گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل اور بے روز گاری

گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل اور بے روز گاری

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اشرف حسین شگری جیالوجسٹ

قدرت نے گلگت بلتستان کو دوسرے تمام قدرتی وسائل کے ساتھ معد نی وسائل سے بھی نوازا گیا ہے۔جن کو اگر ہم درجہ بندی کریں تو ہمارے پاس صنعتی معدن( Industrial Mineral) ،کچ دھات(Mettalic Ore)، عمارتی پتھر(Building Stone)، اور سب سے اہم جواہرات(Gemstones)، کے کافی ذخائر ملتے ہیں۔یہاں پر ہم کچھ معدن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں۔

“Gemstones” سے مراد وہ مواد یا معدن ہوتے ہیں،جو خوبصورتی، ذیوارات، اور سجاوٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ارضیات(Geology) میں جیم سٹون کے لیےٗ دو اصلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔

۱۔ :Adornmentاس میں وہ جیم اسٹون شامل ہیں، جو کہ سجاوٹ کے طور پر گھروں اور دفاتر میں استعمال ہوتے ہیں، یعنی مختلف تعمراتی کاموں میں بطور سجاوٹ استعمال ہوتے ہیں۔

۲۔ :Ornamentاس کے معنی زیور کے ہیں۔ایسے قیمتی پتھر جو کہ ذاتی خوبصورتی کے لیے ذیوارات میں استعمال ہوتے ہیں۔

دنیا میں اسوقت سب سے زیادہ قیمتی سمجھا جانے والے جیم اسٹون مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ہیرا (Diamond) ۲۔ یاقوت (Garnet) ۳۔ زمرد(Emerlad) ۴۔نیلم (Sapphire) ۵۔ لعل (Ruby)

پاکستان میں جیم اسٹون کے ذخائر زیادہ تر گلگت بلتستان اور خیبر پخو نخوہ صوبے میں پائے جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں جیم اسٹون کا بزنس تقریبااسی ارب ڈالر سالانہ ہوتا ہے۔جبکہ پاکستان میں صرف دو لاکھ ڈالر سالانہ تک ہو تا ہے۔پاکستان میں جواہرات کے ذخائر سب سے پہلے1958 ؁ؑ ؑ ؑ ؁ ء میں دریافت ہوئے۔لیکن صحیح معنوں میں پاکستان کے معدنیات کے ذخائر کا پتہ1979 ؁ؑ ؁ ء میں Gemstones Corporation of Pakistan کے ایک سروئے میں چلا۔1983-84 ؁ ء کے عرصے کے دوران پاکستان کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بہت سی نئی اقسام دریافت ہوئی۔ان علاقوں میں گلگت بلتستان ، دیر، چترال، ملاکنڈ، سوات وغیرہ شامل ہیں۔

اسکے بعد سے آج تک کسی بھی ادارے کی طرف سے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں کوئی تفصیلی سروئے نہیں کیا گیا۔جسکی وجہ سے ذخائر کے صحیح تخمینہ لگانہ مشکل ہے۔اس سلسلے میں حکومت گلگت بلتستان کو چاہئے کہ اس شعبے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچے اور محکمہ معدنیات (Mineral Department) کو فعال کریں۔ اور باقاعدہ طور پر حکومتی سرپرستی میں ان ذخائر کیلئے از سرنو ارضیاتی(Geological)سروئے کیا جائے۔اور ان قدرتی وسائل کو کارآمد بنا کر گلگت بلتستان کی معا شیات (Economics) کو مضبوط بنایا جائے۔اور اربوں ڈالر ز کی آمدنی ہو سکتی ہیں۔جس سے نہ صرف ہم ترقی کریں گے بلکہ ہم اس قابل ہو جائنگے کہ ہم دوسرے صوبوں کی مدد کرسکے۔

لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے اس شعبہ سے منسلک بہت سے ہونہار ، اور پڑھے لکھے نوجوان بیروزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اللہ تعالٰی نے ہم پر اتنا بڑھا کرم کرنے کے باوجود ہم ان کے نعمت کو نکالنے سے قاصر ہیں۔ ہم اس (Article)کے توسط سے وفاقی وزیرپٹرولیم و قدرتی وسائل، اور حکومت گلگت بلتستان سے استداء کرتے ہیں کی وہ اس معاملے میں ٹھوس اقدامات کریں۔

قدرت نے ہمیں جن معدنیات سے نوازہ ہیں ان کا تھوڑاسا ذکر کرتے ہیں۔

1۔کچ دھات(Mettalic Ore)

کچ دھات کے کچھ ذخائر اس طرح ہیں۔

سونا(Gold): یہ دریاوں کے کناروں پر پائے جاتے ہیں۔

تانبہ(Copper): باشہ، خپلو،گلگت، یاسین، دانیور میں پائے جاتے ہیں۔

ؒ ؒ Lead: چھوربت میں ملتے ہیں،

اس کے علاوہ Platinum,Zinc, Cobalt, Nickel, Bismuth, Molybdinum, Arsenic, Antimony, ، اور Iron Ore ، کے ذخائر بھی ملتے ہیں۔

2۔جواہرات(Gemstons)

جیم اسٹون کے ذخائر کچھ اس طرح سے پائے جاتے ہیں۔

زمرد(Emerald) : داسو نید، ہنزہ نگر،

نیلم(Sapphire) : ہنزہ

ایکوامیرین(Aquamarine) : الچوڑی، طورمک، شنگوس، سبر، ستک، ہراموش۔

پکھراج(Topaz) : سبر، تسر۔

چکنی مٹی(Clay) : مہدی آباد، مچلو، گلگت، ہنزہ۔

یاقوت(Garnet) : ڈوکو، داسونید، نیاسولو، ہنزہ۔

یورینیم(Uranium) :

بلتستان اور گلگت کے ہر وادی میں پائے جاتے ہیں۔

یشب(Jasper) : داسو، گلشن کبیر۔

سنگ مر مر(Marble) : شگر، اشکومن،ہنزہ۔

فلورائٹ(Flurite) : ستک، شنگوس۔

ابرق(Mica) :شگر، گلاپور، گلشن کبیر، غورسے،، استور، بونجی، ہراموش۔

زہر ومہرہ(Serpentinite) :وادی شگر

Asbestos : مچلو، شنگوس، داسو۔

چونے کا پتھر(Limestone) :چھوربٹ، باشہ، برالدو۔

Alum : ستک۔

گندھک(Sulphur): تنجوس، سدپارہ، کواردو، غاسنگ، چھوترون۔

اس کے علاوہ لعل(Ruby) ، Spnial, Tourmaline, Peridot, Moonstone, Zircon, Paragasite, Amethyst, Morganite, Talc,Kohl ، اور سلاجیت کے ذخائر بھی پائے جاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گلگت بلتستان اس شعبہ کے بارے میں سنجیدہ ہو جائے،بلکہ اس سلسلے میں فورا کام شروع کیا جائے اور ملکی و وغیرملکی کمپنیوں کوسرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی جائے، اس سے نہ صرف ہمارا علاقہ ترقی کی طرف گامزن ہوگا،بلکہ کافی حد تک بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔اس بارے میں انشاء اللہ پھر کبھی تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔