تو لوگ ان کے معیار سے خوش ہوتے ہیں۔ ایک دکاندار کہتا ہے کہ گھی‘ بیسکٹ‘ تیل یا کوئی بھی چیز گاہک کو مناسب یا سستا بتانے سے نہیں خریدتے ہیں۔ قیمت زیادہ بتانے سے چیزیں زیادہ بگتے ہیں۔ آج کل لوگ مفت اور سستے چیزوں کو ترجیح نہیں دیتے ہیں۔ مہنگے چیزیں بہت بگ جاتی ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو اس رائے سے اختلاف ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ مہنگی چیزوں کی قدر بھی مہنگی ہوتی ہے۔امیر ملکوں میں مفت تعلیم میعار اور اصل روح کے ساتھ دی جاتی ہے جبکہ غریب ممالک میں صرف دکھاوا کے طور پرشروعات لی گئی ہے۔

آج کے سکولوں کی عمارتوں‘ فرنیچر‘ کلاس کے ماحول اور ان کے دفاتروں کے ساتھ ساتھ وہاں کے سٹاف کے لوگوں کی خُلق و لباس کی بنیاد پر لوگ تعلیم کا معیار مقرر کرتے ہیں۔ مفت اور سستے درسگاہوں کو کم ترجیح دی جاتی ہے۔ ظاہری شان و شوکت اورہمعصر چیزوں کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ماحول اور تعلیمی مطمع نظر بھی تعلیم کے حصول میں بہت اہم ہے۔ آج ہر گاؤں میں نجی ادارے اور مدرسے یہ سب طریقے ازما رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے مفت تعلیم کسی تحفے سے کم نہیں لیکن اس تحفے کو کوئی لینے کو تیار نہیں۔ ہوسکتا چند ایک علاقوں میں اس مفت نظام کی حوصلہ افزائی ہو لیکن عموماََ مفت سکولوں کی اتنی پزیرائی نہیں جنتی کہ مہنگے سکولوں کی طلب ہے۔ پاکستان میں اکثر امیر لوگ مفت تعلیم کے حق میں نہیں مگر یہ امیر بھی کوئی امراء نہیں بلکہ ہر وہ آدمی امیر کہلاتا ہے جو مہنگے سکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلواتا ہے۔ اب اس سادہ بحث کی مزید تفصیل دیکھیں کہ مفت‘ سستے اور قیمتی درسگاہوں کے بچوں کی بھی با لکل اسی منہاج میں درجہ بندی ہوتی ہے۔ آج ٹسٹ اور انٹرویوز میں اہلیت و قابلیت کا انحصار بھی ان کے اداروں کی بنیاد پر کیا جاتاہے۔ انٹریو پینلوں میں درسگاہوں کے نام لینے سے ہی امیدوارکے انتخاب کا میعارمقررہوجاتاہے۔ نہ صرف یہ بلکہ آج ملک اور باہر ملک کا چرچا بھی عام ہے۔ بین الاقوامی سند کو بھی بہت ترجیح دی جاتی ہے بھلے وہ کسی بھی ملک کا کیوں نہ ہو خاص کر مغربی ملکوں کی سند کو میعار کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے بھلے وہ جامعات جیسے بھی ہو۔اس لئے نجی ادارے بڑے پُراثر نام رکھ کر تعلیم فراہم کرنے مہم میں لگے ہیں لیکن ان کے مقاصد صرف سرمایہ کاری کے علاوہ کچھ نہیں!

انتخاب اورمیعار کے اس پیمانے نے ہمارے معاشرے میں بہت سے طبقات کو جنم دیا ہے۔ یہ طبقات سماج میں ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہونے پر تلے ہوئے ہیں۔ نجی اور مہنگے سکولوں کے بچے عام ’مفت یا سستے‘ سکولوں کے بچوں کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔ تعلقات کے یہ مناظر ہمارے ماحول پر بہت اثرانداز ہوتے ہیں۔ مدرسہ‘ مفت سکول اور میعاری سکولوں کے یہ طبقات مستقبل کے معاشرتی درجات ہیں۔ جن کی تفصیل کارل مارکس جیسے عالم و فاضل علماء نے کی ہے۔ غریب اور امیر سے نام سے بننے والے یہ ادارے ہماری دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مفت تعلیم کے نعرے سے مفت تعلیم نہیں مل سکتی بلکہ اس کے لئے سنجیدہ اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ مفت تعلیم کوئی احسان نہیں بلکہ ہر شہری کا حق ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اس کو مفید بنائیں۔ میعار اور میعاری تعلیم دینے کے بعد مفت ہو تو ہر شہری مستفید ہوگا۔ اس لئے اساتذہ کی مطلوبہ تعداد‘ تربیت‘ نگرانی‘ انتظام اورانصرام ہی میعار تعلیم کی ضمانت ہوسکتی ہے۔چند ممالک صرف بین الاقوامی سطح پر شہرت پانے کے لئے تعلیمی اقدامات کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔امراء‘ حکمران‘ سیاست دان‘ پیسے والے ان مفت تعلیمی اداروں کو کچھ سمجھتے نہیں بلکہ ان میں پڑھنے والوں کو بھی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے دیگر لوگ بھی اس مفت تعلیم کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حکومت کو اپنے ریاستی سکولوں کے نصاب‘ انتظام وانصرام‘ عمارت کی مناسب دیکھبال اور دیگرسہولیات کی طرف توجہ دینا ہوا۔ اساتذہ کرام کی تربیت کے ساتھ سکولوں کی عمارتوں اوردیگرہمعصر تعلیمی سہولیات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ نجی اداروں کو بھی لگام دینے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ مناسب نصاب تعلیم کے ساتھ مفت تعلیم کی تکمیل ہوسکیں۔

جان تم پر نثار کرتاہوں

میں نہیں جانتا دعاکیا ہے

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالب

مفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔