بدل دے خُو امیر وقت ورنہ؟

 بدل دے خُو امیر وقت ورنہ؟

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ایمان شاہ

پاکستان مسلم لیگ ن نے2012میں پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کے خلاف ’’وائیٹ پیپر‘‘ شائع کیا تھا،33صفحات پر مشتمل اس وائیٹ پیپر میں اس وقت کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو ان33صفحات میں عوام گلگت بلتستان کے سامنے پیش کردیا تھا۔ صحت ، تعلیم، قومی احتساب بیورو، ٹرانسپورٹ، بیڈ گورننس سمیت تقریباً تمام حکومتی امور کا نہ صرف ناقدانہ جائزہ لیا گیا تھا بلکہ اصلاح احوال کیلئے مشورے بھی دے گئے تھے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ ن کی سیاسی قیادت نے2009ء سے 2014ء تک بہترین اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور صوبائی حکومت کی کمزوریوں کو میڈیا سمیت33صفحات پر مشتمل وائیٹ پیپر کے ذریعے گلگت بلتستان کے کونے کونے تک پہنچایا جبکہ مہدی شاہ کی قیادت میں اس وقت کی صوبائی حکومت اس وائیٹ پیپر کا خاطر خواہ جواب دینے سے قاصر رہی جس کے اثرات 8جون2015ء کے انتخابات میں سامنے آئے۔ ان 33صفحات پر مشتمل وائیٹ پیپر میں شامل تمام نکات پر بحث کرنا، طوالت کا باعث بنے گا، قارئین کی دلچسپی کیلئے چند موضوعات پر قلم اٹھارہا ہوں، کوشش ہوگی کہ سادہ الفاظ میں آپ کو سمجھا سکوں کہ 2012ء میں پاکستان مسلم لیگ ن جن معاملات کی بہتری کیلئے کوشاں تھی، حصول اقتدار کے بعد ایک سال میں بہتری لانے میں کامیاب رہی ہے یا نہیں آئیے دیکھتے ہیں۔

آغاز کرتے ہیں،2012ء میں مسلم لیگ ن نیب کے بارے میں کیا سوچ رکھتی تھی اور آج نیب کی کیا صورتحال ہے،2012ء کے وائیٹ پیپر کے صفحہ نمبر26پر نیب گلگت بلتستان کی کارکردگی کو یوں بیان کیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں نیب (NAB)کا ادارہ علامتی اور خانہ پری ہے یہ ادارہ آئینی ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان میں اس کی کارکردگی ’’زیرو ‘‘ ہے اس ادارے کا ریجنل آفس اسلام آباد میں ہے جبکہ گلگت میں موجود عملہ غیر پیشہ وارانہ اور تجربے سے عاری ہے، اس ادارے کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کی اپیلیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اس کے فیصلوں پر عملدر آمد نہیں ہوتا اس ادارے کو موثر بنانے کیلئے گلگت بلتستان اسمبلی کی قانون سازی کے تحت یہاں نیب کا ادارہ قائم کیا جاتا اور اس میں ماہرین کو لایا جاتاجو اس کی مخصوص نوعیت کی تحقیقات کے ذریعے گلگت بلتستان میں احتساب کو ممکن بناتے۔

2012کے وائٹ پیپر میں قانون ساز اسمبلی کے ذریعے قانون سازی کی بات کی گئی تھی اور صوبائی سطح پر نیب کے قیام کا مشورہ دیا گیا تھا، صوبائی نیب کاقیام تو عمل میں نہیں لایا جاسکا، تاہم نیب کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں احتساب کا عمل تیز ہوگیا ہے۔

وائیٹ پیپر میں صفحہ27پر گلگت بلتستان میں انکم ٹیکس کے نفاذ کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جب تک گلگت بلتستان میں گورننس آرڈر اور صوبائی سیٹ اپ نہیں تھا تو ہم نے آئینی مسئلے کو جواز بناکر ’’انکم ٹیکس‘‘ کے نفاذ کو روکا تھا، لیکن پیپلز پارٹی اسے گورننس آرڈرمیں لائی جس کے تحت اگر صوبائی سیٹ اپ بن سکتا ہے تو ٹیکس بھی لگے گا۔ وائیٹ پیپر 2012ء میں گلگت بلتستان کونسل کے قیا م کی بھی دبے الفاظ میں مخالفت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے آزاد کشمیر کونسل کو بغور دیکھا تھا کہ یہ کونسل خود آزاد کشمیر کیلئے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور آج آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کونسل کے خاتمے کے ایجنڈے پر متفق ہوچکی ہیں۔ ہمیں آزاد کشمیر کونسل سے تجربات سیکھنے چاہئے تھے مگر صوبہ بنانے اور اختیارات کی منتقلی کا شوشہ چھوڑ کر گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کی تلوار کونسل کو مسلط کیا گیا ہے جو آج طاقتور ہاتھی بن کر گلگت بلتستان کو روندنے چلا ہے ۔

اگر گلگت بلتستان کونسل2012ء میں سفید ہاتھی تھا تو 2016ء میں اس کی حیثیت کیا ہے اور اس سفید ہاتھی کو دوبارہ مسلط کیوں کیا گیا اس کا جواب پاکستان مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کو ضرور دینا چاہئے۔

وائٹ پیپر کے صفحہ21کا مطالعہ کریں تو پاکستان پیپلز پارٹی کی میڈیا دشمنی کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں میڈیا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ادارے نے گلگت بلتستان کے سیاسی، سماجی، معاشی اور جمہوری عمل کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آج مقامی میڈیا کی جڑیں عوام میں ہیں اور یہ عوامی رائے کی ایک معتبر آواز بن چکی ہے۔

گلگت بلتستان کے نئے نظام کے تحت بننے والی مہدی شاہ سرکار کو یہ موقع میسر آیا تھا کہ وہ اس نومولود نظام اور صوبائی حکومت کے سیٹ اپ کو عوامی تجاویز، سیاسی جماعتوں کی مشاورت، مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین اور میڈیا کے تجربات کے ذریعے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتی، میڈیا عوام کی ہر آواز کو حکومت کی رہنمائی کیلئے ایک مربوط راستہ بناسکتی تھی اور صوبائی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ قومی اور مقامی میڈیا کو نئی حکومت کا مشاورتی اور رہنمائی حاصل کرنے کا بنیادی ادارہ تصور کرتی، مگر صوبائی حکومت نے اپنے چار سالہ دور میں میڈیا سے دوستی اور دشمنی کا کھیل کھیلا اور جس نے مدح سرائی کی اشتہارات سے نوازا اور جس نے تنقید کی اسے اشتہارات کی بندش کی سزاء دی۔

میڈیا کے بارے میں2012ء میں پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں جن جزبات کا اظہار وائیٹ پیپر میں کرتی رہی ہے کم و بیش میڈیا کی صنعت کو آج(2016ء)میں بھی وہی مشکلات درپیش ہیں موجودہ صوبائی حکومت کے دور میں ادائیگیاں نہ ہونے سمیت بعض دیگر مسائل کی وجہ سے بعض اخبارات بند ہوچکے ہیں۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے میڈیا انڈسٹری کو درپیش مشکلات کا جائزہ لینے اور سفارشات مرتب کرنے کیلئے جولائی کے پہلے ہفتے میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں گلگت بلتستان نیوزپیپرز سوسائٹی کی بھی نمائندگی تھی کو15دن میں سفارشات مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں کمیٹی کا صرف ایک اجلاس منعقد ہوا اور نجانے کب یہ کمیٹی سفارشات مرتب کرکے وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی، وزیر اعلیٰ منظوری دیں گے اور عملدرآمد شروع ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف جاری کردہ وائیٹ پیپر 2012ء میں معدنیات کے شعبے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اقدامات کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ معدنیات کا ادارہ گلگت بلتستان کو بڑی آمدنی دینے والا محکمہ بن سکتا تھا، اگر صوبائی حکومت سنجیدہ حکمت عملی اور بنیادی منصوبہ بندی کے ذریعے اس ادارے کو ترقی دیتی، معدنیات جیسے جزانے سے مالا مال گلگت بلتستان میں یہ ادارہ چند ملازمین پر مشتمل ہے جو صرفFormalityکیلئے ہے۔ اس ادارے کے پاس ماہرین ہیں، نہ مشینری اور نہ ہی فنڈز، حالانکہ آج (2012ء میں) وقت کا تقاضاہ تھا کہ اس ادارے کو ترقی دے کر گلگت بلتستان میں ترقیاتی عمل کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا جاتا اور لیبر کے شعبے میں ہنر مند افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جاتے، لیکن صوبائی حکومت نے اپنی پوری توانائیاں محکمہ تعلیم اور پی ڈبلیو ڈی میں ملازمتوں کے فروخت پر ضائع کیں جس کی وجہ سے معدنیات جیسا عوامی منافع بخش ادارہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

منرل ڈیپارٹمنٹ کی بہتری کیلئے ماہرین، مشینری اور مناسب فنڈز کی فراہمی نہ ہونے پر 4سال قبل پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والی صوبائی حکومت کو اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ کتنی جدید مشینری منگوئی گئی ہے، ماہرین کی کتنی ٹیمیں گلگت بلتستان میں معدنیات کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے کام کررہی ہے اور فنڈز کی کیا صورتحال ہے۔

2012ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کیخلاف جاری کردہ ’’وائیٹ پیپر‘‘ کے صفحہ10پر بجلی کی لوڈشیڈنگ پر حکومت وقت (اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی) کو کوسا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں توانائی کا بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں قدرت کی طرف سے عطاء کردہ بہت سے قدرتی وسائل ہیں جن میں گلیشئرز، دریا، ندی ، نالے اور پانی کی فراوانی ہے۔ یہی وہ قدرتی خزانہ ہے جو گلگت بلتستان میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو علاقے کی خوشحالی کا ضامن بناتا ہے، فعال منصوبہ بندی سے گلگت بلتستان میں پاور پروجیکٹس لگاکر مقامی ضروریات سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔بجلی پیدا کرنے کے منصوبے گلگت بلتستان کو ہٹینگ ، کولنگ اور لائیٹنگ (Lighting) کیلئے سستی توانائی فراہم کرسکتے ہیں۔

وائیٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پاور پروجیکٹس کی اہمیت کو جہاں سمجھا نہیں وہاں گلگت بلتستان میں بجلی کی عظیم پیداواری صلاحیت (عظیم پیداواری صلاحیت میری سجھ سے بالاتر ہے) کو مقامی عوام تک پہنچانے کیلئے بھی فائدہ نہ دلاسکے۔ بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ نے گلگت بلتستان کے عوام کو اندھیروں میں جھونک دیا ہے۔

میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہو کہ2012ء کے مقابلے میں2016ء میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کہیں زیادہ ہے اور گرمیوں سے ستائے گلگت کے شہریوں سے پوچھ لیں کہ اس وقت روزانہ6گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ اگست2012ء میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ہر تین دن بعد4گھنٹے پر محیط تھا۔

2012ء کا وائیٹ پیپر33صفحات پر مشتمل ہے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سمیت پارلیمانی ممبران، وزراء اور پارٹی کے سینئر رہنماوں کو اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے چند گھنٹے نکال کر ان33صفحات کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے، آج سے4سال قبل مہدی شاہ اس عہدے پر براجماں تھے ، ان کیخلاف آپ کے وائیٹ پیپر میں جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ تمام درست ہیں، پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ آپ کی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر وائیٹ پیپر جاری کرسکے،2012ء کے وائیٹ پیپر کو اپنی کارکردگی کے ترازو میں ڈالیں، تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور دیگر عوامی مسائل کے حل میں بہتری آئی ہے تو جشن منائیں اور اگر نہیں آئی ہے تو موقع غنیمت جان کر عوامی مسائل کے حل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا آغاز کریں کیوں کہ وقت کم اور مقابلہ سخت والی صورتحال سے آپ کو سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

عوامی شاعر جمشید خان دکھی کے ان اشعار پر غور کیجئے گا۔

بدل دے خُو امیر وقت ورنہ

سبق اقبال کے شاہیں دیں گے

نہ بجلی دے سکے آدھی صدی میں

وہ حاکم کیا ہمیں آئین دیں گے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔