نیٹکو تین کروڑ چھتیس لاکھ روپے سرکارکو واپس کردے، پبلک اکاونٹس کمیٹی کا حکم

نیٹکو تین کروڑ چھتیس لاکھ روپے سرکارکو واپس کردے، پبلک اکاونٹس کمیٹی کا حکم

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ۔ر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ خوراک کو سال 2011-12میں نیٹکو کو بغیر ٹینڈر کے بیس فیصداضافی قیمت پر گندم کی ترسیل کا ٹھیکہ دینے پر نیٹکو سے 3کروڑ 36لاکھ روپے واپس لے کر حکومتی خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈٹ پیرا آنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیٹکو سے 20دنوں کے اندر اضافی رقم وصول کرکے کمیٹی کو رپورٹ کر نے کا بھی کہا ہے ۔ محکمہ خوراک اور محکمہ مالیات کے سال2011-12کے آڈٹ پیروں کے حوالے سے اہم اجلاس کمیٹی کے چیئرمین کیپٹن (ر) سکندر علی کی صدارت میں گزشتہ روز اسمبلی کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران ، ممبر اسمبلی کیپٹن (ر) شفیع خان ممبر اسمبلی کاچو امتیاز حیدر خان ڈی جی آڈٹ ڈیپارٹمنٹ جی بی نصیر الدین سیکریٹری محکمہ خوراک رشید علی اور سیکریٹری مالیات اخوندذادہ یحییٰ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر محکمہ خوراک اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے آڈٹ پیروں کو آڈٹ دیپارٹمنٹ کے ذمہ داروں نے پڑھ کر سنایااور متعلقہ محکموں کے سربراہان نے آڈٹ پیروں کا جواب دیا۔ اس موقع پر آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پیرا اٹھایا گیا کہ 2001سے2011تک سات لاکھ 32ہزار بوری گندم غائب ہے اور سا ل 2011-12 کے دوران 1.786ملین کا گندم سٹاک سے بھی غائب ہے۔ اس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اس پر محکمہ خوراک کے ذمہ داران نے بتایا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق اس دوران صرف 6ہزار بوری گند م کا ریکارڈ نہیں مل رہا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس معاملے پر مزید تفصیلات طلب کرتے ہوئے ایک مہینے میں رپورٹ طلب کی ہے ۔ رپورٹ میںآڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو مطمئن کرانے کی ہدایت کی گئی اگر رپورٹ سے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ مطمئن نہیں ہوا تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی بنا کر اس معاملے کی چھان بین کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔اس موقع پر آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے پیرا اٹھایا کہ محکمہ خوراک نے سال 2001سے 2011تک 29لاکھ کا نمک خریداجس پر ٹرانسپورٹیشن کی مد میں ایک کروڑ 32لاکھ روپے خرچ کئے گئے ۔ اس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی کو مزید تفصیلات پیش کرکے مطمئن کرانے کی ہدایت کی بصورت دیگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ پیرا بھی اٹھایا کہ محکمہ خوراک نے 2001سے2011 تک 21کروڑ 78لاکھ کا بجٹ ضائع کیا جو کہ وفاق کو واپس چلا گیا۔ اس پر محکمہ خوراک کے ذمہ داروں نے جواب دیا کہ انہوں نے اس عرصے کے دوران صرف دو لاکھ 65ہزار روپے بجٹ میں بچایا تھا جو کہ واپس گئے اس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات لے کر آئیں اور کمیٹی کو مطمئن کرائیں۔ اجلاس میں محکمہ فنانس کا صرف ایک آڈٹ پیرا تھا جس پر سیکریٹری فنانس نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو مطمئن کیا اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈٹ پیرے کو سیٹل کرتے ہوئے محکمہ فنانس کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری فنڈز کے منصافانہ تقسیم کو یقینی بنائیں تاکہ ہر ضلع برابر ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ اس موقع پر کمیٹی کے ممبران نے تمام محکمہ کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے ڈیپارمنٹل ا کاؤنٹس کمیٹیوں کا اجلاس جلد از جلد طلب کر کے جو آڈٹ پیرے سیٹل نہ ہوں ان کا ورکنگ پیپر بنا کر صوبائی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے دفتر میں جمع کرائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔