قابل مثال

قابل مثال

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 اے ایم خان چترال

ہونا تو نہیں چاہیے لیکن اِس خطے میں ہوتے رہتے ہیں جسے شاید کوئی ہوش والا انسان حمایت کرتا ہے جو جاوید نقوی کے بقول ہندوستان کے اُترپردیش سے ،پاکستان اور افعانستان تک خواتیں کے ساتھ’’ عزت کے نام‘‘ پہ ہو رہی ہے۔ قبائلی کلچر کا ایک اظہار یہ ہوتا ہے جس کا چند لوگوں کو فائدہ، او رزیادہ نقصان عام لوگوں کوہوتا ہے ۔ اب پاکستان میں خواتین کے حقوق سے منسلک خواتین وحضرات گزشتہ چند مہینوں سے ، اور اِنسانی حقوق کے ِ ادارے یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ عور ت ’’عزت‘‘ نہیں بلکہ سب سے پہلے ’’اِنسان ‘‘ہے، اور مرد کے ساتھ عزت میں برابر کا حصہ دار ہے۔ اب یہ نہ صرف ایشاء اور افریقہ کی مجبوری ہے بلکہ یورپ کے علاوہ امریکہ میں چند ایسے لوگ ہلری کلنٹن کی صدارتی اُمیدوار ہونے پر اِس لئے کتراتے ہیں کہ وہ عور ت ہے اُن کی نظر میں امریکہ کی تاریخ اُس کی اجازت نہیں دیتی ۔ اگر ایسا کہہ دیا جائے تو کیا ہم وہ عرب تاریخ تو نہیں دہرا رہے ہیں ؟۔ یہ مرد کا معاشرہ ہے جسے ہم Male dominated معاشرہ کہتے ہیں۔ خیر لکھنے کا مقاصد یہ نہیں کہ آپ کو یہ اِصطلاح معلوم نہیں بلکہ اُردو میں اُس کا متبادل اِصطلاح مجھے معلوم نہیں۔

حسب روایت پاکستان میں ہر حادثہ اور قتل کے بعد متعلقہ کورٹ میں کیس دائر کی جاتی ہے اور وہ کئی ایک سالوں تک جاری رہتی ہے۔ یہ ہمارے ملک کی مجبوری ہے جس کے کئی ایک وجوہات ہیں، میں اُن کے تفصیل میں نہیں جاتا ۔ ہاں عدالتوں پر بوجھ ہے اُس کو دیکھنا ضروری سمجھتا ہوں جس سے مسلے کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔ جولائی 2004 ء سے ’’جلدی اِنصاف ‘‘ کے فارمولے پر قائم آرمی کورٹس کو بین الاقوامی اور قومی نظام عدل کے بنیاد پر د یکھ کر قانونی ماہریں اِس کے فوراً بعد سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں ، لیکن یہ بھی ایک الگ بحث ہے۔

بہرحال ، پاکستان میں دہشگردی اور اِس سے متعلق قانونی اور دوسرے اقدامات، اور حالیہ ضروریا ت کی تاریخ ، پس منظر ، قانونیت اور اِنصاف کے عمل سے متعلق موید یوسف کی ایڈیٹٹ کتاب Pakistan Counterterrorism challenge میں صفحہ 127 میں بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی کا آرٹیکل میں پاکستان میں عدالتون پر بوجھ کے حوالے سے 2009 کے اعداد و شمارکے حوالے سے صفحہ 141میں وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کے سپریم کورٹ میں 19 ہزار کیسسز تعطل کا شکار ہیں جبکہ امریکہ کے کورٹ میں سال میں 80 کیسسز تعطل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ہائی کورٹس کو ملاکر ایک لاکھ چالیس ہزار کیسسز تعطل کا شکار ہیں ، اور ماتحت عدالتوں میں 1.3 ملین (یعنی دس لاکھ تیس ہزار) کیسسز تعطل کا شکار ہیں۔ اِس حساب سے ہر ایک سول جج کو روزانہ کے حساب سے 100کیسسز آجاتے ہیں، جسے پورا سننا اور حل کرنا کیا اِنصاف کے تقاضے پورا کرسکتا ہے؟ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کہنا اور لکھنا بہت آسان ہے،لیکن حقیقت یہ ہے ۔

اِسٹاف ہاسٹل کی وہ زندگی، جب ہم ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھا کرتے تھے ، اور مختلف پروگرامز دیکھا کرتے تھے، جس میں نجی ٹی وی کا ایک پروگرام کو دیکھنا مجھے اب بھی یا د ہے ۔ یہ پروگرام دیکھ کر کم ازکم ایسا لگتا تھا کہ کل پاکستان میں یہ تو ہونے والا ہے یا وہ ہونے والا ہے، لیکن کچھ نہیں ہورہا تھا۔ اور یہ سلسلہ کئی دِن نہیں بلکہ کئی مہینے بھی جاری رہا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا اپوزیشن لیڈر (استعارہ ) جو بھی کہہ رہا ہے اُس کا بھی یہی حال ہے جو اِس ٹی وی پروگرام میں ہورہا تھا۔ یہ بالکل اُس چرواہے کی مثال ہے جو مذاق ہی مذاق میں گاؤں والوں کو تین بار آواز دی کہ بھیڑیا آیا ، گاؤں کے لوگ بھاگ کر پہنچ گئے ۔ جب چوتھے دِن بھیٹریا آیا ، اور چرواہے نے آواز دی، تو لوگوں نے اُس سچ کو بھی جھوٹ سمجھ لی، اور بھیٹریا جانوروں کا صفایا کردیا، اور اُس چرواہے کی نوکری بھی ختم ہوگئی!۔

ترکی، خلافت عثمانیہ کا مرکز، اور یورپ اور ایشیاء کو ملانے والی ایک اہم تاریخی اہمیت کے حامل ملک ، اپنے زمانے کا ’’یورپ کابیمار آدمی ‘‘ (پہلی دفعہ یہ اِصطلاح ترکی کیلئے استعمال کی گئی جوکہ روس سے مسلسل جنگ کی صورت میں بن چُکی تھی) بھی رہ چُکا ہے، نے ایک دوسری مثال قائم کردی، جس میں عوام کی طاقت کا اندازہ کم ازکم ترقی پذیر ، اور مسلم ممالک کو ہوگئی۔ بہرحال ہمارے ملک کے مارشل لاء کے زیادہ تجربات ہونے کی وجہ سے ہم شاید کہہ سکتے ہیں کہ یہ فوج کی غیرمستخکم کوشش ، اور ترکی کا صدر طیب اردغان کا مضبوط رہنما ہونے کی علامت تھی، جس کی تجدید معروف کالم نگار ایا ز امیر کر دیتا ہے۔ مضبوط اِس لحاظ سے نہیں طیب اردغان زیادہ طاقت کے حامل صدر تھا ،بلکہ عوام کا پسندیدہ صدر تھا۔ اور ترکی میں عوام کی سب سے بڑی طاقت یہ تھی کہ اُن کا یہ شعور اور سیاسی بصیرت کہ فوجی حکومت ملک کیلئے فائدہ مند نہیں ہوتا، نے یہ مثال بنانے کا باعث بنا۔ ترکی کا نظام ، لیڈر، اور لوگ پاکستان کیلئے مثال رہ چُکے ہیں اور رہ بھی سکتے ہیں ۔ فٹ بال کا کھلاڑی اردغان بھی مثال ہوسکتا ہے، جس طرح ایک زمانے میں کمال اتاترک تھا۔ یہ ہی نہیں بلکہ خلافت عثمانیہ کو اب بھی مختلف اسکالرز ایک مثالی ریاست کا نام دیتے ہیں جس کی ایک مثال ہم کولمبیا یونیورسٹی کے عمرانیات کے پروفیسر کرن برکی کے ایک آرٹیکل (2007) ’’اِسلام اور برداشت:عثمانیہ ماڈل کا مطالعہ‘‘ میں مل سکتا ہے، جس میں مصنف ریاست اور اِسلام ، اور غیر مسلموں کیلئے نظام Millet system کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کو ایک ماڈل اِسلامی ریاست کے طور پر دیکھتا ہے۔ بہرحال ترکی کے لوگ اب پاکستان کے لوگوں کیلئے ایک دوسری مثال قائم کر دئیے ہیں کہ جمہوریت کیلئے شعور ی فیصلے کے ساتھ قربانی دینا ضروری ہوتاہے، جو قابل مثال اور شعوری فیصلہ ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔