معراج الدین مرحوم ۔۔۔۔ ایک بے مثال شخصیت

معراج الدین مرحوم ۔۔۔۔ ایک بے مثال شخصیت

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: جاوید حیات

وہ ہونٹ جن پر تبسم بکھرا ہوا ہوتا،وہ آنکھیں جو چمک رہی ہوتیں،وہ چہرہ جس پر مسکراہٹ پھیل رہی ہوتی میرے سامنے تھے ۔ہونٹ سوجھے ہوئے تھے،چہرہ بجھا ہوا تھا۔آنکھیں بند تھیں اور منظر ایسا تھا کہ مجھے اپنے فانی ہونے کا یقین پختہ ترہوتا جاتا تھا۔یہ انسان ایک عجوبہ ہے یہ چون چون کا مربع ہے۔یہ اللہ کی خلاقیت کا شاہکار ہے۔اگر مجموعہ اضلاد ہوتو پیچیدہ تر اور اگر مجموعہ اخلاق ہوتو معتبرہوجاتا ہے۔فخرموجوداتؐنے مقام انسانیت متعین کیا اور قرآن نے انسان کو شرف وعظمت بخشا اور یہ بھی کہا کہ اگر انسان مقام سے گرجائے تو بہت گہری کھائی میں گرتا ہے اور حیوانیت سے بھی نیچے گرجاتا ہے ۔حق ،دین مبین اور فلاح انسانیت کی جدوجہد کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں چمک چہرے پر مسکراہٹ اور ہونٹوں پر تبسم ہوتا ہے۔وہ انسانیت کے لئے رحمت ہوتے ہیں اور اپنے پیچھے خلا چھوڑ جاتے ہیں۔

معراج الدین اپنے پیچھے ایک خلا چھوڑ گئے۔ایک بے مثال انسان ، مثال چھوڑ کر اس فانی دنیاء سے رخصت ہوئے۔اُنہوں نے مختصر زندگی کو بہت کارآمد گذاردی۔لمحہ لمحہ حق کی حمایت ،فلاح انسانیت کی کوشش،اچھائی کا پرچار،محبت کی تعلیم ۔صداقت کا مظاہرہ پن کی تبلیغ ،احترام کا معیار،ایثار وقربانی کی مثال شرافت کا تاج محل،دوستی کا لبادہ اور خدمت کا پتلابن کر زندگی گذار دی۔ان کی ذات سے محبت کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ان کو دیکھ کر فخرمجودات ؐ کی وہ حدیث مبارک یا د آتی تھی کہ ان کے پاس جنت کی سند ہے جن کو دیکھ کر لوگ ان کی تعریف کرنے لگیں۔معراج کی پیشانی پر شرافت کا سورج طلوح ہوتا تھااور ارگرد کو روشن کرتا ۔اور اس کی رفاقت میں ہم نے کبھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کیا۔وہ اکیلے فرد نہیں تھے ایک انجمن تھے۔امید وبیہم کی ایک چٹان تھے۔ان کی موجودگی میں لگتا کہ سب موجود ہیں۔ان کی غیر موجودگی میں لگتا کہ کوئی موجود نہیں۔وہ سنجیدہ ۔متین،باہمت حوصلہ دینے والے،ڈھارس بندھانے والے تھے۔وہ اساتذہ کی مختلف تنظیموں کے صدر رہ چکے تھے۔تنظیم اساتذہ کی گویا روح تھے۔کسی فنکشن میں معمولی سے معمولی کام کی زمہ داری بھی خود لیتے بڑے بڑے کا م کی بھی۔۔۔۔ادھر مہمانوں کے لئے چائے کا بندوبست کرتے ادھر صدارتی خطبہ دینا ہوتا۔وہ سراپا تحریک تھے۔قرآن وحدیث کا گہرا مطالعہ تھا۔درس قرآن کی نشستوں میں ساتھیوں کے مطالعے درست کرتے۔کبھی کسی پروگرام سے غیر حاضر نہ رہتے۔ان کا وقت اور جان ومال دین اور خدمت کے لئے وقف تھا۔ڈیوٹی میں سخت تھے ایک سیکنڈضائع نہ کرتے۔منتظم تھے۔جس سکول میں جاتے اس کا نظام قلیل عرصے میں درست فرماتے۔

معراج اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر جوٹی لشٹ میں آباد ہوگئے تھے۔بعض لوگ ہوا کے جھونکے ،پھول کی خوشبو ،ابشاروں کے جھرنے،ٹھنڈی چھاؤں،چراغ کی لو،سورج کی کرن،چاند کی چاندنی،بارش کے قطرے،شہد کی حلاوت اور خواب ہوتے ہیں۔معراج پھول تھے مرجھاگئے،چاند تھے ڈوب گئے،خوشبو تھے فضاؤں میں تحلیل ہوگئے۔اللہ اپنے پیاروں کو جلد اپنے پاس بلاتا ہے اور اس کے پیارے دنیا میں تڑپ کر رہ جاتے ہیں۔معراج مجھے بہت اچھے لگتے تھے۔میں ٹوٹ کر رہ گیا ہوں ۔اللہ کی رحمتیں اس کو ڈھانپ لیں میں بالکل تنہا رہ گیا ہوں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔