فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی ما لا اور سنگ تُربت (آخری قسط)

فیضی صاحب کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی ما لا اور سنگ تُربت (آخری قسط)

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بر ملا اظہار : فدا علی شاہ غذریؔ

فیضی صاحب کے قدر دانوں سے معذرت خواہ ہوں ،گوکہ ہر لفظ کے انتخاب میں احتیاط برتا گیا ہے لیکن پھر بھی اُن کے کچھ قدر دانوں کو میرے الفاظ سے سخت تکلیف پہنچی ہے، میں اُن کا درد سمجھ سکتا ہوں کیونکہ حقائق نا مے میں مو جو د شدتِ نفرت اور الزا مات سے جو کوفت مجھے اور اہل غذر کو پہنچی ہے نا قا بل بیان ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم خو گرِ درد بن چکے ہیں اور آپ کو ہمیشہ بے پناہ محبت ملنے کی وجہ سے درد سہنے کا تجر بہ نہیں رہا ہے، میرے چند صفحات کی تحریر سے ان کے قدردان چکنا چور اتنے ہو ئے ہیں کہ 29صفحات پر مشتمل نفرت کے جواب میں میری بات پو ری نہیں ہو ئی تھی کہ جواب کا سلسلہ شرو ع کر دیا، اُن مہر با نوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ دو لکھا ریوں کے درمیان تحریری مبا حثوں میں علمی نشستوں کے روایات اور صحا فتی اُصول کیا ہیں؟ اُمید ہے ڈاکٹر صاحب کو کبھی فرست ملی تو اپنے قدر دانوں کو یہ اُصول اور روایات بھی بتا دیں گے۔ مجھے تو اِن تحریروں کی اصلیت کا پتہ ہے کہ روز ایک ہی دما غ کی سوچ، معلومات ، الزامات، طرز تحریر و انداز بیان یہ سب ایک ۔۔ما جرا آخر اے خدا کیا ہے؟ لیکن ا پنے قارئین کو بھی ا ن کی( جوابی تحریروں) اور مضمون نگاروں کی حقیقت سے رو شناس کراو ں گا۔

لیکن اس پہلے آج اُس سلسلے(تحریری ) کی آخری قسط آپ کی خد مت میں حا ضر ہے۔ پہلی قسط میں عرض کیا تھا کہ مقدمہ شندور ابھی عدالت میں ہے اس لئے میں نے کسی بھی شواہد کی تا ئید اور تر دید نہیں کر نی ، سر فراز کی مدح سرا ئی یا دفا ع کر نا میرا مقصد با لکل نہیں ، صرف چند تا ریخی غلطیوں کی خبر فیضی صاحب کے گوش گزار کرنے اور چند نا گوار بے بنیادا لزامات اور نفرت کا جواب لکھنے کے ارادے سے حاضر ہوں۔ سچ پو چھئے تو بہت ساری غلطیوں، با تو ں اور الزامات کو نظر انداز کر نے کے بعد اپنی تحریر کو چھ اقساط میں محدود کر نا پڑا ہے ۔ آج کی قسط کا آغاز کھوار کے ان تازہ مصرعوں سے کر نا منا سب سمجھتا ہوں قا رئین اس بات سے آگاہ ہو کہ یہ چندا شعار صرف فیضی صاحب کے لئے ہیں اُن کے قدر دانوں کے لئے با لکل بھی نہیں کیو نکہ اُن کی ذات گرا می ہی’’ سرِ مصرعہ‘‘ اور’’ پسِ مصرعہ‘‘ دو نوں کی حقیقت جان سکتی ہے۔۔

آداب عرض ہے۔۔

کیچہ مہ قہر نو گو ئے ڈانگ رشتو لووان کھو لئیکو

ُ مُحبت کھیو تے آژور نفرتو بِیا ن او لئیکو

کیڑی فر یا د کوراو ماڑان شا لہ ژور متے ران

زندگی کیچہ شا خسور شا م و دم پا یا ن رو چھئیکو

ترو ئیو کتا بان پا لے تت گا نی غا ریہ آلائے

اُمید یو ر گا نہ با غا ئے پو شیرو خو شپان پھُو نئیکو

غذر و ہر دور تہ ریکو تہ جنجال شندورو سورا

بس مہ رشتو مو چھینے شیر مزا رشتان ہا لئیکو

پوشی شندور کیڑیتا ئے تے وختو فر عو نو ظلمان

مہ گاڑو کم شینی رے کندوری رو یان دا ڑئیکو

مشکے یا ر دو یو کو رے اولیرو کھنجان دی دوسی

غذرو دار بو خت د ی گو نی تہ شا لو ٹھو نان ر و پھئیکو

فیضی صاحب ! جب بچے اندھیروں سے ڈر جا ئے تو قبا حت نہیں لیکن جب بڑے رو شنی سے ڈر نے لگے تو سمجھ جا نا چا ہئے کہ سماج اندھیروں کی نہج تک پہنچ چکا ہے آج کل یہ بات چترال اور غذر کی سیاسی لیڈر شپ اور اہل و دانش اور بڑوں پر صادق آتی ہے۔ سرفراز شاہ اور آپ کے شریک مصنف شہاب الدین کی تصانیف سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ ہمارے سماج کے بڑوں کو رو شنی سے کتنا خوف ہے۔ تنا زعات انسا نی زندگی کے نا خو شگوار حصے ہیں جو کہیں بھی اور کسی بھی وقت کسی دو فریقوں کے درمیان سر اُٹھا سکتے ہیں ، عقل مند لو گ ، گروہ اور قوم کسی تنا زعے کو مسلے کی شکل اور رنگ میں ڈھلنے سے پہلے ہی حل ڈھو ند لیتی ہے اور اپنی تمام تر تو ا نا ئی اور وقت کسی مثبت سر گر می میں صرف کر لیتی ہے

تا کہ اُن کے معا شرے میں کسی بہتری کے آثار نمو دار ہو سکے جب کہ اس کے بر عکس جا ہل اور گنوار قو میں تنا زعات کو مسلہ بنا کر نسلیں نفرت کی آگ میں جھلسا دیتی ہیں ۔ تنا زعہ شندور بھی اپنی نو عیت میں ایک معمو لی تنا زعہ ہے اُن تما م سر حدی تنا زعات کی طرح جو دیا مر اور کو ہستان، اور دیا مر اور ناران کے لو گوں کے درمیان مو جود ہیں۔ وادی با بو سر بھی اس وقت اہل چلاس اور ناران کے با سیوں کے درمیان تنا زعے کا شکار ہے۔ چلاس، تھک نیاٹ کے لوگ ما ل مو یشی لے کر جھیل لالو سر کے مضا فات میں آباد ہیں اور ساتھ کیس بھی چل رہا ہے لیکن کسی نے بھی اپنے شواہد اور نفرت کو کتا بچے میں اشکا ر نہیں کیا حالانکہ وادی کنہار کے ارد گرد بھی آپ اور سرفراز صاحب جیسے کئی نا مور لوگ آباد ہیں اور اسلام آباد کے دامن میں بھی وادی ناران کے ہیرے دمک رہے ہیں کسی نے بھی اس طرح کی احمقا نہ کو شش نہیں کی۔ وادی ،چلاس ، وادی تھک اوروادی نیا ٹ کو بھی اللہ تعا لی نے بڑے بڑے نا مور فر زند عطا کیا ہے ، بابا چلا سی، عنا یت اللہ شما لی ، سر تاج خان ، فیض اللہ فراق کئی نا مو ر لکھا ریوں کی مو جود گی میں کیا ایک مفصل اور جا مع کتابچہ نہیں چھپ سکتی؟؟ ایسے عجو بے وہاں نہیں ہو نگے کیو نکہ اُن کے پاس علم ہے جبکہ یہاں ( لاسپور غذر) میں اہل علم بھی عا لم کم جا ہل زیادہ بن چکے ہیں جن کو یہ معلو م ہی نہیں کہ وہ کیا اور کیوں کر رہے ہیں۔۔کسی کیس کے شو اہد کو پبلک کر نا ، اُس کی آڑ میں نفرت پیدا کر نا، فو جی اور نیم فو جی دستوں کی تعینا تی کو علا قا ئی رنگ دینا اور لو گوں پر کسی کے ایجنٹ ہو نے کا الزام لگا نا کتنے سنگین جرم ہیں جو بھنگ اور چرس پی کر سڑکو ں میں پھر نے وا لا سمجھ نہ سکا تو کو ئی بڑی بات نہیں لیکن ایک معلم ، ممبر اسمبلی ایک ڈاکٹر ، مو رخ ، ادبی شخص اور وکیل کو تو سمجھ آنا چا ہئے۔۔

شندور کے تنا زعے کو مسلہ بنا کر غذر اور لا سپور کے عوام اور ان کے رشتوں کو خون ریز اختتام چا ہنے والے سا زشی احمقوں کو میں اُس بلی سے تشبیح دیتا ہو ں جو اپنے بچے کھا جا تی ہے اورا پنی بھر پور توانا ئی اور وقت ایسی’’ بلیوں‘‘ کے خلاف صرف کر نے کی تگ و دو کر رہا ہوں اور میری یہ مر حلہ وار تحر یر بھی اُس سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ میرے ہاتھ میں جب یہ حقائق نا مہ آیا تو پڑھنے کے بعد ان کے صحفات میں بچے کھا نے وا لی مزید ’’ بلیاں ‘‘ نظر آئیں اور میرے جُنبش قلم کو جوش آیا اور ان ’’ بلیوں ‘‘ کی قلع قمع کر نے قلم بر داشتہ لکھنا شرو ع ہوا لیکن افسوس ہے کہ اب اس نفرت نا مے کے ارد گر کچھ اور بچے کھا نے وا لی’’ بلیاں ‘‘ خرا ماں خرا ماں داد بیداد کر تی نظر آرہی ہیں لیکن سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بچے کچے کھا نے کے لئے د اد بیداد کس لئے؟ کو ئی بتلا و کہ ہم بتلا ئیں کیا ؟؟

فیضی صاحب میری خواہش تھی کی آپ کے لفظوں کی ٹو ٹی ہو ئی مالا کو جوڑ کر پھر آپ کی تحر یروں کے گلے میں ڈال دوں، اس ما لے کو ایک نئی زندگی بخشوں،آپ کی زبان نفرت کو محبت کی میٹھاس سے ختم کر سکوں اور خواہش تھی کہ محبت کے قصے کہانیاں اور جو ڑ نے کے تمام حر بے اس ما لے کو جو ڑ سکے لیکن اب ایسا نہیں رہا، بات آگے بڑ ھ چکی ہے کاروان نفرت کے سفر میں کچھ اور لوگ شامل ہو چکے ہیں( جو اپنی با تیں بذریعہ’’ داد بیدا‘‘ اور’’ صدا بصحرا‘‘لکھوا رہے ہیں ) جن کو محبت کی با تیں غیر متعلقہ، بے تکی، پھیکی اور گا لی لگتی ہیں اور حد تو یہ ہے کہ میرا کرداد بھی مشکوک ہو جا تا ہے ۔ اُن نفرت کے پجا ریوں کے خلاف میری تحر یری جنگ کو ایک نئی جہت ملی ہے جو جا ری رہے گی تا کہ قا رئین جان سکے کہ کس کا کردار مشکوک تھا اور کس کا مشکوک ہے ، کس کے کردار کو مشکوک قرار دے کر گلگت آنے پر پا بندی لگی تھی ؟ کس کے کردار کے سبب قومی اخبارات نے کالم چھا پنا بند کر دیئے؟ کردار کس کاکالجوں اور یو نیو رسٹیوں کی سیڑھیوں میں داغدار ہوا؟ اقبال الدین سحر کی ایک خو بصورت نظم اور یہ سب کچھ ایک نئی تحر یری سلسلے کے قسطوں میں پڑھنے کو ملیں گے ۔ مجھے یقین محکم ہے کہ جیت کا روان محبت کی ہو گی کیو نکہ تا ریخ بتا تی ہے کہ عوام لا سپور کو اپنے مفاد میں کو ئی ’’ بے سند‘‘ (بغیر ڈگری کے حا مل افراد)استعمال نہ کر سکے اور اب ’’ سند والے ‘‘ (ڈگری والے ) کا روان نفرت کے سفیر اور آمیر بھی اپنی ادبی موت کا شکار ہو کر نفرت کی قبرستان میں دفن ہو گا اور تصنیف ’’ شندور کھو کوش لنگر ‘‘ اُن کی ادبی تربت کا آخری سنگ بھی ہو گی اور کتبہ بھی۔۔

آ پ کے قدر دان لکھا ریوں سے عرض ہے

’’ تو کی مہ وز یر و پرا اوا تہ با چھو دوم ا سپہ مو ژی جنگ‘‘

یار زندہ صحبت با قی!!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔