شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟

شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:دردانہ شیر

گلگت بلتستان کے سابق چیف سیکرٹری سکندر سلطان راجہ جس وقت جی بی کے چیف سیکرٹری تھے اس دوران انھوں نے غذر کا تفصیلی دورہ کیا اور گاہکوچ میں آکر انھوں نے گلگت غذر روڈ کی خستہ حالی کا خصو صی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ غذر سیاحوں کے لئے جنت ہے اگر یہاں کی سڑکیں بہتر ہو تو سالانہ ہزاروں سیاح اس خوبصورت علاقے کا رخ کرینگے اس دوران انھوں نے گاہکوچ سے گلگت کی حدودتک سڑک کی توسعیی منصوبے کے لئے 20کروڑ روپے رقم کا اعلان کیا یہ کوئی سیاسی اعلان نہیں تھا بلکہ گلگت پہنچ کر ہی انھوں نے بیس کروڑ روپے ریلیز

کرنے کے احکامات جاری کئے اور اس شاہراہ کی توسعی منصوبے پر کام شروع ہوا اور گزشتہ دو سالوں سے جس رفتار سے اس اہم شاہراہ کی تعمیر ہورہاہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس اہم منصوبے کو مکمل ہونے میں اٹھ سے دس سال لگ سکتے ہیں اور اس وقت غذر میں پاور سیکٹر پر بھی تین اہم منصوبوں کی تعمیر جس انداز میں ہورہی ہے اگر کام کی یہ رفتار رہی تو ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں شاید مقررہ معیاد سے بھی دوگناہ وقت لگ سکے اس حوالے سے ان محکمہ جات کے اعلی حکام بھی خاموش ہیں اج غذر میں جہاں پر لوگوں کو امدورفت کے سلسلے میں مشکلات ہیں تو وہاں پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کابھی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے صحت کے حوالے سے اس ضلع کو جتنا حکومت نے نظر انداز کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں سرجری کی کروڑوں کی مشینری موجود ہے مگر سرجن نہیں ڈاکٹروں کی کمی ہے مزید ڈاکٹر بھیجنے کی بجائے جو ہیں ان کا بھی تبادلہ کیا جاتا ہے ایجوکیشن میں یہ حالت ہے کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اپنے ہاتون کالج کے دورے میں غذر کے لئے قراقرم یونیورسٹی کمپس کا اعلان کیا تھا مگریہ اعلان بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا جس سے عوام میں یہ تاثرملتاہے کہ موجودہ حکومت نے ضلع غذر کو دوسرے ڈسٹرکٹ کی نسبت ترقیاتی عمل میں پیچھے دھکیل دیا ہے اور عوام یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاید غذر سے حالیہ الیکشن میں غذر سے (ن) لیگ کا کوئی امیدوار کی نہ جیت جانے کی سزا یہاں کے باسیوں کو ملتی ہو بہرحال الیکشن میں ہار جیت ہوتی ہے گلگت بلتستان کے 2015میں ہونے والے صوبائی الیکشن میں غذر سے جہاں مسلم لیگ (ن) نے تینوں نشستوں میں اگر ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکی ہے تو وہاں پر پی پی کا بھی کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوا ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو تینوں حلقوں میں کامیاب ہونے والے تینوں امیدواروں کے بعد اگر سب سے زیادہ ووٹ لینے والی کوئی پارٹی ہے تو وہ مسلم لیگ (ن) ہے ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہاں ان حلقوں کے ووٹروں کی تعداد بھی لکھنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ قارئین کو پتہ چل سکے کہ 2015کے الیکشن میں (ن) لیگ کو ضلع سے کتنے ووٹ پڑے تھے جی بی ایل ا ے 19غذر ون سے مسلم لیگ کے امیدوار راجہ شکیل احمد ایڈوکیٹ نے 5158ووٹ لیکر دوسری پوزیشن میں رہے اس طرح حلقہ جی بی ایل اے 20غذر2سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سلطان مدد نے 3362ووٹ لیکر یہ امیدوار بھی دوسرے نمبر پر آئے اسی طرح حلقہ جی بی ایل اے 21غذر 3سے مسلم لیگ کے امیدوار غلام محمد نے 5602ووٹ حاصل کرکے (ن) لیگ کا یہ امیدوار بھی دوسر ے نمبر پر آئے اس سے قارئین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ (ن) لیگ کو غذر سے اچھے خاصے ووٹ ملے ہیں اگر کچھ ووٹ زیادہ لیکر کوئی اور امیدوار جیت گیا ہے تو اس میں ووٹروں کا کوئی قصور نہیں ہے مگر گزشتہ پونے دو سالوں کے دوران (ن) لیگ نے نہ صرف اس علاقے کو نظر انداز کیا ہوا ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو آج غذر میں(ن) لیگ کے بعض اہم عہدیدار ان زیر زمین چلے گئے ہیں اسکی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ غذر کو نہ تو خواتین کی نشستوں پر نمائندگی ملی نہ ٹیکنوکریٹ میں کسی کو نمائندہ لیا گیا اور نہ ہی کونسل میں اس ضلع کو نمائندگی دینے کی زحمت گوارہ کی گئی جس کی وجہ سے آج پارٹی کے لئے سب سے زیادہ قربانی دینے والا اور مشرف دور میں بطور ممبر قانون ساز اسمبلی ہر قسم کی لالچ کے باوجود پارٹی کا پرچم بلندکرنے والااور اپنی مدد آپ کے تحت سلپی میں پل کی تعمیر کرکے اس کا نام نواز شریف پل رکھنے والا پارٹی کا قمیتی اثاثہ سلطان مدد(فرزند غذر) کو جس انداز میں نظر انداز کیا گیاآج یہ شخص گوشہ نشینی کی زندگی گزرانے پر مجبور ہیں اور ان کی اس مایوسی کو دیکھکر پارٹی کو ووٹ دینے والے کارکن بھی خوش نظر نہیں آتے ایسے میں گلگت بلتستان میں مسلم لیگ کے اعلی عہدوں پر تعنیات لوگوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ غذر میں (ن) لیگ کو کس طرح مضبوط بنایا جاسکتا ہے اس کے لئے اب بھی وقت ہے کہ غذر کو فوری طور پر کابینہ میں نمائندگی دی جائے اور جن افراد نے پارٹی کے لئے قربانی دی ہے ان کو ان کی قربانیوں کا صلہ دیا جائے۔تاکہ علاقے کے سینئر رہنماوں میں پائی جانے والی مایوسی ختم ہوسکے اگر پارٹی نے اس ضلع کی طرف توجہ نہیں دی تو آنے والے چند سالوں میں غذر سے مسلم لیگ (ن) کو سخت سیاسی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے شاید اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کو غذر میں پارٹی کو منظم کرنے میں بہت زیادہ وقت در کار ہو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author