فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا اورجا نبدار مورخوں کا گو لہ (چو تھی قسط)

فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا اورجا نبدار مورخوں کا گو لہ (چو تھی قسط)

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بر ملا اظہار: فدا علی شاہ غذریؔ

مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر فیضی کو بھی حسن دانی جیسے مورخ کی کتاب سے لاکھ اختلافات کے با و جود مستفید ہو نے کا موقع مل چکا ہو گا اُن کی تحقیق کے مطابق’’ گلگت کے آخری بدھ مت حکمران شری بدد کے بعد کیانی خاندان کا پہلا حکمران آذر جمشید تھا ( نا م کے ساتھ مو رخین کا اختلاف بھی مو جود ہے )جو شری بدد کو ان کی بیٹی کے ساتھ مل کر قتل کر نے کے بعد بنا تھا اور بعد میں اُن دونوں کی شادی ہوئی تھی۔ اُن کی نسل سے حکو مت آگے بڑ ھتی رہی اور یہ خاندان بعد میں خا ندان طرہ خان سے مشہور ہوا ۔ خاندان طرہ خان میں باپ کے بعد بیٹا حکمران رہا اور یہ سلسلہ سو ملک اول تک آیا ہے اور بعد از بھی جاری رہا ہے۔ راجہ سو ملک اول جو گلگت کا پہلا حکمران تھا جس نے با ضا بطہ اسلام قبول کیا۔ اسلام میں داخل ہو تے ہی اُن کی مقبو لیت میں بے پناہ اضا فہ ہوا اور اُن کی حکومت کی عملداری نورستان تک پھیل گئی تھی۔ شہزادہ سو ملک کی حکو مت گلگت کی تاریخ میں یاد گار حکو مت رہی ہے امن و امان کے ساتھ ایک خو شحال رعا یا کی تشکیل سو ملک کا بڑاکا رنا مہ تھا،( یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اُن کی زیر حکومت میں ہنزہ نگر،پونیال اشکو من ، یاسین، کوہ غذروچترال کی آخری سر حد

نو رستان، اُدھر پا میر تک کا علاقہ، چلاس، داریل تا نگیر اور استور شامل تھے) ۔اس کے بعداُن کا فر زندشاہ ملک (جس نے ریاست یا سین کو اپنے رضا عی بھا ئی ایالت خان کو دینے کے لئے سوملک کو درخواست کی تھی) اُن کے بعد اُن کا بیٹا دینگ ملک، ان کے بعد اُس کا بیٹا خسرو ،اُن کے فر زند حیدر اور یوں یہ سلسلہ طر طرہ خان اور اُن کے دو بیٹوں طرہ خان اور شاہ رئیس خان تک پہنچتا ہے۔ طرہ خان کے حصے میں اُن کی باب کی ریاست گلگت تا نو رستان تک ایک بہت بڑا علاقہ تھا ۔شاہ رئیس خان طرہ خان کا سو تیلابھا ئی تھا جو اپنے بھا ئی کی کامیاب حکمرا نی او ر مقبو لیت سے نالاں ہو کر بد خشان چلے گئے تھے جہاں تاج الدین مغل ( بد خشان کا والی ) نے ان کو اپنی دا مادی میں لیا تھا اور جب یہ واپس آگئے تو یہ زمانہ 1241 تا 1250ء کے درمیان کا تھا۔ شاہ ریئس خان اپنے سسر تا ج الدین مغل کو مشورہ دیا کہ اُن کے بھا ئی طرہ خان پر حملہ کر کے چترال تا گلگت ایک اعظیم سلطنت کا با گ دوڈ سنبھا ل لیتے ہیں جو کافی سوچ بچار کے بعد پسند کیا گیا اور اُنہوں نے( تاج الدین مغل) بڑی لشکر کیساتھ چترال پر حملہ آور ہو ئے اور تمام علا قے فتح کر تے کر تے کوہ غذر ، یاسین پو نیال اشکو من سے ہو تے ہو ئے گلگت پہنچ گئے۔ جب خبروالئی گلگت (طرہ خان) تک پہنچ گئی تو وہ مقا بلے کی بجا ئے تاج الدین مغل اور اپنے سو تیلے بھا ئی شاہ رئیس خان کی استقبال کے لئے شاہی دبدبے کیساتھ نمودار ہوئے جو کہ ان کی دانشمندی تھی اگر مقابلہ ہو تا تو شاید انہیں نا کا می ہو تی۔ قصہ مختصر راجہ طرہ خان نے چترال کی حکومت شاہ رئیس خان کو دینے پر رضا مند ہو ئے لیکن طاقت اور مر کز اپنے پاس رکھا جو کہ تا ج الدین مغل نے منظور کئے اور اپنے داماد شا ہ رئیس خان سے طرہ خان کی وفا داری اور فر مانبر داری کا حلف لے کر اپنی فوج ظفر موج کیساتھ چترال روانہ ہو ئے۔ یہاں صرف یاد رکھنے کے لئے عرض ہے کہ تا ج الدین مغل ہی وہ شخص تھے جنہوں نے چترال تا ہنزہ اسما عیلی مذہب کی بنیاد رکھی۔ طرہ خان کے بعد گلگت میں اُن کے بیٹے راجہ سو ملک دوئم کی حکو مت آئی جو کہ انتہا ئی زیرک اور ہو نہار را جہ تھے۔ چترال میں بدستور اُ نکے چچا شاہ رئیس خا ن کی حکو مت تھی تاج الدین مغل دوسری بار بھی گلگت پر حملہ آور ہو ئے لیکن سو ملک نے ان کو کا میاب ہو نے نہیں دی وہ شکست سے دو چار ہو کر واپس اپنے داماد شا ہ رئیس خان کے پاس پہنچ گئے اور ان کو نصیحت کی کہ اُن کا بھتجا کتنا زیرک اور بہادر ہے اور کبھی ٹکر نہ لینے اور عمر بھر مر کز کے فر ما نبر دار رہ کر حکو مت کر نے کی ہدا یت کیساتھ بد خشان چلے گئے۔

فیضی صا حب !! میں اقرار کر تا ہوں کہ رو فیسر حسن دانی کی تخلیق ’’ شاہ رئیس خان کی تا ریخ گلگت‘‘ پڑ ھ کر چند سطروں کے خلاصے سے بھی چترال اور گلگت بلتستان کی تا ریخ کا حق ادا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ تا ریخی بحث یہاں ختم ہو سکتی ہے کیو نکہ یہ لمبی کہا نی ہے جو 643ء سے شروع ہو کر 1561ء تک جا تی ہے اور آگے1895ء تک اس کے اثرات ہیں جو آپ بخو بی جا نتے ہیں۔ اتنی لمبی کہا نی کو اس کالم کے دامن میں سمیٹنا ممکن نہیں ہے لیکن اس پیرا گراف سے قا رئین پر یہ بات واضح ہو نے میں مدد ملے گی کہ تاریخ میں چترال گلگت کا حصہ رہا ہے اور چترال پر حکمران رہنے والے خاندان طرہ خان اور بعد میں شا ہ ریئس خان اصل میں سر زمین گلگت سے آ ئے تھے۔یہ خاندان طرہ خان ہی تھا جو اتنے علا قے پر اپنی بڑی سلطنت قائم کر نے میں کا میاب ہو ا تھا۔1561ء کو اس تا ریخی سفر کو ایک نئی جہت تب ملی جب شاہ رئیس خان نے اپنے شاہ صاحب ( شاہ بر یا ولی) کے غلام سنگ علی کو چترال کی عنان حکو مت دی اور خود وادی چترال میں ہمیشہ کے لئے دفن ہو ئے۔ شاہ صاحب کے غلام سنگ علی چترال کا حکمران بن گیا لیکن محسن کشی میں کو ئی کسر با قی نہیں چھو ڑا۔ انہوں نے خاندان طرہ خان کا نا م و نشان مٹا نے کے لئے دن رات ایک کئے اور والئی گلگت پر کئی دفعہ حملہ آور ہو ا۔ یہ شاہ بر یا ولی اور ان کے دو غلام سنگ علی اور ابوالحسن کہاں سے آئے تھے یہ ایک لمبی کہا نی ہے جو قارئین کیساتھ کسی اور نشست میں شیئر کی جا ئیگی۔ اُس وقت سلطنت گلگت ( گلگت تا شندور ) کا حکمران خاندان طرہ خان کا آخری چشم و چراغ راجہ صا حبِ قران تھے۔ سنگ علی کی اولاد بعد میں شا ہ کٹور اور خوش وخت بن کر خاندان طرہ خان کی مہر با نیوں کا جواب راجہ حیدر علی خان جو ان کے گھر مہمان بن کر ٹھہرے تھے ،قتل کی صورت میں ادا کر دیئے۔

میں یہاں اپنے تمام قا رئین سے جوشندور کے اس پا ر اور اُس پار مو جود ہیں، عرض کروں کہ تا ریخ کے ان گو شوں میں جھا نک کر ان تلخ پہلوں کو سا منے لا نے کا مقصد نفرت کا فروغ

ہر گز نہیں بلکہ نفرت کی پجا ریوں سے ا ظہارِبیزاری ہے کیو نکہ فیضی صا حب کے حقائق نا مے میں درج تا ریخ کے دریچوں سے بھی جھوٹ اور نفرت کی تعفن کے آرہی ہے۔ مو صوف ایک معمولی ایشو کو بڑا بنا کرکتاب کی صورت دینے کے ساتھ ساتھ تا ریخ کھنگا لتے ہو ئے چترال کے مو قف کے دفاع میں اوٹ پٹانگ سی با توں اور شواہدکے ذریعے نو جوان نسل کو گمراہ کر نے لگے ہیں ۔یہ بات کون نہیں جا نتا کہ چینیوں اور ایرا نیوں کے دور حکومت میں بھی چترال اور گلگت ایک رہے ہیں کبھی دردستان تو کبھی بلو رستان ، 22پشتوں تک خاندان طرہ خان کی حکو مت چترال تا نو رستان رہی ہے اُس وقت بھی یہ علا قہ ایک اکا ئی رہا ہے پھر یہ کہنا کہ’’ سو ملک کے زما نے میں ماڑان شل بن گئے تھے کو ئی اعتراض نہیں رہا اور اب دعوی کہاں سے آگیاہے‘‘ سمجھ سے با لا تر ہے کہ کس 1210ء میں اور کس سو ملک کے زما نے میں شل بنے ؟؟ کیونکہ سوملک اول اور سوملک دوئم کا دور حکو مت 1210ء کبھی رہا ہی نہیں ہے۔

فیضی صاحب خود اپنی ضرو ریات قلم و قرطاس محمد غفران کی تا یخ چترال سے سطر وں کی صورت میں نہ صرف لے آتے ہیں بلکہ ان پر شواہد کے مہر بھی ثابت فر ما تے ہیں ، خود فر نگیوں کے سفر نا موں سے جملے اور حقائق دونوں لے آتے ہیں اور اُن کو سچا ئی کا منبہ بھی سمجھ لیتے ہیں دوسری طرف وہ معترض ہے کہ سر فراز شاہ کی کتاب میں کر نل ڈیو رنڈ کے سفر نا مے سے نام نہاد با تیں لکھی گئی ہے۔۔ جناب کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟ فیضی صاحب یہ تلخ حقیقت ہے کہ سفر ناموں اور افسا نوں کی بنیاد پر آپ جیسے مو رخوں نے کیا کیا ظلم نہیں ڈھا ئے لیکن کبھی آپ کے قلم نے ان کو نام نہاد نہیں لکھا ؟ افسانوں کی بنیاد پر عقیدے تا عقیدے جبرو غضب کے نشانہ بن گئے کبھی آپ کے قلم کی جرات ہو ئی کہ اُن کو نام نہاد لکھ سکے؟

فیضی صاحب !! آپ کی تحقیق ، مشا ہدہ اور علم و دانش درست ہیں کہ گلگت پر تا ریخ کا برا وقت1 184 ء سے شروع ہوا جب راجہ سکندر کو گو ہر آمان نے قتل کیا اور راجہ کر یم خان سکھوں اور ڈوگرہ فوج سے مدد لینے لاہور چلے گئے اور یہاں سے ہماری شنا خت گلگت بلتستان سے کٹ کر ڈو گروں کی بو ٹوں سے ہو تے ہو ئے کشمیر کے ساتھ جڑ گئی اور پھر ان کی لاشوں اور کھو پڑیوں کے مینار لگا نے کے بعد بھی واپس نہیں آئی ۔۔فیضی صاحب !! ہم پر آج بھی برا وقت گزر رہا ہے، ہماری شناخت ختم ہو چکی ہے، ہماری سر حدیں ہماری نہیں رہی ہیں ، شنا کی کو ہستان کو ہم سے چھین لیا گیا، چترال کو ہم سے الگ کر کے کے پی کے میں شامل کر لیا گیا، 25سومر بع میل سے زیادہ سر حدی علاقہ چین کو تحفے میں دیا گیا ، آج بھی ہما ری

جا ئیدادیں محفوظ نہیں رہی ہیں اور سب سے بڑی بات جانیں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ 2 ملین لو گوں کے گلگت بلتستان کو آج بھی ہزاروں قربا نیوں کے با و جود بھی اپنی درست تا ریخ لکھوا نے کے لئے کو ئی غیر جا نب دار مورخ دستیاب نہیں ہے ۔۔ تا ریخ کو جھٹلا نے کے لئے تا ریخ گھاڑی گئی لیکن کبھی اور کہیں بھی د اد بیداد نہیں اُٹھا؟ فیضی صاحب مان لیں کہ ایسے متنا زعہ اور جا نبدار مورخوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہے جو نہ ا س گو لے سے مشابہت رکھتی ہے اور نہ ہی اُس گو لے سے ایک ایسا گو لہ،، جہاں حقائق جھوٹ اور جھوٹ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔

( جا ری ہے )

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔