جشنِ امامت مبارک

 جشنِ امامت مبارک

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

از قلم الواعظ نزار فرمان علی

اے میرے اللہ! اختیاراعلیٰ کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے اختیار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اختیار چھین لیتا ہے اور تو جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتاہے ذلت دیتا ہے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے بے شک تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ (القرآن)

الحمداللہ ، دنیا بھر میں آباد شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان اپنے پیارے امام سرکار نورمولانا شاہ کریم الحسینی حاضر امام کا59 واں جشن یوم امامت انتہائی عقیدت و احترام ، ملی اخوت و بھائی چارے کے جذبے سے سرشار، عشق و محبت اورایثار و وفاداری کے عہد کے ساتھ منارہے ہیں۔اس یوم سعید پر مرید اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاضر امام کی رہبری و ہدایت کا قلبی و عملی طور پر شکرانہ ادا کرتے ہیں۔اس روح پرور موقع پر جماعت خانوں میں فرض عبادات کے ساتھ خصوصی دعا و تسبیحات ،قصیدہ و منقبت اورخشوع وخضوع کے ساتھ گریہ و گزاری و مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات، صاحب دانا و بینا، پاک رب العزت، پاکستان،عالم اسلام اور پوری انسانیت کی مشکل آسان،سکھ سلامتی آبادی اور ترقی کیلئے دعا گزاری کی جاتی ہے۔

بروز جمعرات 27 فروری2014 کنیڈین حکومت کی دعوت پر حاضر امام نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب فرمایا، آپ وہ پہلے مسلمان اور پہلے مذہبی فرقے کے رہنما ہیں جنہیں اس اعزاز سے نوازا گیا۔اس کے علاوہ یہ اعزاز آج تک صرف ۵ افراد جو کہ کسی مملکت کے سربراہ ہیں کو دیا گیا ہے۔اس تاریخی موقع پر آپ نے اپنے خطاب میں اپنی ذات کے حوالے سے فرمایا ’’ کہ میں ایک ایسے مسلمان خاندان میں پیدا ہوا، جو مورثی طور پر ہمارے بنی حضرت محمد ﷺ سے منسلک تھا، میری تعلیم اسلامی اور مغربی روایات دونوں کا آمیزہ ہے اور میں تقریباً ۵۰ سال (درحقیقت ۵۶ سال) قبل جب ہارورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا تو دی شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کا اُنچاسواں موروثی امام بنا۔ اسماعیلی امامت ایک مافوق القومی (آفاقی) اکائی ہے جو نبی کریم ؐ کے زمانے سے ہی اماموں کی جانشینی کے تسلسل کی نمائندگی کرتی ہے، اسماعیلی امام کی ذمہ داری روحانی ہے اِن کا اختیار مذہب کی تشریح ہے یہ کوئی سیاسی ذمہ داری نہیں ہے، میں کسی قطۂ ارضی پر حکمرانی نہیں کرتا تاہم دوسری طرف اسلام کا بنیادی طور پر عقیدہ رہا ہے کہ مادی اور روحانی دنیا پیچیدہ حد تک باہم مربوط ہیں‘‘۔ ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا ’’ روحانیت کو ایک ایسا طریقہ نہ بننا چاہیے جو دنیا سے فرار اختیار کرے بلکہ اس کے بجائے ایک ایسا طریقہ بنے جو اس (دنیا) میں زیادہ سرگرمی سے مشغول رہے‘‘۔یقیناًدین اسلام ہمیں مادی ترقی سے نہیں روکتا بلکہ مادہ پرستی سے روکتا ہے، یہ ہمیں دنیا داری سے نہیں روکتا بلکہ دنیا پرستی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، دین متین ضروریات زندگی کی تکمیل سے نہیں روکتا بلکہ خواہشات نفسانی کی بے ہنگام موجوں میں ڈوب کر اپنی حقیقت کو فراموش کرنے سے منع کرتا ہے۔دینی نقطہ نگاہ سے زندگی کے کسی ایک پہلو میں کامیابی حاصل کرنا بڑی بات نہیں بلکہ زندگی کے تمام گوشوں ؛ جسمانی،ذہنی کے ساتھ ساتھ روحانی و اخلاقی لحاظ سے ترقی کرنے کو سراہتا ہے۔گویا زندگی کی تمام جہتوں کو روحانی قدروں کے تانا بانا سے باہم مربوط رکھنا ضروری ہے۔

مولانا حاضر امام نے پوری دنیا کی جماعت کیلئے ایک باضابطہ آئین بنامِ شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان عطا کیا ہے جو نامدار ادارہ جات، لیڈران اور دنیا بھر کی جماعتوں کو ایک اخلاقی دائرے میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا مکمل لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔اس آئین کے ایک ایک حرف کو امام نے جملہ اداروں کے لیڈران کی موجودگی میں تشکیل و تکمیل فرمایا جو درحقیقت اسلامی آئیڈئلز ، عبادات،اخلاقیات و معاملات کی ترجمانی کرتا ہے۔اس کی چند شقوں کو پیش کرنے سے قبل میں آپ کی خدمت میں سرسلطان محمد شاہ امام کی تصنیف دی میمائرس آف آغا خان کا ایک باب اسلام میرے مورثوں کا مذہب ہے میں فرماتے ہیں ’’ میری پالیسی اپنے پیروؤں کے ساتھ کیا رہی ہے ؟ ہمارا مذہب (طریقہ) ہمارا مذہب ہے آپ اس پر عقیدہ رکھیں یا نہ رکھیں آپ کسی مذہب کو چھوڑ سکتے ہیں لیکن آپ اگراس کے اصولوں کو نہیں مانتے تو اس مذہب میں رہنے اور اس کی اصلاح کا دعویٰ کرنے کے مجاز نہیں ہیں‘‘۔قارئین کرام ! دستور شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانان کے آرٹیکل 14 بعنوان تادیبی کاروائی کے مطابق ہر اُس اسماعیلی (فرد یا گروہ) کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی اگر وہ ، (ا)۔ قرآن پاک، پیغمبر پاکؐ، ا ہل بیت، مولانا حاضر امام، آئین ہذا، قواعد و ضوابط، کسی فرمان یا کسی اسماعیلی لٹریچر یا کسی رسم یا عبادت کی توہین یا مذاق کا مرتکب ہو۔ (ب) اسلام کے کسی طریقے (مسلک) یا اسلام اور کسی دوسرے مذہب کے درمیان تصادم پیدا کرنے کے ارادے سے ایسی سرگرمی میں ملوث ہو۔ (ج) اپنے رہائشی علاقے کی علاقائی کونسل کے وساطت سے نیشنل کونسل سے پیشگی اجازت کے بغیر ایسا مواد شائع کرتا ہو،چھاپتا ہو یا ایسا مواد تقسیم کرتا ہو یا ایسا بیان دیتا ہو یا میٹنگ یا اسمبلی منعقد کرتا ہو یا جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہو کہ اس کا تعلق حاضرامام، اسماعیلی طریقے، جماعت،کونسل یا دوسرے اسماعیلی ادارے سے ہے۔شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کا پرچم،پرچم امامت ، لوائے امامت اور مائی فلیگ کہلاتا ہے ،اسماعیلی پرچم جس میں سبز اور سُرخ رنگ کا حسین امتزاج ،دین مبین کے اساسی تصورات کی عکاسی کرتا ہے۔سبز رنگ اسلام کے بنی نوع انسان کے لئے پیام امن، صلح،سلامتی،سکون،خوشی اور ترقی و خوشحالی جبکہ سُرخ رنگ علامت ہے راہ خدا میں دل و جان سے ایثار و قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا۔ تاکہ خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ او ر ہم ضرور تم کو خوف اور بھوک اور مالوں،جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کیلئے خوشخبری دو‘‘۔(القرآن ) اس حکم کی عملی تفسیر انبیاء ؑ کی زندگی میں ملتی ہے، اللہ تعالیٰ کی بڑی آزمائش پر لبیک کہتے ہوئے حضرت ابراہیم ؑ او ر حضرت اسماعیل ؑ نے قربانی کی عظیم ترین عمارت کی بنیاد رکھی اور اس عظیم روایت کو امام حسین ؑ اور آپؑ کے دوستداروں کی بے مثال جانی قربانی، مثل خورشید رہتی دنیا تک اہل ایمان کوصراط المستقیم پر عالی ہمتی اور صبرو استقامت سے چلنے کیلئے جادۂ ایمان کو منور کرتی رہے گی۔پرچم امامت، اسماعیلی آئین کی روح سے عیدین،عیدمیلادالنبیؐ،عیدغدیر،شب قدر،نوروز اور دیگر تہواروں جبکہ قومی دن، کوئی فرمان مبارک یا تعلیقہ آجائے، کسی جماعت خانے کا افتتاح ہو یا حاضر امام ملک میں جب تک تشریف فرما ہو۔مائی فلیگ کے غیر مناسب استعمال مثلاً بطور لباس،وردی،رومال،اسٹیکر،ڈوری اور دیگر اشیاء کے لئے استعمال نہ ہو،کسی بھی تجارتی مقاصد،اشتہارات اور کامیابی کی علامت ،ٹریڈ مارک،جماعتی اور غیر جماعتی اداروں کے لیٹر ہیڈ کے طور پر ،سوشل میڈیا یا جماعتی اداروں کے ممبران و خدمت گار اور اساتذہ و طلباء پکنک یا کسی اور موقع پر اسماعیلی پرچم کا استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔

اسماعیلی تاریخ کا ایک روشن باب پرتگال کی حکومت کی جانب سے اسماعیلی امامت کیلئے گلوبل سیٹ کے قیام کا اعلان ہے،معاہدے کی رو سے منصب امامت کیلئے ضروری سفارتی مراعات و اعزازات ،مستثنیات اور سہولیات کی توثیق،حالانکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرنے کیلئے اس ریاست کا شہری ہونا لازمی ہوتا ہے،دوسرا باقاعدہ سیاسی جدوجہد کے بعد عوامی ووٹوں سے منتخب ہوکر ایوان تک رسائی حاصل کی جاتی ہے جبکہ پرتگال کی حکومت نے اسماعیلی امامت کی آئینی حیثیت اور بین الاقوامی امور میں کام کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے۔جس کے مطابق امامتی اداروں کو باضابطہ طور پر وہاں کے باشندوں کے معیار زندگی بہتر بنانے اور علمی معاشرے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے جہاں منصب امامت پرتگیزی زبان بولنے والے ممالک کے ساتھ اشتراک بڑھانے کے ساتھ بین الاقوامی برادری اور مسلم امہ کے مابین خوشگوار تعلقات، پُرامن اور شاندار مستقبل کو یقینی بنائے گی۔

ویژن ، ماضی حال اور مستقبل کا ایک خوبصورت سنگم ہوتا ہے جہاں آپ اپنے ماضی کے خام مال کو حال کے علم،مشاہدات و تجربات میں جِلا (نکھار) کر شاندار مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ سچے خواب وہ نہیں ہوتے جو نیند کی حالت میں دیکھے جائیں بلکہ اصل خواب ایسے چلبلے شرارے ہوتے ہیں جو تعبیر ملنے تک چین سے سونے نہیں دیتے ہیں۔جی ہاں ویژن ایک وعدہ یا ضابطہ عمل ہوتا ہے جو کسی بھی فرد ،خاندان اور اقوام کو امید کے ساتھ جہدِ مسلسل میں مگن رکھتا ہے۔یقیناً آپ کی روحانی قیادت کے حکیمانہ اور روشن تصورات نے نئے تجربات،نئے علم اور اعلیٰ تخلیقات کو جنم دیا۔اس کی زندہ و تابندہ مثال AKDNکا انسانی فلاح وترقی کا وسیع تر سماجی،معاشی و ثقافتی نیٹ ورک ہے جس کے تحت ایسے منصوبوں اور پروگراموں کوترتیب دینا جو معاشرے سے جہالت،غربت،بیماری،احساس محرومی اور انتشار کی کیفیت سے نکال کر فرد کو اپنے اعلیٰ ترین مرتبے پر زندگی گزارنے کا اہل بنائے،امام کے الفاظ میں یہ ادارے لوگوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں یعنی اُن کی تکثیرت پر،اُن کی عقلی پَرورش پر، نئے اور مفید علم کی تلاش پر،اتنا ہی جتنا کہ مادی وسائل پر کی جاتی ہے۔لیکن یہ ایسے ضمیر کے ساتھ سرمایہ کاری ہے جو کہ اسلام کے اخلاقیات سے فیض یاب ہو یہ وہ کام ہے جو ہر ایک کیلئے بلاامتیازصنف،نسل،مذہب،قومیت یا پس منظر کے فائدہ بخش ہو۔کیا قرآن پاک ایک پُر اثر حوالے کے طور پر انسانیت سے یہ نہیں کہتا کہ ’’اللہ نے سب کو ایک ہی نفس (جان) سے پیدا کیا‘‘چنانچہ بنیادی ضرورت کے حصول،پائیدار ترقی و دیر پا منصوبہ بندی کے میدانوں میں اے کے ڈی این کے ادارے،اے کے ایف/ اے کے یو/ اے کے ٹی سی/ اے کے اے/ اے کے آر ایس پی/ اے کے ایف ای ڈی/ اے کے ای ایس پی/ اے کے ایچ ایس/ فوکس/ اے کے ٹی سی اورکئی سماجی و تعلیمی خدمات پیش کرنے والے ادارے جو ای سی ڈی سے لے کر سینئر سٹیزن کی توجہ اور دیکھ بھال کے امور میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔

حاضر امام کے انسانی ترقیاتی نظام میں نورانی فیملی ممبرز کا مثالی اور قابل تقلید کردارہے ۔حال ہی میں شہزادی زہرا اور پرنس رحیم نے آغاخان میڈیکل سینٹر کا افتتاح کیا،گلگت میں قائم50 بیڈ پر مشتمل یہ سینٹر اعلیٰ معیار کی تشخیص اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ایک مرکز (Hub) کے طور پر کام کرے گا اور ڈیجیٹل ہیلتھ نیٹ ورک کے ذریعے دوردراز علاقوں کے ساتھ رابطہ اور اندرون و بیرون ملک قائم جدید اور اعلیٰ معیار کے میڈیکل مراکز بشمول آغاخان یونیورسٹی سے بھی رابطہ رکھے گا۔اے کے ای ایس پی کے تحت ڈی جے ماڈل سکول رحیم آباد کادورہ بھی کیا جہاں جدید سہولیات کا اضافہ کیا گیا ہے،نورانی فیملی نے پی ڈی سی این نارتھ کا ویزٹ کیا جہاں اساتذہ کی تربیت اور سکول امپرومنٹ پروگرام میں مذید بہتری لائی گئی ہے۔شہزادی زہرا اور شہزادہ رحیم کا اے کے ڈی این کے اشتراک

اور اپنی مدد آپ کے تحت قائم شدہ بلاد الکریم جماعت خانہ آمد، مزید برآں پرنس اورپرنسیس کا کم آمدنی والے شیئر ہولڈرز کو زیادہ مالی خدمات فراہم کرنے کے جامع پروگرام دی فرسٹ مائیکرو فنانس بنک، پاکستان میں ایچ بی ایل کی انوسٹمنٹ کی سائینگ سیریمنی میں بھی شرکت فرمائی۔اور آئندہ وقتوں میں گلگت بلتستان میں قائم اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور یہاں کی ضروریات کے مطابق ترقی کے نئے پروگراموں کوترتیب دینے اور جلد دورہ کرنے کی نوید سنائی۔اللہ رب العزت ہم سب کا حامی و مددگار رہے۔آمین۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔