فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا اور ’’ حرف چند‘‘ کے چند جملے ( دوسری قسط)

فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا اور ’’ حرف چند‘‘ کے چند جملے ( دوسری قسط)

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 فدا علی شاہ غذری

 ٓاُن قا رئین کی یا د دہا نی کے لئے عرض ہے جو اس تحریر ی سلسلے کی پہلی قسط پڑ ھنے سے قا صر رہے ہیں۔ یہ تحریر ڈاکٹر فیضی صاحب اور شہاب الدین وکیل کی تصنیف ’’ شندور اور کھو کُش لنگر‘‘ حقائق نامہ (رسالہ) کے رد عمل میں لکھی جا رہی ہے جو چند اقساط پر مشتمل ہے ۔ مذکورہ رسا لے میں ایک عدالت قائم ہو ئی ہے جس میں ان صاحبان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمہ شندور نمٹاتے ہو ئے اپنے ۲۰ صحفات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سنا یا ہے جو حر فے چند سے شروع ہو کر، KPK کے محکمہ ڈاک کا نرخ نامہ، غذر اور لاسپور کے عما ئدین کے مشترکہ جر گوں کے روداد، نگران حکومت گلگت بلتستان اور مشیر سیا حت خیبر پختو نخواہ حکو مت کے درمیان شندور فیسٹیول پر ہو نے والے معاہدے کا ترجمہ ،ایم او یو کے خلاف پریس کلپنگ اور شندور ، لنگر کے مضا فات اور لاسپور کی چند رنگین تصاویر پر اختتام پذیر ہو تا ہے۔ مزید یہ کہ بینچ نے شندور سے اُتر نے والی دشمن ملک کی ایجنسی کی بس کی تصویر کو بھی فیصلے کا حصہ بنا یا ہے جو اہل چترال کی سہو لت کے لئے گلگت سے مستوج چلا ئی جا تی ہے ۔ اب چلتے ہیں جسٹس فیضی اور ان کے بینچ میٹ جسٹس شہاب الدین کی جا نب سے لگا ئے گئے بے بنیاد، نا گوار اور نفرت آمیز الزا مات کی طرف۔۔

حرفے چند میں فیضی صاحب الزام طراز ہے کہ’’ دشمن ملک کی ایجنسی RAWنے شندور پر ایک کتاب چھپوا ئی ہے جو ایجنسیوں کے ذریعے سری نگر اور دہلی پہنچا ئی گئی جس کا مصنف سر فراز شاہ ہے‘‘۔ سر فراز شاہ ضلع غذر کے سابق ایم ایل اے اور جنرل مشرف کے دست راست رہے ہیں جن کا تعلق گلاغمولی غذر سے ہے ۔ مو صوف کا دفا ع کرنا جا نبداری ہو گی اس لئے ان الزامات کا جواب اُن ہی سے طلب کر نا مجھ سمیت اہل گلگت بلتستان اور با لخوص ضلع غذر کا ہر با شندہ حق رکھتا ہے ۔ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ سرفرازشاہ عنقریب فیضی اور ان کے شریک مصنف کو لیگل نو ٹس بھیج چکے ہیں اور تو ہین عدالت کا مقدمہ بھی درج کر نے والے ہیں۔ مذکورہ متنا زعہ کتاب کے بارے میری معلومات محدود ہیں لیکن میری زندگی کے کم ازکم 15 برس کتاب کے انتظار میں گزر چکے ہیں کیو نکہ عرصہ دارز سے اس کتاب پر کام ہو رہا تھا جو شاید آج بھی جاری ہو۔ حد تو یہ ہے کہ جب ضلع غذر کے عوام نے اپنے احساس محرومی کو ختم کر نے کے لئے سر فراز کو اپنا نما ئندہ منتخب کیا تو جناب نے عوامی پانچ سال بھی اُس کتاب پر لگا دیا لیکن کتاب کا کو ئی آتہ پتہ کسی کو نہیں معلوم لیکن آج فیضی صاحب کے انکشاف سے معلوم ہوا کہ کتاب شائع بھی ہو ئی ہے ۔ میرے علم میںیہ بات کل ہی آگئی ہے کہ کتاب کا آدھا حصہ با لکل شا ئع ہوا ہے جس میں تا ریخی شواہد مو جود تھے جس کی محدود کا پیاں نکا لی گئی تھیں جو جی ایچ کیو سمیت پا کستان کے مر کزی اور متعلقہ اداروں کو دی گئی ہے۔ ا للہ جا نے طبا عت شدہ حصے میں شندور کے با رے کیا کچھ لکھا گیا ہے مجھے اس بارے میں علم نہیں ، اگر حقائق اُس طرح سے پیش کی گئی ہے جو فیضی صاحب کے نفرت نا مے میں درج ہیں تو مجھے یہ کہنے میں کو ئی دقت نہیں کہ ایسے عنا صر کو روکنے کے لئے دو نوں اطراف میں بھر پور کردار ادا ہو نا چا ہئے ۔ لیکن فیضی صاحب کو الزا مات کا جواب دینا ہو گا کہ انہیں جی ایچ کیو ، وزیر اعظم ہاوس ، صدراتی محل اور کا نا ڈویژن سمیت ملک کے اہم اداروں میں راء نظر کیوں آتی ہے؟ یا انہیں کس ایجنسی کے کا رندے نے گلگت سے سری نگر اور سری نگر سے دہلی تک کتاب کے سفر کے بارے میں آگاہ کیا؟ ۔ ڈاکٹر صاحب اس بات سے بھی خوب آگاہ ہیں کہ گلگت بلتستان میں پا کستان آرمی اور ملکی خفیہ ایجنسیاں کتنی فعال ہیں ان کی مو جود گی میں ایف سی این اے کے دائیں بازو میں رہائش پذیر سرفراز شاہ کے گھرRAW کے کارندوں کی نقل و حمل کیا معنی رکھتا ہے؟ اور اُس شخص کا جس کے گھر دشمن ملک کی ایجنسی کی رسا ئی ہو اپنی زندگی کے 35سا ل سر کاری نوکری میں کیسے گزار دی؟ دشمن ایجنسی کے ہاتھوں کھیلنے والے قانون ساز اسمبلی تک کیسے پہنچ گیا تھا؟ فیضی صاحب ان سوالات کے جوابات اب نا گزیر ہو چکے ہیں ۔ بات یہاں رک جا تی تو کتنا اچھا ہو تا لیکن نفرت کے پجا ریوں نے تو گلگت بلتستان کے اُ ن ہیروں کو بھی نہیں بخشا جو نگران کا بینہ کی صورت میں گلگت بلتستان کی سیا سی اُفق پر نمو دارہو ئے تھے۔ اُن میں سے اکثر گلگت بلتستان کے بے داغ اور محب وطن چہرے ہیں ان کو بھی فیضی صاحب نے راء کا آلہ کار بنا نے میں دیر نہیں لگا ئی اور لیبل چسپاں کر دیا ۔ فیضی صاحب!! مالن شل (ما ڑان شل ) میں گز را ہوا وقت اتنا بھی قیمتی نہیں ہوگا کہ آپ فرط جذ بات میں ہمارے بے داغ ہیروں پرکو ئلہ ملنے کی جسارت فر ما ئیں گے؟ شل ( ہٹس )میں بکر یوں کے ساتھ رہنے اور گو بر کے دھو ئیں میں اتنی بھی کیا لذت تھی جس سے آپ کو دوسروں کی عزت اُچھالنے اور ان کی حب الو طنی پر سوال اٹھا نے کا جواز مل گیا؟ کیا ما ڑان شل سے آج بھی اُتنی ہی محبت ہے؟ کبھی اپنے بچو ں کو بھی ان شلوں کی لذت چکنے کا موقع بخشا ہے؟ ان سوا لوں کا جواب بھی ہم آپ سے طلب کر نے کی جسارت کر تے ہیں۔

’’حر فے چند‘‘ کے اسی صحفے پر ہی رقم طرازی کر تے ہو ئے ڈاکٹر صاحب فر ما تے ہیں کہ پی سی پشا ور میں RAW کے کا رندوں نے چند آفیسروں کو اعتماد میں لے کر ایک خفیہ معا ہد ے پر مشیر سیا حت خیبر پختو نخواہ امجد افریدی کو شیشے میں اُتار کر دستخط کرو ائے۔۔ نہ جا نے وہ آفیسر کون تھے جو راء کے نما ئندوں کو جا نتے ہو ئے بھی ان کی با توں میں آ گئے۔ گلگت بلتستان کے وفد میں ایسا کوئی آفیسر نہیں تھا جو راء کے کا رندوں کو جانتے ہو ئے بھی اُن کو بخش سکے اور ان کی مذموم مقا صد کو کامیاب ہو نے دیں ،اگر آپ کا اشارہ اُن کی طرف ہے تو عرض ہے اُس وقت ہمارے دو نوں نو جوان آفیسر ز ظفر وقار تاج اور میر وقار احمد موجود تھے جو وقار کے ساتھ رہتے ہیں اور اپنی ڈیو ٹی وفاداری اور شان کے ساتھ نبھا رہے ہیں، اُن کا راء کیساتھ کو ئی تعلق نہیں اگر آپ کی گہری نظر اور اشارہ خیبر پختو نخواہ کے آفیسرز کی جانب ہے تو آپ اپنی صو با ئی حکو مت کو خبر دار کریں کہ کس طرح کے پی کے کی بیورو کریسی میں راء گھسی ہو ئی ہے۔ فیضی صاحب!! یہ جا نتے ہو ئے بھی کہ اس مفا ہمتی یاداشت پر دستخط کر نے والے راء کے دشمن ہیں کا رندے نہیں، پھر بھی الزام ترا شی سے کام لینا بد دیا نتی اور قومی دشمنی کے مترادف ہے۔ گلگت بلتستان کے نما ئندہ وفد کا سربراہ اور ایم او یو پر دستخط کر نے والی پہلی شخصییت گلگت بلتستان کے ہر دل عزیز سیا ست دان، ادیب وشاعر عنا یت اللہ شما لی تھے ، دوسری شخصیت ملک کے ممتاز ما ہر تعلیم وفرز ند غذر عبدالجہان تھے جس کی زندگی چترال اور غذر کی با سیوں کی محبت اور خد مت میں گزری رہی ہے اور گلگت بلتستان کی تیسری نا مور شخصیت حا جی نعمت اللہ تھے جو گلگت بلتستان میں مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں میں خد مت سر انجام دی ہے اور کو ر کمانڈر پشاور ہدا یت الرحمن کے قریبی عزیز ہیں۔ گلگت بلتستان کے ان نا می گرامی سپوتوں کے صف میں اگر راء نے جگہ بنا لی ہے یا یہ لوگ دشمن ایجنسی کے ساتھ مل چکے ہیں تو فیضی صاحب!! جان لیں کہ اس ملک میں حب الوطن کو ئی نہیں رہے گا۔ چترال کے نا مور اور کہنہ مشق سینئر صحافی محمد شریف شکیب صاحب کے کالم ’’ شندور پر منڈ لانے والے خطرات ‘‘کے جواب میں فیضی صاحب’’ حر فے چند‘‘ کے ہی چند جملے لکھتے ہو ئے مزید فر ما تے ہیں کہ’’ کور کمانڈر ہدا یت الرحمن صاحب اپنے گاوں سے آنے والے مہمانوں کے اعزاز میں اعشا ئیہ ضرور دی مگر اُس معا ہدے میں ان کا ہاتھ نہیں تھا ‘‘ با الفا ظ دیگر خفیہ معا ہدے اور راء کے دست راست وفد کی حقیقت سے کو ر کمانڈر لا علم تھے واہ ! فیضی صاحب واہ !!!آپ کی تحقیق کو داد ینی چا ہئے کہ جس نعمت اللہ کو آپ بگرو ٹی کہتے ہیں وہ اصل میں کو ر کمانڈر کے گھر کا ایک فرد ہے نہ وادی بگروٹ سے اُ ن کا تعلق ہے اور ہی راء سے دوستی۔۔ داد بیداد کر نے والے کو داد گر ہو نا چا ہئے لیکن آپ کی اس بے داد گری کو ہم کیا سمجھے؟۔۔ بس انتہا ئی ادب سے التماس ہے اپنے قا رئین اور قدر دانوں تک درست معلو مات کی فرا ہمی کو یقینی بنا دیجیئے گا۔ آج کی نشست میں اس در خواست کیساتھ آپ کے شریک مصنف وکیل شہاب الدین کے لئے عرض ہے کہ جھوٹ کا پلندہ گا ہے بگا ہے کسی عدا لت کا وقت بر باد کر کے پھر وقت ما نگنے کے لئے کا ر آمد ثابت ہو تا ہو گا لیکن کسی تصنیف میں زندہ رہنے کے لئے سچا ئی کے سوا کچھ نہیں چا ہئے اور جھوٹ کسی کو ہیرو نہیں زیرو ضرور بنا دیتا ہے ۔

(جا ری ہے)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔