نریندر مودی گلگت بلتستان کے بارے میں فکر مند ہونےکی بجائے سری نگر اور نکسل وادی میں مظالم بند کرے، عوامی ورکرزپارٹی

نریندر مودی گلگت بلتستان کے بارے میں فکر مند ہونےکی بجائے سری نگر اور نکسل وادی میں مظالم بند کرے، عوامی ورکرزپارٹی

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ۔ر) عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں ظہور الہی ، اخون بائی ، اکرام الللہ جمال و دیگر نے کہا ہے کہ نریندر مودی گلگت کے باری میں فکر مند ہونے کے بجاے سری نگر اور نکسل وادیوں کے اوپر ظلم کرنا بند کرئے ۔انہوں نے کہا کہ اس پہ کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ اٹھاسٹھ سالوں سے گلگت بلتستان کو آئینی وجمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا ہے ۔ ہم دنیا بھر کے محنت کشوں کو اس ترقی پسند جمہوری تحریک میں اپنا مددگار سمجھتے ہیں مگر اس سیاسی محرومی کو انڈیا سمیت کوئی بھی عالمی سامراجی طاقت اپنے پروکسی وار اور سٹریٹیجک لڑائی کا حصہ بنانا چاہیے یا اپنے پروکسی وار کا ایندھن بنانے کی کوشش کرے گی تو ہم اس کا منہ توڈ جواب دینے کی سکت رکھتے ہیں۔اٹھاسٹھ سالوں سے ہندوستان کی ریاست جس حساب سے ملٹی نیشنل کمپینوں کے کارخانوں کے خام مال کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے غریب قبائلوں کو ان کے زمینوں ، آبی ذخائر سے محروم کر رہی ہے اور اس کیخلاف جب غریب آدھی واسی اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو ان کو نکسل وادی کا نام دیکر جس ظلم و بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے یہ کسی سے ڈھکی چھی بات نہیں ۔ جب ہندوستان کی جمہوری قوتیں اس ہندوستانی ریاستی جبر کے اوپر بولنے لگتی ہے تو ان کے زبان پہ تالے لگانے کیلئے ہندو مذہبی اتنہا پسندو تنظیموں کے ذریعہ ان پہ حملہ کرواتی ہے اور ایسے ادیب اور لکھاریوں کو پاکستانی ریاستی ایجنٹ کہتی ہے ۔ جب وہاں کے طلبہ کشمیر کی آذادی کے حق میں نعرے لگاتے ہیں تو ان کو جیش محمد اور لشکر جھنگوی جیسی دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے بے بنیاد الزامات لگا کر جیلوں اور مختلف مقدمات میں گھسیٹتی ہے ۔ان کو تعلیمی سرگومیاں جاری رکھنے سے روکتی ہے ۔ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان ہندوستانی ریاست کے مطالق دو ٹوک اپنا موقف رکھتی ہے کہ ہندوستانی ریاست ایک جابر ، قابض سرمایہ دار ریاست کی شکل میں برصغیر کے مظلوم طبقات کی استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی ریاست کبھی مظلوم قوتوں اور پسے ہوئے طبقات کی ترجمانی نہیں کرسکتی ۔

ہندوستانی ریاست جس طرح مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتی ہے اس ظلم و بربریت کو نام نہاد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نام دیکر دعوے سے اپنا گھناونہ چہرہ کھبی چھپا نہیں سکتی ۔ جو اس نے سکھوں کے ساتھ خالصہ تحریک کا نام دیکر نسل کشی کی ہے اور غریب مسلمانوں کے ساتھ جو روا رکھاہوا ہے اس سے بھی انسانی حقوق اور انسان دوست تحریکیں واقف ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان اپنے آئینی ، جمہوری ، معاشی حقوق کی جنگ اپنے محنت کش عوام ، خواتین ،طلبہ اور نوجوانون کے بل بوتے پہ لڑنے پہ یقین رکھتی ہے ۔ جس کا عملی مظاہرہ ہم نے کرکے دیکھایا ہے۔ چائیے وہ گندم سبسیڈی کی تحریک ہو ،متاثرین عطاآباد کامسلہ ہو،سوست ڈرائی پورٹ کا مسلہ ہو یا گلگت بلتستان کے اجتماعی حقوق کی جنگ ہو اپنے کارکنوں اور عوامی طاقت کے ذریعے لڑی ہے ۔جس کی پاداش میں آج کامریڈ باباجان ،علیم اور دیگر ساتھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔ہم ایسے مقدمات اور سزاوں سے عوامی لڑائی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹ ینگے ۔ جب تک ظلم جبر اور سماج کے اندر طبقاتی تضادات موجود رینگے تب تک ہماری جنگ طبقاتی تضادات کے خلاف جاری رہے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔