شندور کا مقدمہ(حصہ اول)

شندور کا مقدمہ(حصہ اول)

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ممتاز حسین گوہر (اوپن ٹاک)

مجھے خوشی اس بات کی ہے شندور کا سہہ روزہ میلہ بخیر و عافیت اپنے انجام کو پہنچا۔ اس میلے سے چند روز قبل “شندور میدان” کی ملکیت کے حوالے سے حسب سابق ایک تنازع دوبارہ سامنے آیا تھا دونوں اطراف کے لوگ وقتی طور پر جذباتی بھی ہوئے تھے اور کچھ لکھاری حضرات نے اس جذباتی رویے کو بڑھاوا دینے کے لیے قلم کا خوب استعمال کیا مگر کامیابی نہیں مل سکی۔ ایک وقت میرا دل بھی چاہ رہا تھا کہ شندور کے حوالے سے سامنے آنے والی چند مخصوص تحریروں کا جواب دوں۔ مگر وہ وقت کسی بھی طرح سے مناسب نہیں تھا کسی حد تک عوام جذباتی کیفیت سے گزر رہے تھے۔ شندور میں دونوں علاقوں کی پولو ٹیموں کا آمنا سامنا ہونا تھا اور چھوٹی سی بھی چنگاری خدانخواسطہ آگ لگانے کا موجب بن سکتی اب پولو فیسٹول اختتام پذیر چکا ہے تو یہ بہترین موقع ہے کہ شندور کے حوالے سے چند حقائق سامنے لائے جائیں۔

انتہائی محترم ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے اپنی تحریر “ممتاز حسین گوہر کے لیے” میں دوبارہ چند سوالات اٹھائے ہیں میں مناسب سمجھتا ہوں پہلے ان پر بات کر کے شندور کے بقیہ تاریخی و قانونی پہلوؤں پر بات کی جائے۔ سب سے پہلے20 اپریل 2015 ء میں گلگت بلتستان کی عبوری حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے مابین پشاور میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت(ایم او یو) کو ایک بار پھر بھارتی سازش قرار دیا ہے اور ان کے بقول اس معاہدے کی خبر آل انڈیا ریڈیو، آغاشوانی اور ریڈیو سری نگر سے سب سے پہلی چلی لہٰذا یہ سب بھارت کے ایماء پر کیا گیا۔چترال کے ہی ایک معزز صاحب پہلے ہی اس کا جواب کچھ یوں دے چکے ہیں کہ فیضی صاحب کو دونوں اطراف سے اس اہم میٹنگ کے لیے مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا لہذا یہ تب سے اب تک اسے بھارت کی کارستانی قرار دے کر اپناغصہ ٹھنڈا کر رہے ہیں۔ اس شخص کا جواب اپنی جگہ مگر آپ اس مفاہمتی یادداشت کو نہ صرف بھارت بلکہ سی آئی اے اور موساد کی کارستانی بھی قرار دیں مگر حقائق سے انحراف مسئلے کا حل نہیں. اس یادداشت میں برابری کے تحت پولو کا انعقاد جس میں انتظامی معاملات،مہمانوں کو بٹھانے کے انتظامات، رائیلٹی، فنڈنگ و سپانسرشپ کی برابر تقسیم، دس منٹ کا سپاسنامہ پانچ پانچ منٹس میں تقسیم وغیرہ شامل تھے جس پر دونوں حکومتوں کے باقاعدہ دستخط ہیں. یقیناً یہ لوگ بڑے سمجھ بوجھ والے تھے اور فیصلہ بھی اپنی مٹی سے وفاداری کو دیکھ کر ہی کیا ہوگا۔ مگر اس کے بعد سے اب تک چند عناصر اس یادداشت کو موضوع بحث بنا کر بھی شندور کے دونوں اطراف غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک پائے کا لکھاری ریڈیو میں نشر ہونے والی ایک خبر سننے کے بعد دو علاقوں کے ذمہ داروں کو کیسے “را” کا ایجنٹ قرار دے سکتا ہے؟مجھے امید ہے کہ آپ آیندہ کی تحریروں میں ان بھارتی ایجنٹوں کی تمام تفصیلات سامنے لائیں گے کیوں کہ ہم بھی گلگت بلتستان کی سرزمین پرایسے کسی ضمیر فروش کو دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

فیضی صاحب کا کہنا ہے کہ 2010 میں محترمہ سعدیہ دانش کے ذریعے پہلی بار شندور کے مسئلہ کو اٹھایا گیا تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ شندور اس وقت سے متنازعہ رہا ہے جب شندور سے دو کلومیٹر دور پنجی لشٹ کے مقام پر باؤنڈری لائن کی نشاندہی کے لیے بنائے گئے کتبہ نما مینار کو چوری چھپے اکھاڑ پھینکا گیا اور خاص سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں دراندازی اور تجاوزات کا آغاز کرایا گیا۔

میرا ایک دوست اکثر اوقات ایک سادہ سا محاورہ استعمال کرتا ہے کہ “انگلی کیا پکڑائی پورا ہاتھ ہی پکڑ لیا” یہ محاورہ شندور میں چترال کے ناجائز قبضے اور غیر قانونی تجاوزات کے حوالے سے انتہائی صادق آتا ہے یہ نا جائز قبضہ 1992 میں پنجی لشٹ میں باونڈری لائن کی نشاندہی کے لئے بنائے گئے مینار کو گرا کر نشانات تک مٹانے سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اس قبضے کو مزید تقویت اس وقت ملی جب گلگت بلتستان سکاؤٹس کے وفاق کے ساتھ بحالی و دیگر معاملات چل رہے تھے اس وقت چترال سکاؤٹس کو متبادل کے طور شندور لایا گیا اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چترال سکاؤٹس نے نہ صرف وہاں ایک عارضی ہٹ تعمیر کیا بلکہ وقت کے سات ساتھ غیر قانونی تعمیرات بھی ہوتے رہے۔

جو یہ سمجھتے ہیں کہ شندور متنازعہ ہی نہیں تو انھیں ذرا وزارت سٹیٹس اینڈ فرنٹیئرریجن اور وزارت امور کشمیر و جی بی کا منعقدہ اجلاس جولائی 2003 ء کے میٹنگ منٹس کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ حقیقت سے مذید واقف ہوں۔اس میٹنگ میں کانا ڈویڑن اورSAFRON کے علاوہ دونوں طرف کے انتظامی افسران، معتبران، پاک آرمی کے افیسران اور سروے آف پاکستان کے ذمہ دار بھی شریک ہوئے جس میں دونوں علاقوں کے شندور کے حوالے سے تحفظات کو ترتیب وار درج کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ منٹس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پنجی لشٹ کا شندور کی موجودہ باونڈری لائن ہونے کا ذکر موجود ہے جو شندور جھیل سے ایک کلومیٹر چترال کی جانب واقع ہے۔ اسی میٹنگ میں سات دنوں کے اندر تاریخی دستاویزات کے ذریعے شندور پر ملکیت ثابت کرنے کا بھی دعوی کیا گیا مگر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر گیامسئلہ بدستور اپنی جگہ موجود ہے۔میٹنگ کے ورکنگ پیپر میں بھی پنجی لشٹ کو باونڈری لائن قرار دیتے ہوئے سروے آف پاکستان میپ شیٹ نمبر 12 42D/سال 1984 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

جس کو شندور کے حوالے سے تاریخی شہادتوں کی ضرورت ہے وہ یہ بات ذہن میں رکھے کہ عالمی قوانین کے مطابق باونڈریوں کی تقسیم پانی کے بہاؤ (واٹر شیڈرول)کے مطابق ہوتی ہے اسی حساب سے ہی پنجی لشت کو غذر اور چترال کے درمیان باونڈری لائن قرار دے دی گئی ہے۔

تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ پنجی لشٹ کے مقام پر ہی قدیم زمانے میں غذر اور چترال کے درمیان جنگ لڑی گئی ہے یہ بھی اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پنجی لشت ہی غذر اور چترال کے درمیان باونڈری لائن ہے۔

سٹیٹس اور فرنٹیئرریجن اور وزارت امورکشمیر وجی بی کے منعقدہ اجلاس جولائی 2003 کے ورکنگ پیپر میں لکھا گیا ہے کہ تاریخی شواہد سے واضح ہے کہ غذر کے عوام نے 21 جولائی 1914 ء کو ہونے والے ایک معاہدے کے تحت چترال کے عوام کو گھاس چرائی کے کا اختیار دیا تھا۔

چترال کی طرف سے شندور میں مداخلت اور تجاوزات جب بڑھنے لگے تو ستمبر 2002 ء میں دو ہزار کے قریب لوگوں نے احتجاج ریکارڈ کر وایا۔ انتظامیہ کی بر وقت مداخلت اور مسئلے کے حل کی یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

جب گلگت بلتستان کی تقسیم سے پہلے کی بات کی جائے تو چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان ہونے والی ڈاک کے سامان اسی مقام (پنجی لشٹ) پر ایک دوسروں کے حوالے کیا جاتا تھا۔جب ٹیلی فون لائن کے کھمبے بچھانے کا وقت آیا تو گلگت بلتستان کی طرف سے اسی باونڈری لائن تک بچھائے گئے۔ اور یہ سلسلہ 1960 تک چلتا رہا۔عنایت اللہ فیضی صاحب نے اپنے کتابچے میں پنجی لشٹ کی جگہ لنگر کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح غذر مستوج روڑ کا ٹینڈ ر اور پی ڈبلیو ڈی غذر کی یس سے متعلقہ کاغذات بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

شندور کو کشمیر کا اٹوٹ انگ قرار دینے والے تھوڑا سا ٹائم نکال کر عالمی سطح پر انتہائی معتبر اور سب سے اہم سائٹ گوگل میپ کا بغور جائزہ لے سکتے ہیں۔یہاں سے بھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ یقیناً اس میں بھی یہی کہا جائے گا کہ غذر اور گلگت بلتستان والوں نے گوگل انتظامیہ کو رشوت دی ہے اور یوں پنجی لشٹ کو باونڈری لائن ڈکلئیر کر وایا گیا ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدہ جسے “سینو پاکستان فرنٹیئر اگریمنٹ 1963” کا نام دیا گیا ہے اس معاہدے کے آرٹیکل 2 میں باقاعدہ واٹر شیڈ یعنی پانی کے بہاؤ کے قانون کا ذکر ہے. اس معاہدے اور اس قانون کے حساب سے بھی پنجی لشٹ کے باونڈری لائن ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔

برٹش سروے لائن کے حساب سے ٹیرو ریسٹ ہاؤس سے غذر کی باو نڈری لائن تک کا فاصلہ 21 میل درج ہے یوں اس سے بھی پنجی لشٹ کے باونڈری لائن ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

یہاں یہ بات انتہائی اہم اور اکثر اسی بات کو جواز بناکرسوال اٹھائے جارہے ہیں کہ چترال انتظامیہ اور چترال سکاؤٹس نے شندور پر تجاوزات بنائے، چترال سکاؤٹس ایک عرصے سے اس جگہ موجود ہے اور شندور کے انتظامات میں میں بھی اہم حصہ چترال کا ہی رہا ہے۔گلگت بلتستان والے کہاں سوی ہوئے تھے اچانک یہ مسئلہ کیوں اٹھا رہے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہے یہاں ذکر شدہ چند شواہد کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سارے واقعات اور حقائق بالکل واضح کرتے ہیں کہ غذر کے عوام ہمیشہ وقت کے ساتھ آواز اٹھاتے رہے اور اس مسئلے کو لے کر مختلف فورمز اور اعلی عدالتوں تک بھی گئے ہر جگہ اپنا احتجاج ریکارڈ کر وایا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علاقے میں قبضہ کرنے والوں کو بزور طاقت کیوں نہیں ہٹایا تو یہ ایک ذہنی اختراع یا ایک سوچ ضرور ہو سکتی ہے لیکن غذر کے عوام اور یہاں کی تاریخ شاہد ہے کی ایسے معاملات میں عوام نے کبھی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا ہے بلکہ قانون کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔کچھ دیر کے لیے ہم فرض کرتے ہے کہ غذر کے عوام اٹھ کھڑے ہوتے شندور کی طرف مارچ کرتے وہاں تجاوزات گراتے علاقے کو اپنی تحویل میں لیتے تو کیا چترال کے عوام خاموش بیٹھے؟ یقیناً وہ بھی سامنے آجاتے اور خدا نخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ کیا اس سے آپس کی صدیوں پر محیط انتہائی قریبی برادرانہ و دوستانہ تعلقات ہمیشہ کے لیے ختم نہ ہوتے صرف یہی نہیں بہت کچھ ہوتا اور دونوں علاقے ترقی کی دوڑ میں بھی بہت پیچھے رہ جاتے۔لہذا غذر کی عوام کو اس بات کا کریڈٹ ملنا چاہیے کہ انھوں نے اب تک قانون کی طرف دیکھا ہے انصاف کو پکارتے رہے ہیں لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کی۔

حالات و واقعات اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ اب اس مسئلے کو مزید طول نہیں دینا چاہیے ماضی میں جس طرح اس مسئلے کو جان بوجھ کر طول دیا گیا اور پس پردہ ایسی کوششیں بھی ہوتی رہی ہے کہ دونوں علاقوں کے عوام کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا جائے مگر کامیابی نصیب نہیں ہو سکی۔ وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ ایسی سازشوں کی بوپھر سے آرہی ہے مگر چترال اور غذر کے عوام نے ہمیشہ عملی طور امن پسندی کا ثبوت دیا ہے۔اب بھی یہاں کے دونوں اطراف کے عوام کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جتنا اس مسئلے کو طول دیں گے باہمی تعلقات میں تلخی پیدا ہوتی رہے گی پورا سال نہ سہی شندور فیسٹیول جیسے موقعوں پرہی لوگ اس مسئلہ پر سوالات اٹھا کر مستقبل کے لیے تلخیاں پیدا کر سکتے ہیں۔سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں شندور ہر حوالے سے ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس مسئلے کا بروقت حل چترال گلگت بلتستان اور خود حکومت پاکستان کے انتہائی مفاد میں ہے۔

وکی پیڈیا اور دیگر مستند جگہوں پر یہ واقعہ واضح طور پر درج ہے کہ 1935 ء میں برطانوی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کے مقرر کردہ منتظم ای ایچ کوب نے گاؤں گلاغمولی کے نمبردار نیت قبول حیات کاکاخیل کو یہ ہدایات جاری کئے کہ شندور میں ایک بڑا پولو گراؤنڈ تعمیر کیا جائے۔ اس گراؤنڈ کو مس جنالی کا نام دیا گیا۔کھوار زبان میں مس چاند کو اور جنالی پولوگراونڈ کو کہتے ہیں۔کوب چاند کی روشنی میں پولو کھیلنے کا دلدادہ تھا۔ گراؤنڈ کی تعمیر پر انگریزمنتظم کوب نیت قبول کے کام سے انتہائی متاثر ہوا اور کسی بھی قسم کی فرمائش قبول کرنے کی حامی بھری مگر نمبردار صاحب نے کہا کہ مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے اگر آپ کچھ دینا ہی چاہتے ہیں تو یہاں کے مقامی ندی نالوں میں ٹراؤٹ مچھلی ڈال دیں۔یوں کوب نے انگلینڈ سے مچھلیاں منگوا کر ان ندی نالوں میں ڈال دیا۔اسی واقعے کو حقائق نامہ میں کچھ اور شکل دے کر بیان کیا گیا ہے۔

1947 کی جنگ آزادی میں بھی نمبردار نیت قبول ہی تھے جنھوں نے چترال سکاؤٹس کو پنجی لشٹ کے مقام پر خوش آمدید کہا اور اسی باونڈری سے ہی راشن کو غذر لے جانابھی غذر والوں کی ذمہ داری تھی۔(جاری ہے)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments