چترال میں سیلاب سے مسجد شہید، امام مسجد اور فوجی جوانوں سمیت 31 افراد جان بحق، 17افراد کی لاشیں دریا چترال سے نکال لی گئی

چترال میں سیلاب سے مسجد شہید، امام مسجد اور فوجی جوانوں سمیت 31 افراد جان بحق، 17افراد کی لاشیں دریا چترال سے نکال لی گئی

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( بشیر حسین آزاد ) ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب 27رمضان المبارک کی رات پاک افغان بارڈر سے ملحق اُرسون گاؤں میں طوفانی بارش ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں 31افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے ۔ مقامی گاؤں پیتاسوں کے لوگ ایک مسجد میں نماز تراویح پڑھ رہے تھے کہ سیلاب آیا ۔ اور مسجد کو شہید کرکے امام مسجد سمیت پندرہ افراد کو بہا کر لے گیا ۔ سیلاب سے کئی مکانات بھی بہہ گئے ۔ اور مردو خواتین و بچے سیلابی ریلے کی نذرہو گئے ۔سیلاب نے پاک آرمی کے سی ٹی پوسٹ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ، اور ایک حوالدار ایک سپاہی اور 6فالور بھی سیلاب کی نذر ہو گئے ۔ جبکہ چار جوان زخمی ہوئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 6افراد بھی شامل ہیں ۔ جن میں ماں باپ تین بیٹے اور ایک بیٹی جان بحق ہوئے ۔ پاک آرمی کے پوسٹ پر موجود 23خچر جو پوسٹ کیلئے راشن لے جانے اور دیگر سامان کی بار برداری کیلئے موجود تھے ۔سیلاب میں بہہ گئے ۔

سیلاب سے اُرسون گاؤں میں جان بحق ہونے والوں میں علیم اللہ ، نعیم اللہ ، محب اللہ پسران گل زرین ، عبد اللطیف ولد خان محمد ، شفیق ولد سید محمد ، ذاکر ولد عزیزاللہ ، نور محمدولد نور اسد، عبدالسلام ،ذاول پسران گل محمد 8فوجی جوان اور کچی نسار گاؤں میں عثمان ، زوجہ عثمان اور اُسکے چار بچے سمیت مجموعی طور پر 31افراد جان بحق ہو گئے ہیں ۔ جن میں 6خواتین اور پانچ بچے بھی شامل ہیں ۔ تاہم بعض ناموں کا اندارج جاری ہے ۔ جان بحق ہونے والوں میں سے 17افراد کی لاشیں دریاء چترال سے نکال لی گئی ہیں ۔ ان میں سے 13 لاشیں افغان علاقہ ناڑئے سے ایک نگر چترال کے مختلف مقامات میں دریاء سے بر آمد کئے گئے ہیں ۔ جن میں سے دو کی تدفین کی گئی ، ناڑے میں بر آمد ہو نے والے لاشوں کو افغان فورسز نے پاک افغان بارڈر ارندو پہنچا نے کے انتظامات کر لئے ۔ جہاں سے اُنہیں آبائی علاقہ اُرسون لا کر تدفین کئے جائیں گے ۔

DC and CO army visit to affected area

Tabah Shuda Masjid

اُدھر اُرسون میں شدید سیلاب سے ر وڈ بلاک ہو چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے ۔ تاہم پاک آرمی ، ، چترال پولیس اور بارڈر پولیس امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں پاک آرمی کے کرنل وقار چیمہ نے تباہ شدہ چیک پوسٹ اور علاقے کا دورہ کیا ۔ اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ۔

ایم این اے چترال شہزادہ افتخارلدین ، چترال کے ضلع ناظم مغفرت شاہ ، ایم پی اے سلیم خان ڈی سی چترال اُسامہ احمد وڑائچ ڈی پی او چترال آصف اقبال نے سانحے کے مقام کا دورہ کیا ۔ اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔ ضلع ناظم نے سیلاب میں جان بحق بچے کے جنازے میں بھی شرکت کی ۔ سیلاب کی تباہی سے علاقے میں شدید خو ف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ اور لوگ انتہائی صدمے کی حالت میں ہیں ۔پاک آرمی کے ہیلی کاہٹر نے چار زخمی جوانوں کو ریسکیو کرکے چترال سکاؤٹس ہسپتال پہنچا دیا ہے ۔ سیلاب سے اُرسون میں 19گھروں کو مکمل 27گھروں کو جزو ی نقصان پہنچا ہے ۔ 53مال مویشی ،23خچرہلاک ہو گئے ۔ اُرسون وادی سے آنے والے سیلابی ریلے نے نشیبی علاقہ نگر میں دریائے چترال کا راستہ بند کر دیا ہے ۔ اور نگر کا پورا علاقہ بشمول قلعہ نگر جھیل کے پانی کی لپیٹ میں ہے ۔ کئی مکانات مصنوعی جھیل میں ڈوب گئے ہیں ۔ اور اس ائریے میں باغات و زمینات کا کٹاؤ شروع ہو گیا ہے ۔ اُرسون میں سیلاب سے بچ جانے والے افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں ، جنہیں فوری طور پر امداد فراہم کرنے کیلئے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ چترال نے متاثرہ لوگوں کیلئے خیمے اور خوراک اور دیگر امدادی سامان روانہ کر دیا ہے ۔

پاک آرمی کی طرف سے 50 ٹینٹ 150راشن موقع پر پہنچا دیے گئے ہیں ۔ جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن نے وہاں فوری طور پر کیمپ کھول کر امدادی کاروائیاں شروع کردی ہیں ۔ اور اب تک 50فوڈ پیکیج ،30بسترے50 ترپال اور بڑی مقدار میں میڈیسن فراہم کیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے 28ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے ۔ جبکہ دیگر ذرائع 31ہلاکتیں بتا رہے ہیں ۔

ضلع ناظم چترال نے اُرسون سیلاب سانحے کو انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا ہے ۔ اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ کہ چترال ڈیزاسٹر ہٹ زون بن گیا ہے ۔ لیکن ان آفات کو ڈیل کرنے کیلئے نیشنل ڈیزاسٹر ، پراونشل ڈیزاسٹر اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا ۔ کہ اسلام آباد اور پشاور میں بیٹھے ہوئے آفیسران کو متاثرین کی مشکلات کا ذرا برابر احساس نہیں ہے ۔ اور آفت کے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ کو سب کی منٹ سماجت کرنی پڑتی ہے ۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے ۔ کہ چترال میں آفات س نمٹنے کیلئے ایک منظم سسٹم ہو نا چاہیے ۔ جن کے ساتھ ایکسپرٹ اور ٹیکنکل افرادی قوت ہونی چاہیے ۔ نیز تمام تر ضروریات کاشاخ چترال میں موجود ہوں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔