فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہوئی ما لا اورمحبت کی پو شاک (پا نچویں قسط)

فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہوئی ما لا اورمحبت کی پو شاک (پا نچویں قسط)

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بر ملا اظہار: فدا علی شاہ غذریؔ

ما ضی سے پیو ستہ رہ کر فیضی صاحب نے معا ہدہ امرتسر کا ذکر چھیڑا ہے اور گلگت بلتستان کے برُے وقت کو پہلی بارا پنی کسی تحر یر میں ذکر فر ما یا ہے لیکن اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ

معا ہدہ امرتسر 1843ء کو نہیں بلکہ16ما رچ 1846ء کو ہوا تھا اور اسی معا ہدے میں مہا راجہ گلاب سنگھ نے کشمیر سمیت دریائے سندھ کے مشرقی حصے اور دریائے راوی کے مغر بی حصے East India Company (انگریزوں(سے 75لاکھ ناناک شا ہی رو پے ( سکہ رائج الوقت سکھ ریاست) میں خر ید کرڈوگرہ راج کا آغاز کیا تھا۔ اس معا ہدے کے بعد ڈوگرہ راج کا سفر گلگت بلتستان کی جا نب رُخ کیا لیکن براہ راست ہم پر حکو مت نہ کر سکی ایک طویل جدو جہد اور خون ریزی کے بعد ’’لو ہا لو ہے کو کا ٹتا ہے ‘‘ کے مصداق مقا می راجوں کے ذریعے اپنی عمل داری جاری رکھنے میں کا میاب ہوا اور 1889ء کو مہا راجہ نے اس خطے کو انگر یزوں کو 60سالوں کے لئے لیز پر د ے دیا یہاں سے گلگت ایجنسی کی کہا نی شروع ہو تی ہے ۔ انگریز کس مقصد کے لئے یہاں پہنچ گئے یہ ایک طویل داستان ہے جو وقت ما نگتا ہے۔ تا ریخ کی تُشنگی میری بھی با قی رہ گئی ہے اور یقیناًقا رئین کی بھی ،کیو نکہ چند جملوں اور سطروں سے تا ریخ کی گھتی اُلجھتی ہے کبھی سلجھتی نہیں ہے۔ میں ان سطروں کے ساتھ پھر حقا ئق نا مے کی طرف جا نے لگا ہوں جہاں فیضی صاحب کے الفاظ تیر بن کر ہما ری تا ریخی ، لسا نی، ثقا فتی اور جغرا فیائی رشتوں کو ایک خون آشام شام کی نوید سنا رہے ہیں۔

فیضی صاحب! قارئین کسی بھی لکھا ری کے لئے بیش بہا سر ما یے کی حثیت رکھتے ہیں اور اصل مو ضوعِ تحریر بھی قا رئین ہی ہو تے ہیں اس لئے لکھا ری کو ہرلفظ کے چناو میں محتاط ہو نے کیساتھ کیساتھ حق گو ئی کے دامن کو جھوٹ کے چھینٹوں سے بچا نا پڑتا ہے۔ مجھے حیرت ہو تی ہے کہ حقا ئق نا مے کا زبان و بیان اتنا تلخ کیوں ہے ؟مجھے معلوم ہے کہ آپ کے قدر دانوں اور شاگردوں کو بھی یہ سوال چھبتا ہوگا کہ آدب کا با آدب اُستاد بے ادبی کی زبان میں کس دشمن سے مخا طب ہیں ؟ مگر اس تلخی کے با و جود بھی مجھے آپ سے عقیدت بھی ہے اور محبت بھی۔ لیکن سوال اور جواب ہمار ا حق ہے اُمید ہے دریا دلی کا مظا ہر ہ کر کے برا نہیں منائیں گے۔۔ آپ کی ذات گرا می اور شہا ب الدین چترال سکاوٹس کی شندور پر تعینا تی کو عوام چترال کی جیت اور غذر کی شکست سمجھتے ہیں، چترال سکاوٹس کی محبت کا گن گا تے ہو ئے دا ستان طراز ہیں کہ’’ شندور کی فلک بوس وادیوں کے 8مقا مات پر’’ دل دل جان جان پا کستان‘‘ کے نعروں کے بل بورڈز کی وجہ سے گلگت کے وزراء اور بھارت پر یشان ہیں اور یہی نعرے بھارت کے دل و دما غ میں اُسترے اور ہتھو ڑے بر ساتے ہیں اور پر پیگنڈے کا حصہ بننے والے ( یعنی شندور پر دعوے دار) پڑوسی ملک کو خوش کر تے ہیں‘‘آگے ضبط تحر یر ہے کہ’’ اگر 1984ء میں سیاچن پر چترال سکا وٹس تعینات ہو تی تو بھارت سیاچن پر قدم نہیں رکھ سکتا، یہ بات بھارت بھی جا نتا ہے اور گلگت بلتستان کے لوگ بھی ‘‘ فیضی صاحب!! ہم کیوں نہیں جا نتے ہیں چترال سکاوٹس کی قر با نیوں کی لمبی داستانوں سے ہمارا بچہ بچہ واقف ہے کہ چترال سکاوٹس کے جوان پا کستان آرمی کے اُن نصف درجن پیرا ملٹری سکواڈز’’ نیم فو جی دستوں‘‘ میں شمار ہیں جو عوام پا کستان کی حفاظت اپنی جا نوں کے نذرانے سے کر تے ہیں۔ آپ کو اُن سے پیار کا بھر پور حق حاصل ہے لیکن یہ حق نہیں کہ آپ شندور کے اِس طرف رہنے والے محب وطن لوگوں، پا کستان کی دفاع میں شہادت نوش کر نے والے شہیدوں ، اُن کے لوا حقین اور این ایل آئی رجمنٹ کے جوانوں کی تو ہین اور تضہیک کر یں گے۔ 1947-48ء کی جنگ سے لے کر کا رگل تک کتنے جوانوں نے اس مٹی کے لئے جان دے کر زند ہ جاوید اں ہو چکے ہیں ؟ آپ گن کر تھک جا ئیں گے اوروادی شہدا ء میں آبدی نیند سو نے والے وطن کے سر فرو شوں کی آخری آرام گاہوں پر سبز ہلا لی پر چم کولہرا تے دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہو جا ئیں گی۔ یہ لہر اتے جھنڈے راء کی رغبت نے نہیں بلکہ مادر وطن کی محبت نے پا ئی ہے، یوں کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ یہ سبز ہلالی پرچم یہاں محبت کی پو شاک ہے جو ہر شہید کی روح پہن کر گھو متی ہے۔۔یہاں پرچم اور ماں کی آنچل میں فرق بہت کم ہے ماں کی آنچل میں زندہ آولادوں کو تسکین ملتی ہے جبکہ مادر وطن اپنی گود میں ابدی نیند سو نے والے سر فروشوں کی ا رواح کو اس پرچم کی ٹھنڈی ہوا سے جگا ئے رکھتی ہے ۔۔فیضی صاحب!! شندور کے اس طرف کی دنیا ہی الگ ہے ، یہاں صورتحال ہی عجیب ہے، جیتی جا گتی ما ئیں بچوں کو شہادت کی دعا دیتے ہیں اور لخت جگر کی شہادت کو فخر سمجھ کر منوں مٹی تلے سُلا دیتی ہیں ۔ کئی گھروں میں دو دو شہدا ء کی یادیں ہیں لیکن اس کے باوجود بھی شہادت کی تشنہ لبی با قی رہتی ہے ۔ پتہ نہیں کیوں آپ کو یہ خطہ لازوال قر با نیوں کے بعد بھی راء کی عملداری میں نظر آتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے لا کھوں محرو میوں اور شنا خت کی بحرانوں کے باوجود بھی اپنا جینا مر نا سبز ہلا لی پر چم کے ساتھ منسلک کر چکے ہیں۔ ہم پر راء کی خو شنودی اور بھارت کی وفا داری کا الزام لگا نے والے جب اپنی آنکھوں سے نفرت کی عینک اُتا ریں گے تو یہاں وطن کی محبت اور جذبہ شہادت دو نوں تا حدنظر نظر آئیں گی۔

اے وطن تجھ پر ہر نثار لہو

وہ لہو، وہ اعظیم لہو۔۔

جو تجھ پر پڑے دشمن کے قدموں کے

نشان دھوتے دھوتے ، بہہ گیا ہے

اور بہہ کر دریا پار لہو

وہ جواب کا طلبگار لہو

اے وطن! تجھ پر نثار لہو

وہ تم سے ہم گفتار لہو

اے ارض چمن خون تجھے ہم نے دیا تھا

یہ کون ہیں خو شبو کے جو حق دار بنے ہیں

فیضی صاحب !! شندور پر چترال سکاوٹس کی تعیناتی عسکری معاملات کا حصہ ہے اس میں نہ ہی ہماری مر ضی شا مل ہے اور نہ ہی آپ کا زور چلتا ہے۔ یہ نیم فو جی دستہ شندور پر اُس وقت سے تعینات ہے جب گلگت سکاوٹس ابھی بحال نہیں ہوئی تھی ،گلگت سکاوٹس جو کسی زما نے میں اسکیمو ، ٹا ئیگر اور آئی بیکس فورس پر مشتمل تھی ، نے گرانقدر قر با نیاں دی ہے اورہماری آزادی میں گلگت سکا وٹس کے اُن 98شہدا کا لہو شا مل ہے جو1947-48 ء میں گلگت کی سر زمین پر قر بان ہو ئے، گلگت سکا وٹس کی دو بارہ بحالی 2002ء میں ممکن ہو ئی اگر گلگت کی سیا سی قیادت کی طرف سے اب یہ مطا لبہ کیا جا رہا ہے تو اس میں قبا حت کا کو نسا پہلو ہے؟

شندور پر چترال سکاوٹس تعینات ہو سکتی ہے تو پھر گلگت سکاوٹس کی تعیناتی کے مطا لبے سے شہاب الدین کے دل و دماغ میں’’ ہتھوڑے اور اُسترے ‘‘ کیوں بر ستے ہیں ؟کاش کہ معلوم ہو جاتا۔ شندور متنا زعہ ہو سکتا ہے لیکن چترال سکاوٹس اور گلگت سکاوٹس نہیں یہ دونوں ہمارے قابل فخر اور سر بکف سر فرو شوں کے دستے اور گلد ستے ہیں۔ جب 27 اگست 2011ء کی صبح ملک دشمن اور راء کے اصل ا یجنٹ (طالبان) نورستان سے چترال سکاوٹس کے زیر نگرا نی میر کھا نی کے علا قے، اُرسون کے با رڈر اور ارندو کے چیک پو سٹوں ( کاو تی اور لنگوربٹ) اور دیگرپر حملہ کرکے چترال سکاوٹس کے 16 اور با رڈر پو لیس کے 10جوانوں کو شہید اور چند کو قیدی بنا کر لے گئے تھے تو تب اُن چیک پوسٹوں پر تھری این ایل آئی تعینات کر دی گئی تھی جنہوں نے نو رستان اور کو نر کی وادیوں ( جوطالبان کی جنت سمجھی جا تی ہیں ) کو کھنڈر بنا کر رکھ دی تھی جو ارسون بارڈر سے ہو تے ہو ئے درو ش گاوءں تک پہنچ چکے تھے ، اُس وقت’’ اُسترے اور ہتھوڑے‘‘ کس کے دل ودماغ پر بر سے تھے فیضی صاحب تو خوب جا نتے ہیں لیکن شہاب الدین ہو سکتا ہے بے خبر بھی ہو ۔

فیضی صاحب! آپ کی تصنیف ’’شندور اور کھو کُش لنگر‘‘ بھی سفر نا موں اور نر خ نا موں پرانحصار کر تی ہے ، نفرت کو پروان چڑ ھا تی ہے اور سینہ در سینہ چلنے والی کہانیوں پر بھی بحث کر تی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان سب شواہد اور با توں کی تر دید بھی کر تی ہے کیونکہ متعدد جگہوں پر آپ نے خود سفر نا موں اور لو گوں کی سُنا ئی ہو ئی کہا نیوں کی صدا قت پر یقین نہ رکھنے کا اظہار فر ما چکے ہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ کہا نی کسی کا غذ پر لکھی گئی ہو یا کسی سے سن کر سنا ئی جا ئے؟ ایک اعظیم لکھا ری اور سکالر کی اتنی دو غلی پا لیسی؟ اس کتا ب کو اہل چترال نے یکسر مسترد کر یا ہے اور تو اور فیضی صاحب کی اپنی برادری ( بو ژو کے )بھی اُن سے سخت نا لاں ہے ۔ قصے اور کہا نیوں کو تا ریخ ڈال کر ریکارڈ بنا نے کا رواج نہ جا نے چترال میں کب سے شروع ہو ا ہے لیکن غذر میں اس کا فقدان رہاہے جس کا اظہار کر نل ڈیو رنڈ نے اپنی تصنیف The Making of Frontier میں ان الفاظ کیساتھ بیان کیا ہے کہ ’’ یہاں آثار قدیمہ کی تحفظ اور ریکارڈ رکھنے کا کو ئی رجحان نہیں ، کہا نیاں اور معلومات صرف لو گوں کے سینوں میں محفو ظ ہیں اور مجھے خد شہ ہے کہ مستقبل قریب میں یہ اہم معلومات ،ریکارڈ اور کہا نیاں بھی ختم ہو جا ئیں گی‘‘ کیا معلوم سر فراز شاہ کی گمنام تصنیف ’’ وائلیشین اِن ڈیو رنڈ لائن ‘‘ ڈیو رنڈ کی ان سطروں سے مُتا ثر ہو کر لکھی گئی ہو اور آپ کی تصنیف کے نر خ نا مے اور سفر نا موں کے حصے اور تا ریخی شواہد بھی ۔

(جا ری ہے)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔