عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی

عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( فرمان کریم سے) اکنامک کوریڈور میں مناسب حصہ، ٹیکسز نفاذ کے فیصلے کی واپس لینے، گندم کوٹہ میں کٹوتی ختم کرنے سمیت دیگر مطالبات پورے نہ ہونے کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر گلگت شہر میں کامیاب شٹر ڈاون ہڑتال کی گئی ۔ پیر کے روز شہر میں تمام کاروبارہ مراکزاور ہوٹلز مکمل طور پر بند رہے۔ تاہم شہر میں پہیہ چلتا رہا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس نے گلگت بلتستان کے ساتھ سی پیک منصوبے میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کا دائرہ کار بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ وفاقی حکومت نے ہمارے جائزمطالبات پر غور نہیں کیا تو ہڑتال اور احتجاج کا دائرہ کار پورے گلگت بلتستان میں بڑھا دیں گے اور حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اُنہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام پر ترقی کے دروازے بند کر کے انہیں غلامی کی زنجیریں پہنارہا ہے۔ سی پیک منصوبے سے متاثر گلگت بلتستان کے عوام کو اُن کے حقوق سے محروم رکھ کر دیگرصوبوں کو فائدہ دینا یہاں کے عوام کے ساتھ نا انصافی ہے۔گلگت بلتستان کے پہاڈ،دریا اور سرزمین پاکستانی لیکن عوام کو حکومت پاکستانی نہیں سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران ہمیں پاکستانی بنانا نہیں چاہتے۔ ان کو صرف گلگت بلتستان کی سر زمین سے محبت ہے ہمارے آباؤ اجداد نے اس خطے کو آزاد کر کے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط طور پر الحاق کیا تھا آج پاکستان کے حکمران ہمارے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ پاکستان ہمارا وطن ہے اور اس کی حفاظت کیلئے ہم نے اپنا تن من دھن سب قربان کیا ہے۔ ہمیں دیگر صوبوں کی طرح حقوق دیے جائیں۔ حقوق دئیے بغیر ہم ٹیکس دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ حکومت اپنی ناانصافیاں بند کرے اور گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات کو فوری طور پ حل کرے۔ بصورت دیگر عوامی ایکشن کمیٹی بھر پور احتجاج کریگی۔ دینور میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بازار مکمل طور پر بند رہے اور شاہراہ قراقرم پر دھرنا بھی دیا گیا۔

سکردو سے رجب علی قمر کی رپورٹ: عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی کال پر بلتستان کے چاروں اضلاع میں بھی مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کئی گئی ضلع سکردو میں تمام تجارتی مراکز ،مارکیٹیں ،دکانیں بند رہی شہر میں ٹریفک کا نظام بھی معمول سے کم رہی کھرمنگ ،گانچھے اور شگر میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کیا گیا بلتستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز سکردو شہر میں کاروباری زندگی معطل ہونے کی وجہ سے دیگر اضلاع سے سکردو آنے والے ٹرانسپورٹروں نے بھی ہڑتال کیا جس کے باعث شہر میں آنے والے مسافر وں اور مریضوں کو سخت مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا شہر کے متعدد میڈیکل سٹورز کے بندش سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا بھی پڑا انجمن تاجران سکردو کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام چارٹر ز آف ڈیمانڈ کی مکمل حمایت کی گئی اور چارو ں اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کیا گیا سکردو میں صبح سے ہی کاروبار زندگی مفلوج رہی تاہم نجی تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انجمن تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی جانب سے دئیے گئے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے  ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

اس موقعے پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان تحریک انصاف ،مجلس وحدت المسلمین ،اسلامی تحریک ،عوامی تحریک منہاج القرآن ،شہید بھٹو گروپ اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات گلگت بلتستان کے عوام کی دلوں کی آواز ہے۔ وفاق کی جانب سے ودہولڈنگ ٹیکس بلاجواز ہے پہلے ہمیں آئینی حقوق ،اقتصادی راہداری میں میں واضع حصہ ،سینٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کی نمائندگی اور دیگر تمام حقوق دئیے جائیں پھر ہم ٹیکس دینے کے لئے تیار ہیں۔

آل پارٹیز کے رہنماؤں نے کہا کہ جب تک گلگت بلتستان کو مکمل طور پر قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جائے گا احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوگا اور وفاقی و صوبائی حکومت کو سخت عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔