سی پیک ۔۔۔۔۔ گلگت بلتستان حکومت کے لئے اچھا موقع

سی پیک ۔۔۔۔۔ گلگت بلتستان حکومت کے لئے اچھا موقع

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :دردانہ شیر

گلگت بلتستان میں مسلم لیگ کی حکومت کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس ایک سال کی مدت حکومت میں مسلم لیگ کے حکمرانوں نے کئی اہم اعلانات بھی کیے ہیں، مگر تاحال ان اعلانات پر عملی اقدامات کو اگر دیکھا جائے تو کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ اس طرح کے کئی اعلانات پی پی پی کے سابق حکمرانوں نے بھی کئے تھے مگر انھوں نے بھی ان اعلانات پر عملدار آمد کروانے کی کوشش نہیں کی تو گلگت بلتستان کے عوام نے ووٹ کے ذرئعے پی پی کے حکمرانوں کو ان کے کئے کا صلہ دیکر اپنا بدلہ نکال دیا۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی نے گلگت بلتستان کی صوبائی اسمبلی کی چوبیس نشستوں میں سے صرف ایک سیٹ پر کامیاب بچا سکی اب موجود ہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کو بھی اگر دیکھا جائے تو موجودہ حکمرانوں کی کارکردگی بھی کوئی بہتر نظر نہیں آتی گلگت بلتستان کو ملک سے ملانے کے لئے کئی شاہراہوں کی تعمیر کا بھی اعلان سامنے آیا جن میں سے ایک شاہراہ گلگت چترال ایکسپریس وے کی منظوری کا بھی تھا جبکہ شونٹر سے مظفر آباد کو ملانے کی بھی باتیں ہونے لگی ہیں، اور سکر دو روڈ کا ذکر مسلم لیگ کی حکومت کی گلگت بلتستان میں برسر اقتدار انے شروع ہے اور تاحال اس اہم منصوبے کی تعمیر کی صرف باتیں ہی ہورہی ہے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس اہم منصوبے کی تعمیر کا آغاز شروع نہیں ہوسکا اس کے علاوہ گلگت چترال ایکسپریس وے اور شونٹر مظفر اباد روڈ کا بھی ذکر اب صرف اخباری خبروں کی حد تک رہ گیا ہے اگر ان اہم منصوبوں کی تعمیر ہو تو حکومت سیاحت کے شعبے سے ہی سا لانہ اربوں روپے کما سکتی ہے

گلگت بلتستان میں اس سال ایک اندازے کے مطابق تین لاکھ سے زائد سیاح آچکے ہیں اور سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ان سیاحوں کو اس علاقے کے حوالے سے اگر کوئی شکایت ہے تو وہ صرف یہاں کی خستہ حال سڑکیں ہیں جن کی مناسب دیکھ بال نہ ہونے کی وجہ سے آج یہ سڑکیں آثار قدیمہ کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ 2010کے سیلاب نے گلگت بلتستان کی زیادہ تر سڑکوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا ابھی ان کی بحالی کاکام مکمل بھی نہیں ہوا تھا تو رہی سہی کسر اکتوبر 2015کے زلزلے اور اس سال اپریل کی بارشوں پوری کردی اس وقت گلگت سکردو روڈ استور روڈ اور غذر روڈ اثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہے اور ان علاقوں کی سڑکوں پر سفر کرنا ایک عزاب سے کم نہیں ان اہم شاہراہوں کی مرمت کے لئے نہ تو سابقہ حکومت نے کوئی توجہ دی اور نہ ہی موجودہ حکومت کے دورمیں ان سڑکوں کی دیکھ بال میں کوئی تبدیلی نظر ارہی ہے اعلانات کا سلسلہ جاری ہے کوئی سکردو روڈ کی منظوری کی بات کرتا ہے توکوئی غذر ایکسپریس وے کی تعمیر کی نوید سناتا ہے کوئی کہہ رہا ہے کہ استورروڈ کی تعمیر کے لئے اتنی رقم منظور ہوچکی ہے مگر ان اہم منصوبوں پر کام کب شروع ہوگا ان منصوبوں کے ٹینڈر کب ہونگے اس کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں گلگت بلتستان میں اہم شاہراہوں کی خستہ حالی سے علاقے کی مشعیت بری طرح متاثر ہورہی ہے حالانکہ اس سال تین لاکھ سے زائد سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا اور ان سیاحوں کو اگر کوئی شکایت تھی تو وہ صرف یہاں کی سڑکوں کی خستہ حالی کی تھی ان سیاحوں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہاں کی شاہراہوں کی بہتری کے اقدامات اٹھائے تو ٹورازم سے ہی گلگت بلتستان کی مشعیت میں بہتری اسکتی ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو ابھی تک گلگت بلتستان کی اہم شاہراہوں کی تعمیر کا آغاز ہی نہیں ہوا۔

گلگت بلتستان کے حکمرانوں کے پاس اس وقت ایک بہترین موقع ہے کہ سی پیک کمیٹی برائے سینٹ کے سینیٹرز اس وقت گلگت بلتستان کے دورے پر ہیں اس کے علاوہ مزید اہم شخصیات کی بھی سی پیک کے حوالے سے گلگت آمد متوقع ہیں اگرموجودہ حکمرانوں نے اہم موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سی پیک میں دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ یہاں کی شاہراہوں کی تعمیر بھی اس میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے تواس سے گلگت بلتستان میں بننے والی ان شاہراوہوں کی تعمیر سے علاقے کی تقدیر بدل سکتی ہے اور گلگت بلتستان کو ملک سے ملانے کے لئے مزید تین شاہراہیں تعمیر ہوسکتی ہیں جن میں سے شونٹر مظفر آباد روڈ گلگت چترال روڈ بابوسر روڈ گلگت سکردو روڈ شامل ہیں اگر ان شاہراہوں کی تعمیر ہوئی تو گلگت بلتستان کا یہ خطہ صرف سیاحت سے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے پاکستان مسلم لیگ گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس یہ ایک بہترین موقع ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاکر(ن) لیگ کی حکومت یہاں کے عوام کا دل جیت سکتی ہے اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا تو اگلے آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی حثییت بھی پی پی سے بہتر نہیں ہوگی چونکہ عوام اب عملی کام دیکھناچاہتے ہیں اگر مسلم لیگ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو اگلے الیکشن میں بھی ان کی کامیابی یقینی ہے اگر سیاسی اعلان سے گزارہ چلایا گیا تو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author