انجمن تاجرانِ ہنزہ کی کال پر ضلع میں بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف مکمل شٹر ڈاون ہڑتال، مارکیٹیں بند رہی

انجمن تاجرانِ ہنزہ کی کال پر ضلع میں بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف مکمل شٹر ڈاون ہڑتال، مارکیٹیں بند رہی

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین ) انجمن تاجران ہنزہ کی کال پر ہنزہ میں بدترین بجلی کی لو ڈ شیڈنگ کے خلاف گز شتہ روزدن بھر کامیاب شٹر ڈاون ہٹرتال ہوا۔ علی آباد اور دیگر علاقوں میں نہ صر ف اشیاء خوردنی کی دکانیں بلکہ میڈیکل سٹور ، ہوٹلز اور تندور بھی مکمل طور پر بند رہے جس کی وجہ سے ہنزہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنارہا۔ یاد رہے کہ ہنزہ میں گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے عوام بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔

بزنس ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے حکومت گلگت بلتستان سے قراداد کے زریعے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنزہ میں بجلی کی ترسیل میں محکمہ پاورکے ا علیٰ حکام کی جانب سے مجرمانہ غفلت کی و جہ سے علاقے کو بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بعض عناصر ہنزہ کو اندھیروں میں رکھنے کی سازش کررہے ہیں، اور علاقے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہےہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورے GBمیں بجلی کے نئے پروجیکٹس کے لئے فنڈز 2015-16کے ADP میں رکھے گئے ہیں لیکن تمام تر مشکلات سے آگاہی کے باوجود ہنزہ کے عوام کو مزید تاریکی میں دھکیلتے ہوئے کوئی صوبائی بجٹ میں کوئی Project Reflect نہ ہو نا عوام ہنزہ کے زخموں پر نمک پاشی اور علاقے کے ساتھ شدید زیادتی کے مترادرف ہے۔

قرداد میں مزید کہا گیا ہے کہ 1994میں قائم شدہ پاور ہاوس کے جنریٹر کو تبدیل کرنے کا ٹینڈر 5سال پہلے ہو نے کے باوجودجنریٹر کو تبدیل نہ کرنا حیران کن بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی دور میں دیگر اضلاع کے لئے ٹینڈر ہونی والی مشینوں کو خرید کر نصب کردیا گیا ہے اور عوام کی بجلی کی ترسیل جاری ہے لیکن ہنزہ کے عوام کو ہر معاملے میں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود مشین کا نصب نہ ہونا علاقے کے ساتھ مذاق اور ترقی کے خلاف ایک گھناونی سازش ہے۔

انہوں نے قرارداد کے ذریعے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ندگی کی بنیادی ضرورت بجلی ہے عوام کو اس سے محروم رکھنے کی مجرمانہ پالیسی کے خلاف عوامی جدوجہد جاری رہے گی اور مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف شڑڈاون ہٹرتال کیا جائے گا، بلکہ پہیہ جام ہڑتال کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سٹرکوں پر نکالنے پر مجبور ہو جائینگے۔

یاد رہے کہ ہنزہ میں ہائیڈیل پاور مشین گزشتہ دو ماہ سے خراب ہونے کی وجہ سے ضلعے کی آبادی کا ستر فیصہ مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ مشین کو مرمت کے نام پر اسلام آباد لے جانے کے بعد حسن آباد میں نصب کردیا گیا، لیکن دو گھنٹے کے بعد ہی مشین نے جواب دے دیا۔

 محکمہ برقیات ضلع ہنزہ کے مطابق مشین میں فنی خرابی پیدا ہونے کی وجہ اسے کھولا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر بجلی کی دوبارہ ترسیل کو یقینی بنائی جائے گی جس کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی واقعہ ہو گی ۔ محکمہ برقیات کے ترجمان نے مزید کہا کہ مرکزی ہنزہ کے عوام کو اس وقت 5میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے مگر محکمہ کے پاس تھر مل جنریٹر کو استعمال میں لانے کے بعد بھی زیادہ سے زیادہ دو میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی جو علاقے کی ضروریات کے لئے ناکافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھرمل جنریٹر سے عوام کو بجلی رات کو صرف چار گھنٹوں کے لئے دیا جاتا ہے جس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں تاہم لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے حسن آباد دو میگاواٹ اور مایون 500کلوواٹ بجلی کے منصوبوں پر کام مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ دونوں منصوبے بروقت مکمل ہو سکے ۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہنزہ میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے محکمہبرقیات بے بس ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔