وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کی نئی کابینہ سے حلف اُٹھا لیا

وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کی نئی کابینہ سے حلف اُٹھا لیا

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( فرمان کریم ) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کی نئی کابینہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے مقامی ہوٹل میں ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے حلف لیا ہے ۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر محمد حنیف ‘ نائب صدر گلاب شاہ ‘ سینئر نائب صدر سلیم الدین ‘ جنرل سیکریٹری صلاح الدین ‘ جوائنٹ سیکریٹری غلام علی اور پریس سیکریٹری کاشف علی نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے کہا کہ چودہ سو سال پہلے جو قر آن پاک میں کہا گیا تھا وہ آج میڈیکل سائنس نے انسانی جسم کے حوالے سے ثابت کردیا ہے نامساعد حالات میں ڈاکٹروں نے کام کیا ہے سروس سٹرکچر دیر سے منظور ہو اہے وہ ادھوراہے ڈاکٹروں نے استقامت سے اپنی زمہ داریاں سرانجام دی ہیں 2009 میں جو حکومت آئی تھی با اختیار تھی مگرسابقہ حکومت نے علاقائی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے پورے پانچ سالوں کو ہنی مون پیریڈ کی طرح گزارا اور اس کی سزا انتخابات میں مل گئی ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ڈاکٹروں کیلئے کوٹے کی سیٹیں 92 ہیں جو کہ طلبہ جی بی کے بجٹ سے ایم بی بی ایس کرتے ہیں اگر پرائیویٹ ایم بی بی ایس کریں تو ایک کروڈ روپے کے اخراجات آتے ہیں ہر سال سو ڈاکٹر فارغ ہوتے ہیں ان میں سے دس ڈاکٹر بھی نہیں آتے ہیں بعض حضرات کا ایک فیشن بنا ہوا ہے کہ پنجاب کو گالیاں دینا ۔ پنجاب اپنے ٹیکس کے پیسے ہمیں دے رہا ہے پنجاب جی بی کو ہر چیز فراہم کر رہا ہے پنجاب میں 70 سیٹیں ہیں اور وہاں ٹیوشن فیس بھی معاف ہے باقی صوبوں میں 15 سیٹیں ہیں یہاں پر جو پارٹیاں سیاست کرتی ہیں وہ اپنے صوبوں میں میڈیکل کی سیٹیں بڑھوا کر دکھائیں ۔ پی پی پی کی حکومت نے ڈاکٹروں کی سٹییں بڑھوانے میں روڑے اٹکائے انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کی سیٹیں ڈبل کرنے کی منظور ی ملی ہے چودہ سے بڑھا کر 34 کر دی گئی ہیں اس حوالے سے چیف منسٹر پنجاب کا خط ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں بجٹ کا جو پیسہ بچ جاتا تھا وہ پیسہ واپس جاتا تھا اور واپس لانے میں چار ماہ لگتے تھے ہم نے اقتدار میں آتے ہی جی بی کنسولڈیٹڈ اکاؤنٹ کھولاجس میں علاقے کا پیسہ جمع ہوتا ہے صوبے کے اکاؤنٹ میں پانچ ارب روپے ہیں جس میں سے ترقیاتی منصوبوں کے لئے ڈیڑھ ارب ریلیز کر دےئے ہیں انہوں نے کہا کہ پورے صوبے کے ہسپتالوں کا آپریشن بجٹ ساڈھے 6کروڈ تھا جبکہ 17 سکیل کے آفیسروں کے الاؤنسز کے لئے 86 کروڈ روپے کا بجٹ تھے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کا آپریشنل بجٹ ساڑھے چھ کروڈ سے بڑھا کر 40 کروڈ روپے کر دیا ہے ۔ ایسوسی ایشن نے جو مطالبات کئے ہیں ان میں سے 90 فیصد مطالبات مریضوں سے متعلق ہیں جو کہ قابل تحسین ہیں انہوں نے کہا کہّ آج کل گالیوں یا آباؤ اجداد کے نام پر ووٹ نہیں دیتے ہیں پر فارمنس پر ووٹ دیتے ہیں ہماری ٹیم اچھی ہے کارکر دگی ہے عوام کا اعتماد ہے ۔ وفاق ہمیں 20 ارب تک پیسے دینا چاہتی ہے ہم دس ارب سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتے ہیں تاریخ میں پہلا سال ہے کہ پہلی بار 13 بلین خرچ کیا ہے اور سالانہ دو بلین کا اضافہ ہوگا ۔ میڈیکل کالج بنائیں گئے سی ایم ایچ کے ساتھ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سول ملٹری کے تعاون سے بہتر کام ہو سکے انہوں نے کہا کہ معذور افراد کو بہتر سہولیات فراہم کر کے عمارت لینا چاہتے تھے مگر سوشل میڈیا پر ڈیڑھ سو لوگوں نے افواہیں اڑائیں جس پر ہم نے فیصلہ کیا ہے ایک سال کے اندر میڈیکل کالج تعمیر کریں گے ۔ جگلوٹ میں صرف چھ ماہ پبلک سکول تعمیر کر لیا ہے جس میں پانچ سو بچوں نے داخلہ لیا ہے ۔ بائیو میڈیکل انجینئر کی تین پوسٹوں کا تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے پہلی بار ڈاکٹروں کے لئے عمر کی حد33 کی بجائے 36 سال کر دی ہے پی ایم اے کی مشاورت سے ڈاکٹروں کے مسائل حل کر رہے ہیں ہیلتھ الاؤنس کے لئے 33 کروڈ کی ضرورت تھی اس سال پیکج کا پچاس فیصد ملے گا اگلے بیس روز تک قانونی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق نتائج ملیں گے ایڈمنسٹریٹو اور سپیشلشٹ کیڈر کو بڑھایا جائے گا سیلابوں میں روڈز اور انفراسٹرکچر میں ڈھائی ارب کا خرچہ ہوا ہے اس دھرتی نے ہمیں جنم دیا ہے اس سے وفا کر نا ہے جو دستیاب وسائل ہیں ان سے استفادہ کریں تو بھی بہت بہتری آ سکتی ہے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے کے اے ڈی پی میں سکیم رکھی گئی ہے ماسٹر پلان کے تحت گلگت ‘ سکردو اور دیامر میں ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا آغا خان ڈو یلپمنٹ کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کر رہے ہیں پلاننگ کا محکمہ انتہائی کمزور ہے ۔ اے کے ڈی این سکولوں ‘ ہسپتال اور سرکاری بلڈنگوں کی ڈرائنگ اور ڈیزائن کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ بے ہوشی کا ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے محدود ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹر کام کر رہے ہیں لہذا جو ڈاکٹر بے ہوشی کا کورس کرنا چاہتے ہیں حکومت فوری بھجوائے گی اور ان کی تنخواہ و سہولیات ڈبل ہو جائیں گی انہوں نے کہا کہ اس صوبے کا 90 فیصد تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے گلگت بلتستان میں 21 فیصد آبادی سرکاری ملازمت کر رہی ہے پی پی پی روزگار فراہم کرنے کا اعلان کرتی ہے ملازمین کو لاڑ کانہ کے بجٹ کی بجائے قومی خزانے کے بجٹ سے تنخواہیں دی جاتی ہیں سینکڑوں لوگ صرف تنخواہوں کے وقت صرف نظر آتے ہیں باقی دفتر نہیں آتے ہیں اگلی دفعہ بائیو میٹرک کے ساتھ ساتھ سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں گے ۔ ڈاکٹرز ایگو کی بجائے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے بائیو میٹرک نظام سے استفادہ کریں ای گورننس کی طرف جانا چاہتے ہیں تمام ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کو کمپیوٹرائز کرنے جارہے ہیں ڈاکٹروں ’ مریضوں اور ادویات کے بارے میں معلومات مل سکیں آٹو میشن کی ابتداء ڈی ایچ کیو اور سٹی ہسپتال سے کی جائے گی ہسپتالوں میں ٹی بریک ختم ہوگا اور ہر ڈاکٹر 2 بجے تک ڈیوٹی دے گا ۔ باجماعت نماز کے لئے ڈاکٹرز دو گھنٹے پہلے نماز پڑھنے جاتے ہیں اس طرح کا طرز عمل ختم ہونا چاہیے ہم نے پی ایم اے سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹر جو پریکٹس کلینکوں میں کرتے ہیں وہ ہسپتالوں میں کریں ہم کلینکوں والی تنخواہ دیں گے ۔

اس موقع پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے صدر ڈاکٹر محمد حنیف خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں ڈاکٹرز محدود وسائل میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ڈاکٹروں کے سروس سٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بعد اصلاحات لانا ہماری زمہ داری ہے حکومت ہسپتالوں میں جدید آلات کی فراہمی یقینی بنائے اور ٹیکنیکل سٹاف کی تعیناتی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔