خواتین کے لیے مساجد

خواتین کے لیے مساجد

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گزشتہ پانچ سال سے مجھے مسلسل سفر درپیش آرہے ہیں۔ بالخصوص سیاحتی و تفریحی اور پبلک مقامات پر زیادہ آنا جانا ہوتا ہے ۔ملک بھر سے ان مقامات پر لوگ اپنی فیملز کے ساتھ تشریف لاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں سیاحتی و تفریحی اور پبلک مقامات پر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ، تاہم جس چیز کی شدت سے کمی محسوس کی جارہی ہے وہ ملک بھر کے شاہرات ، تفریحی مقامات، پبلک پلیسس، شاپنگ سنٹرز اور سرکاری و غیرسرکاری محکموں، بڑے بڑے ہوٹلوں اور پارکس میں خواتین کے لیے طہارت خانے اور نماز کی آدائیگی کے مقامات کی عدم موجودگی ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان جیسے دیندار معاشرتی ملک میں بھی خواتین کے ساتھ یہ زیادتی سمجھ سے بالاتر ہے۔ کہ طہارت اور قضائے حاجت جیسی بنیادی ضرورت اور نماز جیسی اہم عبادت کی ادائیگی کے لیے خواتین کو اتنا کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے اور غفلت برتی جاتی ہے۔ ائندہ سطور میں ہم اس کا جائزہ لیں گے کہ اسلام میں اس کے کیا احکام ہیں اور پھر موجودہ دور میں ان تمام مقامات پر طہارت خانے اور نماز پڑھنے کے لیے جگہیں اور مساجد میں خواتین کے لیے الگ جگہ کا ہونا کتنا ضروری ہوگیا ہے۔

عمومی طور پر گزشتہ کئی صدیوں سے خواتین کو مسجد سے دوررکھا گیا ہے تاہم قدیم مفکرین اور فقہاء نے بھی خواتین کو مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔مخصوص شرائط کے ساتھ خواتین مسجد میں نماز کیلئے جا سکتی ہیں، تاہم ان شرائط میں محرم کا ساتھ ہونا  شامل نہیں ہے، چنانچہ بغیر محرم کے مسجد میں  جانے  میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور مرد حضرات اپنی بیویوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت مانگنے پر منع نہیں کر سکتے، بشرطیکہ خواتین  پردہ میں ہوں، اور ان کے جسم سے کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئے جسے اجنبی لوگوں  کیلئے دیکھنا جائز نہ ہو۔

ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ : “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ ”جب تمہاری بیویاں مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دو”۔ اسی طرح کی کئی روایات ملتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ خواتین کوعمومی حالات میں بھی مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت ہےتاہم گھرمیں نماز پڑھنا افضل اور بہتر ہے۔ تاہم امتدادِ زمانہ کی وجہ سے جب حالات بدل گئے اور کچھ مشکلات پیش آئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے مشورہ سے عورتوں کا مردوں کے ساتھ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بند کر دیا۔انتہائی مخصوص حالات کی وجہ سے یہ پابندی عائد کی گئی تھی۔

یہاں یہ ذہن میں رہے کہ خواتین اگر بے پردہ  ہوں اور اس کے جسم کا ایسا حصہ عیاں ہو رہا ہو جو اجنبی نظروں کیلئے حرام ہوں ، یا خوشبو لگائی ہوئی ہوں تو ان حالات میں  ان کیلئے گھر سے باہر نکلنا بھی منع ہے، مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا تو بعد کی بات ہے؛ کیونکہ اس میں فتنے کا خدشہ ہے، اورسورۃ النور میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ” وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ یعنی اور اے نبی ! مومن عورتوں سے فرما دیں کہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کیا کریں ۔ مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبان پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے۔اور اسی طرح بے پردہ گی اور بےحیائی کے حوالے سےدوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:

”يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا”(الأحزاب) یعنی اے نبی اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے فرما دیں کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں، یہ بہت ہی مناسب ہے تاکہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں اذیت نہ پہنچائی جائے، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربانی فرمانے والا ہے ۔ان ایات مبارکہ سے بے پردگی اور فحاشی و عریانی کی ممانعت واضح ہے، اس کا سنجیدگی سے خیال کرنا چاہیے خواتین کو۔

 فقہاء کرام نے بھی شرائط کے ساتھ خواتین کو مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ان شرائط کا خلاصہ یہ ہے کہ” خواتین خود بھی اور دوسرے لوگ بھی فتنے سے محفوظ رہیں۔خواتین کے حاضر ہونے سے کوئی شرعی قباحت  پیدا نہ ہورہی ہو۔ راستے  میں اور جامع مساجد میں مردوں  کے سامنے مت آئیں۔خوشبو مت لگائیں۔مکمل پردے میں اور  اپنی زینت چھپا کر گھر سے باہر نکلیں۔ مساجد میں خواتین کیلئے الگ سے دروازہ ہو، اور وہیں سے خواتین آئیں جائیں،             عورتوں کی صفیں مردوں کے پیچھے ہوں۔مردوں کے بر عکس خواتین کیلئے آخری صف بہتر ہے۔اگر امام نماز میں بھول چوک جائے تو مرد سبحان اللہ کہے، جبکہ عورت ہاتھ  پر ہاتھ مارے۔مسجد سے خواتین مردوں سے قبل  چلی جائیں، اور مرد خواتین کے گھروں تک پہنچ جانے کا انتظار کریں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ جب خواتین نے ان قیود و شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا تو اجازت بھی باقی نہیں رہے گی، اس بنا پر فقہائے اُمت نے، جو درحقیقت حکمائے اُمت ہیں، عورتوں کی مساجد میں حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے، گویا یہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے، مگر کسی سبب کی وجہ سے ممنوع ہوگئی ہے۔اگر حالات و واقعات اور زمانے کی کیفیت اور معاشرت کے طور طریقے بدل جائے تو پھر احکام بھی بدل جاتے ہیں اور تبدیلی اجاتی ہے۔

اگرہم ان تمام دلائل کو ملحوظ رکھتے ہوئے اج کے دور کا جائزہ لیتے ہیں تو پھر ہمارے ہاں تبدیلیاں بہت زیادہ ائی ہیں۔ ان معاشرتی و سماجی تبدیلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حالات وہ نہیں رہے جو کبھی ہوا کرتے تھے۔آج مسلم معاشرے کے طور واطور مکمل بدل گئے ہیں، ایسے میں عزیمت کے بجائے رخصتوں پر بھی عمل ہوگیا تو بہت بڑی بات ہوگی۔اور وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ ان پیش آمدہ مسائل کے لیے نئے احکام و مسائل مرتب کیے جانے چاہیے۔ہزار سال پرانی باتوں پر اڑے رہنا کوئی مناسب نہیں۔شریعت اسلام میں اتنی تنگی بھی نہیں ہے۔

 ہمارے معاشرے میں اب خواتین گھل مل گئی ہیں، عام خواتین کے علاوہ دین دار گھرانوں کی خواتین بھی تفریحی مقامات، شاپنگ سینڑز، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر،  سفر، پارکس اور تجارتی مراکز وغیرہ میں روزانہ کی بنیاد پرچلی جاتی ہیں۔ لوگ فیملز کے ساتھ ملک بھر کا سفر کرتے ہیں، سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں بھی مردوں سے زیادہ خواتین کی تعداد ہوتی ہے۔ پھر ضرورت کی بنا پر لڑکیوں کے مدارس و جامعات بھی بڑی تعداد میں قائم کیے گئے ہیں۔ وفاق المدارس کی حد تک بنین کے مدارس و طلبہ سے بنات کے مدارس و طالبات زیادہ ہیں۔ یونیورسٹیوں  میں بھی خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہیں۔

ایسےمیں ایک افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ان تمام مقامات میں خواتین کے لیے الگ طہارت خانے اور مساجد میں کوئی جگہ نہیں بنائی جاتی ہے۔ اگر محلے کی مسجدوں میں خواتین کے لیے الگ طہارت خانے اور مسجد میں جگہ کا اہتمام نہ بھی کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن ان تمام مقامات پر بننے والی مساجد میں خواتین کے لیے باقاعدہ  الگ جگہ کا ہونا ضروری ہے۔ اور ان کے طہارت خانے بھی مردوں سے الگ ہوں۔ اج کے دور میں یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ عورتوں کو گھروں میں محصور کرکے رکھا جاسکے۔ اب یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ خواتین لمبے سفر میں نماز ادا نہ کریں، یا دن بھر ان پبلک مقامات پر نماز نہ پڑھیں بلکہ شام کو گھر جاکر ایک ساتھ نماز پڑھیں۔ اورقضائے حاجت نہ کریں۔ میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ نماز جیسی بنیادی عبادت میں خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا تمام پبلک مقامات، یونیورسٹیز، تجارتی مراکز، تفریحی پوائٹس اور بالخصوص لمبے راستوں پر بنائی جانے والی مساجد میں خواتین کے لیے مکمل انتظامات ہونی چاہیے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ حکومت کے ساتھ دیندار معاشرہ بھی اتنی اہم ذمہ داری سے کیوں غفلت برت رہا ہے۔ہمارے علمائے کرام اور دیگر طبقوں کو بھی اس حوالے سے عامۃ الناس کی درست رہنمائی کرنی چاہیے۔ میں نے اج تک کسی دانشور، کسی کالم نگار ، کسی ٹی وی اینکر، کسی عالم دین اور کسی مبلغ کو خواتین کے لیے ان بنیادی ضروریات پر بات کرتے نہیں سنا۔اور نہ ہی خواتین نے اپنی اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے تو نکلتی ہے لیکن ایک انتہائی بنیادی ضرورت کے حوالے سے کوئی اقدامات کے لیے اواز نہیں اٹھاتی۔ہمیں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس کے لیے کام کا آغاز کرنا ہوگا۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔