ریشن پاؤر ہاؤس کے متاثرین کو دئیے جانے والے سولرپینلز کی تقسیم میں بڑے پیمانے پرگھپلوں کا انکشاف

ریشن پاؤر ہاؤس کے متاثرین کو دئیے جانے والے سولرپینلز کی تقسیم میں بڑے پیمانے پرگھپلوں کا انکشاف

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خصوصی رپورٹ کریم اللہ

 گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں محمکہ پیڈوکی جانب سے ریشن پاؤر ہاؤس کے متاثرین کو سبسیڈی ریٹ پر سولر پینلز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھاان سولرپینلزکی تعداد ۲۷۰۰(ستائیس سو) تھی۔ تقسیم کے لئے تحصِل انتظامیہ نے منتخب ناظمین کی مدد سے لائحہ عمل تیار کیا جس کے مطابق سولر پینلز ان علاقوں میں تقیسم کئے جائیں گے جہاں سرے سے لوکل بجلی گھر موجودہی نہیں۔ اس کے برعکس جن ویلج کونسلوں میں لوکل بجلی گھر موجود ہے یا بجلی گھر زیر تعمیر ہے وہاں کی آبادی کو سولر پینلز مہیا نہیں کئے جائینگے۔ یہ فیصلہ پچھلے سال نومبر یا دسمبر کے مہینے میں بونی میں ہوا۔اے اے سی مستوج صالح کی زیر صدارت ہونے والی اس میٹنگ میں سب ڈویژن مستوج کے مختلف ویلج کونسلوں کے ناظمین، نائب ناظمین، تحصیل ناظم مستوج     تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف، تحصیل نائب ناظم اورممبر تحصیل کونسل وارڈ بونی سردار حکیم موجود تھے۔ اجلاس میں متفقہ طورپر فیصلہ ہوا کہ سولرپینلز کی یہ کھیپ ان ویلج کونسلوں میں نصب کیاجائے گا جہاں روشنی کا کوئی بندوبست نہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں وہاں کوئی بجلی گھر زیر تعمیر ہے۔ اس سلسلے میں ویلج کونسل بونی ون اور ٹوکے حصے کے سولرپینلز میں مکمل کٹوٹی کی گئی ویلج کونسل آوی کے ان علاقوں میں سولر پینلز فراہم کرنے کا فیصلہ کیاگیا جہاں پر لوکل بجلی گھر موجود نہیں ہے، ویلج کونسل مستوج کو صرف  بارہ یا تیرہ، ویلج کونسل چوئنج کے حصے میں بھی کٹوٹی اور ویلج کونسل کہوژ کے دو گاؤں چپاڑی اور کارکن کے حصے میں آنے والی سولروں میں مکمل کٹوتی کا فیصلہ ہوا اسی طرح ویلج کونسل برم اویر،ویلج کونسل شاگرام کے حصے کے سولروں میں بھی کٹوٹی کی گئی جبکہ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی ہوا کہ سولر صرف ریشن پاؤر ہاؤس کے صارفین کو فراہم کیاجائے گا جس کے لئے لائحہ عمل یہ اختیار کیاگیا کہ درخواست گزار کو اپنے درخواست کے ساتھ ریشن پاؤر ہاؤس کا بل بھی لگانا ہوگا۔ میٹنگ میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہر ویلج کونسل کو سولروں کی مد میں مقررہ تعداد دی گئی اور ویلج کونسلوں نے مجوزہ طریقہ کار کی پیروی کرتے ہوئے اپنے حلقوں میں عوام سے درخواستیں طلب کی اور قرعہ اندازی کے بعد انتظامیہ کے دئیے گئے سولروں کی تعداد کی مد میں فی سولر نوہزارروپے بینک میں جمع کئے جس کے لئے بینک نے ڈرافت کی مد میں فی ممبر تین سوروپے لئے یوں ایک سولر کے لئے نو ہزار تین سو روپے جمع کئے گئے، جسے بینک میں جمع ہوئے تقریبا چار ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ پچھلے ماہ سے سب ڈویژن مستوج کے مختلف ویلج کونسلوں میں سولروں کی تقسیم جاری ہے تو اس دوران پتہ چلا کہ تحصیل انتظامیہ اور محکمہ پیڈو کی ملی بھگت سے لوکل گورنمنٹ کے منتخب ویلج ناظمین، تحصیل ناظم ونائب ناظم اورممبران کے ساتھ تحصیل انتظامیہ کے طے شدہ ضوابط کی دھجیاں بکھیر کر سولروں کی زیادہ تعداد ان ویلج کونسلوں میں تقیسم کی گئی جہاں پہلے سے یاتو بجلی گھروں کی سہولت موجودہے یا وہاں حکومت خیبر پختونخواہ کی جانب سے محکمہ پیڈو کے زیر انتظام مختلف این جی اوز کے ذریعے بجلی گھر تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں۔ اس سلسلے میں تحصیل انتظامیہ بالخصوص اے اے سی مستوج صالح آئے روز نیا شوشہ چھوڑ رہے ہیں گزشتہ دنوں منتخب ویلج ناظمین،نائب ناظمین ، ممبران اور تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف کے ساتھ اے اے سی صالح نے ایک میٹنگ منعقد کیا جس سے مخاطب ہوکر اے اے سی صالح کا کہنا تھا کہ مجوزہ طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی میں انتظامیہ کا کوئی ہاتھ نہیں اور یہ کہ محمکہ پیڈو تحصیل وضلع انتظامیہ سے پوچھے بغیر اپنی جانب سے لسٹ تیار کرکے سولر تقسیم کیا ہے جبکہ ان ویلج کونسلوں جہاں پر بجلی سرے سے موجود ہی نہیں ان کے حصے کے سولروں میں کٹوٹی کی گئی اس سلسلے میں جب محکمہ پیڈو سے رابطہ کیاجائے تو وہ اس کا ذمہ دار تحصیل انتظامیہ کو ٹہراتے ہیں محمکہ پیڈو کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بتایا کہ ہمیں انتظامیہ کی جانب سے لسٹ مہیا کیاگیا تھا جس کے مطابق ہم نے سولر نصب کیا۔ جبکہ انتظامیہ اس ساری صورتحال میں خود کو بری الزمہ ٹہرا کرسارا الزام محکمہ پیڈو پر ڈال رہے ہیں اس دوران بجلی کی نعمت سے محروم عوام بے بسی کی تصوریر بنے ہوئے ہیں ساتھ ہی چار ماہ قبل لوگوں سے سولر کی مد میں نوہزار تین سوروپے خرچ وصول کئے گئے تھے جبکہ بونی آنے جانے کا خرچہ اس کے علاوہ ہے اب تحصیل انتظامیہ ویلج ناظمین ،نائب ناظمین  او رممبران سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ کٹوٹی شدہ سولروں کی قرعہ اندازی کرکے جن لوگوں کوسولر نہ نکلے ان کے پیسے واپس کئے جائے  اس سلسلے میں جو لاکھوں روپے بینک ڈرافٹ کی شکل میں بینکوں میں چلے گئے ان کی واپسی کون کرے گا؟

عوامی حلقے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس ہیرا پھیری اور اقراباپروی میں ملوث تحصیل انتظامیہ بالخصوص اے اے سی مستوج صالح اورمحکمہ پیڈو کے خلاف تفتیش کیاجائے اور سولروں کی تقسیم میں ہونے والے گھپلوں میں ملوث تحصیل انتظامیہ اور محکمہ پیڈو کے اہلکاروں کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال پر قانونی کاروئی عمل میں لائی جائے۔۔

جن ویلج کونسلوں میں طے شدہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سولر تقسیم کئے گئے ہیں ان کے نام اور فراہم کئے گئے سولروں کی تقیسم مندرجہ ذیل ہے ۔

۱:ویلج کونسل کہوژ: ویلج کونسل کہوژ کے صرف دو دیہات چپاڑی اور کارگن ریشن پاؤر ہاؤس سے استفادہ کررہے تھے اور جن کی آبادی  تقریبا سوسے ایک سوپچاس گھرانوں پر مشمتل ہے وہاں ۱۲۵( ایک سوپچیس) سولر تقسیم کئے گئے حالانکہ دونوں دیہات میں پہلے ہی سے لوکل بجلی گھر موجود ہیں اور محمکہ پیڈو کی جانب سے چپاڑی کے مقام چمرکھن گول میں تعمیر ہونے والا نیابجلی گھر تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔تحصیل انتظامیہ اور منتخب ناظمین کی جانب سے وضع کردہ طریقہ کار میں ویلج کونسل کہوژ کے حصے کے سولروں میں کٹوٹی کا فیصلہ کیاگیا تھا۔

۲:ویلج کونسل پرکوسپ: وی سی پرکوسب میں ایک سو تیرہ (۱۱۳) سولرر تقسیم کئے گئے حالانکہ اس ویلج کونسل کے احاطے میں پہلے ہی سے پرکوسپ میں دولوکل بجلی گھرموجود ہے جبکہ پرکوسپ میں ایک بجلی گھرکی اپ گریڈیشن پر کام تیزی سے جاری ہے اور عنقریب سینکڑوں کلوواٹ کا بجلی گھر ویلج کونسل پرکوسب میں پایہ تکیمل کو پہنچنے والی ہے۔

ویلج کونسل مستوج: وی سی مستوج میں ایک سوچھ سولر تقیسم ہوئے حالانکہ وی سی مستوج کے احاطے میں پہلے ہی سے تین بجلی گھر کام کررہے ہیں اور اونشوت کے مقام پر نوسو۸۰۰کلوواٹ کا بجلی گھر محکمہ پیڈو کی جانب سے ایس آر ایس پی کے زیر انتظام عنقریب کام شروع کرنے والی ہے۔

۳: ویلج کونسل آوی: وی سی آوی کو ۸۳ سولر دئیے گئے ہیں حالانکہ اسی ویلج کونسل کے احاطے میں میراگرام اورآوی کے مقامات پر پہلے ہی سے بجلی گھر موجود ہے جبکہ میراگرام کے مقام پر ایک اور بجلی گھر کی تعمیر پر کام مکمل ہوچکے ہیں اور عنقریب وہاں سے بجلی کی ترسیل ممکن ہوگی اس کے علاوہ آوی کے مقام  پر بھی ایک او ربجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

۴: ویلج کونسل شاگرام: وی سی شاگرام کو ایک سو باؤن سولر دئیے گئے ہیں حالانکہ اسی ویلج کونسل میں پہلے سے لوکل بجلی گھر موجود ہے اور وہاں ایک اور بجلی گھر زیر تعمیر ہے۔

۵:ویلج کونسل ورکوپ: وی سی ورکوپ کے جن لوگوں کو سولر فراہم کیاگیا ہے وہاں پہلے سے بجلی گھر موجود ہے جبکہ جن علاقوں میں بجلی گھر موجود نہیں انہیں سولر نہیں دیاگیا۔

۶: گولین میں اسی چھیتہر ۷۶ سولر تقسیم کئے گئے ہیں حالانکہ گولین کے لوگ ریشن بجلی گھر کے صارف نہیں تھے جبکہ سولروں کے لئے جمع شدہ درخواستوں میں ریشن پاؤر ہاؤس کابل لگانا لازمی تھا۔

جن ویلج کونسلوں کو ان کے حصے سے محروم کیاگیا ہے ان کے نام اور تفصیل یوں ہے۔

۱: ویلج کونسل پرواک: ویلج کونسل پرواک سات سو پچاس (۷۵۰)گھرانوں پر مشتمل وسیع وعریض خطہ ہے یہ پورا ویلج کونسل ریشن پاؤر ہاؤس سے استفادہ کررہے تھے جبکہ اس کے احاطے میں بجلی گھر تعمیر کرنے کے لئے مناسب جگہ میسر نہیں۔ تحصیل انتظامیہ نے اس ویلج کونسل کے لئے ایک سو تیس ۱۳۰ سولر دینے کا فیصلہ کیاتھا جس کے لئے بارہ لاکھ نوے ہزار ۱۲۰۹۰۰۰ روپے جمع کئے گئے اور جس کے لئے لسٹ تحصیل انتظامیہ نے جاری کئے تھے مطلوبہ رقم جمع کرنے کے بعد رسید تحصیل انتظامیہ نے اپنے پاس رکھ کر ویلج کونسل پرواک کے سیکٹری کو ۱۳۰ افراد کی لسٹ جاری کردی لیکن اب کہا جارہاہے کہ وی سی پرواک کے حصے کے ایک سو تیس سولروں میں کٹوٹی کرکے صرف ۸۱سولر دئیے جارہے ہیں جسے علاقے کے عوام اور ویلج کونسل کے ممبران لینے کے لئے تیار نہیں۔

۲: ویلج کونسل سنوغر: وی سی سنوغر کو طے شدہ معاہدے کے مطابق سو سولر دینے کا فیصلہ کیاگیا اور سو سولروں کی مد میں نو لاکھ تیس ہزار ۹۳۰۰۰۰روپے جمع کئے گئے جبکہ اب اطلاع آئی ہے کہ وی سی سنوغر کو سو کے بجائے ۶۵پینسٹھ سولر دیاجارہاہے یاد رہے وی سی پرواک اور وی سی سنوغر بلمقابل واقع ہے اور دونوں ویلج کونسلوں میں بجلی گھر تعمیر کرنے کے لئے سائٹ دستیاب نہیں۔

۳: ویلج کونسل موژگول: وی سی موژگول بھی بجلی سے محروم علاقہ ہے طے شدہ اصولوں کے تحت اس ویلج کونسل کو ملنے والی سولروں میں بھی کٹوٹی کی گئی ہے ۔

۴: وی سی کوشٹ: بجلی کی نعمت سے محروم ایک اور ویلج کونسل کوشٹ کو دئیے جانے والی سولروں میں بھی کٹوٹی کی گئی حالانکہ اے سی صالح کا تعلق کوشٹ سے ہیں

اسی طرح روشنی سے یکسر محروم کئی اور ویلج کونسل ہیں جنہیں اب تحصیل انتظامیہ اور محکمہ پیڈو دیوار سے لگا کر سولروں سے محروم کیا گیا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔