کشکول سے چھٹکارہ کا واحد حل۔۔۔

کشکول سے چھٹکارہ کا واحد حل۔۔۔

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر دردانہ شیر

گلگت بلتستان کو 2009میں پاکستان پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے نہ صرف صوبائی اپ دیا بلکہ علاقے کے عوام کے مطالبے پر خطے کا نام شمالی علاقہ جات کی بجائے گلگت بلتستان رکھا گیاپی پی کی وفاقی حکومت کی طرف سے صو بائی سیٹ اپ دینے اور علاقے کو ایک نام دیکر پوری دنیا میں اس خطے کو متعارف کرانے پر خطے کے عوام کی ایک بڑی تعداد نے خوشی اور دلی مسرت کا اظہار کیا تھا کہ اب گلگت بلتستان کے عوامی نمائندوں کوعلاقے میں تعمیرو ترقی کے اچھے مواقع دستیاب ہونگے مگر خطے کے وسائل اتنے زیادہ نہیں کہ یہ نوزائید ہ صوبہ چندہ سالوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔حکمرانوں نے وفاق سے اس نوزائیدہ صوبے کی تعمیر وترقی کے لیے کشکول لیکر اسلام آباد کی یاترا کرتے رہے اور 2009 سے لیکر اج تک صرف یقین دہانیوں کے علاوہ اور کچھ پیش رفت نظر نہیں ائی اور خطے کے عوام کو ہر وقت مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا صوبائی سیٹ اپ کو نو سال ہوگئے تاحال صوبے کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنے وسائل سے صوبائی حکومت کو چلا سکے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے حکمت عملی کرنی ہوگی گلگت بلتستان دنیا بھر میں آبی وقدرتی وسائل اور معدنیات سے مالامال خطہ ہے یہ وسائل قدرت کی طرف سے کسی ملک یا خطے کے حصے میں نہیں آئے قدرت نے آبی ذخائر اور قدرتی وسائل کا یہ نایاب ذخیرہ یہاں جمع کیا ہے اس لیے یہ خطہ دنیا کے تمام ممالک کا توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور دنیا کی نظریں یہاں پر لگی ہوئی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان یہاں کے وسائل تک رسائی کے لیے دوڑودھوپ کا سلسلہ جاری ہے اب جبکہ گلگت بلتستان کے اس کے صوبائی سیٹ اپ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مضبوط معیشت کی سخت ضرورت ہے تو ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ یہاں کے آبی ذخائر اورقدرتی وسائل کے تحفظ کا انتظام وانصرام کریں کیونکہ وفاق کے مختلف پیکیجزکے ذریعے دی ہوئی امداد ہمارے مستقبل کو نہیں سنوار سکتی ہمیں اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہوگا اور دوسروں سے بھیگ مانگنے کا یہ رویہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ترک کرنا ہوگا کیونکہ ہمارے حکمران جب بھی کاسہ گدائی لیکر وفاق کے پاس جاتے ہیں تو خالی کشکول ہی لیکر ان کو واپس لوٹنا پڑتا ہے کیونکہ پاکستان کے حکمران آج خود بیرانی ممالک اور عالمی بینکوں کی گود میں جاکر بیٹھا ہوئے ہیں اور وہاں سے جو کچھ ملتا ہے وہ پاکستانی حکمران اپنی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں پر اڑادیتے ہیں اور بچا کچھا رقم پاکستان کے آئین میں شامل صوبوں میں تقسیم کر کے اپنے ہاتھ صاف کر دیتے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کو پھینکنے کے لیے گوشت تو درکنار ان کے پاس ہڈیاں بھی نہیں بچتی صوبائی حکومت کے پاس حکومتی امور چلانے،نئے منصوبوں اور تعمیرات پر لگانے اور تعلیم و صحت پر خرچ کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے علاقے میں تعمیر کئے جانے والے تعمیراتی کام جمود کا شکار ہیں حکومت اس سے بھی خطرناک معاشی صورتحال اور بحرانوں کا سامنا کریگی اور بد نصیب قوم ہمیشہ محرومی کی چکی پستی رہ جائیگی اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قدرتی وسائل ،معدنیات،اور آبی ذخائر کا صحیح معنوں میں تحفظ کر کے ان معیشت کی بہتری کے لیے بروئے کار لایا جائے اور ان کی تحفظ کے لیے اسمبلی کے اندر باقاعدہ قانون سازی کی جائے اور بیرونی سرمایہ کاروں سے باقاعدہ ایک قانون کے تحت لگان وصول کی جائے اور اس لگان کوسرکاری خزانے میں جمع کر کے اس سے خطے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے ایک منصوبہ بندی کی جائے اور اس علاقے کا میزانیہ یہاں کے قدرتی وسائل معدنیات سے جنریٹ کی جائے۔کیونکہ اس حسین سر زمین کے سینے میں بے شمار قیمتی معدنیات اور پتھر کے علاوہ سیسہ ،سونا ،کرومائیٹ ،گرینائیٹ ،گریفائیٹ ،اور یوریینم کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور آبی ذخائر سے بھی یہ خطہ کھچا کھچ بھرا ہوا ہے بلکہ بعض جگہوں پر تیل کے ذخائر بھی موجود ہونے کے انکشافات ہوئے ہیں لیکن ہمارے عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث یہ خطہ ہمارے لیے شوریلی اور بنجر زمین بن کر رہ گئی ہے اگر ہم زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اول تعلیم اوردوئم ان قدرتی وسائل پر توجہ دے تو ہم معاشی بحرانوں پر باآسانی قابو پا سکیں گے اور اس کے لیے شعورواگاہی پیدا کر کے ان کا اعتماد بھی حاصل کرنا اشد ضروری ہے تاکہ یہ قدرتی وسائل گلگت بلتستان کے کسی بھی ضلع میں تحصیل یا گاؤں میں بھی ہو ں کوئی بھی شخص اس کو اپنی ذاتی ملکیت سے منسلک کرنے کا مجاز نہ ہو سکے اور اگر کسی کے ذاتی ملکیتی زمین میں بھی ایسے معدنیات یا قیمتی تھر نکلتے ہیں تو اس شخص کو حکمت عملی سے اس طرح مطمئن کرایا جائے کہ وہ خود اس محروم اور پسماندہ خطے کے ترقی وخوشحالی کے لیے ان معدنیات کو بطور قربانی پیش کرنے کا اس میں جذبہ پیدا ہوسکے اس لیے ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ان نایاب قدرتی وسائل کو چائینزاور امریکن کمپنیوں کی لوٹ مار اور بندر بانٹ سے بچانے کے لیے حکومتی سطح پر سخت قانونی اقدامات کرے اور کسی بھی ملک کو صوبائی حکومت اور عوام کی اجازت کے بغیر ان قدرتی وسائل پر ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہ دی جائے کیونکہ ہمارا مستقبل ان قدرتی وسائل یعنی معدنیات کی طرف دیکھ رہا ہے اور یہ وسائل لوٹ مار کے شکار ہوگئے تو ہم دنیا میں کبھی بھی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کر سکیں گے ہماری رینگتی ہوئی معیشت،بڑھتی ہوئی غربت،جوان ہوتی ہوئی جہالت،اور خراب صحت ہماری مقدر بن جائیگی اور ہم ان مسائل کا کبھی بھی تدارک نہیں کر سکیں گے بدقسمتی سے ہمارے حکمران اس خطے کی جغرافیائی اہمیت سے بابلد اور ناواقف ہیں اس لیے اس حسین سرزمین کے مختلف علاقے جہاں قدرتی وسائل،معدنیات،قیمتی پتھر،اور آبی ذخائر،وافر مقدار میں موجود ہیں پر بیرونی ممالک اور غیر ملکی کمپنیوں کی لوٹ مار کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور ان قدرتی وسائل کی تحفظ آج تک ہم نے نہیں کی اور جہاں بھی قدرتی معدنیات برآمد ہوئے ان کو ہم نے وفاقی حکومت کی تجوری میں ڈال کر سنگین قومی بے حسی کا مظاہرہ کیا اگر ان برآمد شدہ معدنیات کی سرمایہ کاری ہم کرتے تو آج ہماری رینگتی ہوئی معیشت میں جان آچکی ہوتی اور ہمارے حکمرانوں کو کشکول لیکر دیس بدیس پھرنے کی کبھی نوبت نہیں آتی پھر بھی وقت کا نبض ہمارے ہاتھوں سے نکلا ہوا نہیں ہے ہمیں ان قدرتی وسائل کی تحفظ کر ے اور ان کو بروئے کار لاکر قومی خود انحصاری پر مبنی ایک مضبوط معیشت کے لیے ٹھوس پالیساں واضح کرنی ہوگی۔اور اس ذریعے سے ہم اس نیم صوبائی سیٹ اپ اور اس خطے کی معیشت میں جان ڈالنی ہوگی اور مضبوط معیشت سے ہی ہم اس نوزائیدہ صوبائی سیٹ اپ کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں اس حوالے سے ہمارے اسلام آباد کے بڑوں سے دوٹوک بات کرنی ہوگی کہ وہ گلگت بلتستان سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی آمدنی گلگت بلتستان کے عوام کی تعمیر وترقی پر خرچ کریں اور دریائے سندھ کی ریالٹی میں گلگت بلتستان کا بھی حصہ رکھا جائے سی پیک میں دیگر صوبوں کے برابر گلگت بلتستان کو بھی اس کا برابر کا حصہ دیا جائے چونکہ سی پیک سے جتنا گلگت بلتستان متاثر ہوتا ہے اتنا کوئی اور صوبہ نہیں ہوتا ہمیں ہمارا حصی مل گیا تو مالی بحران کا شکار اس نوزائیدہ صوبے کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم ہوسکے گا اگر وفاق نے گلگت بلتستان کو اس طرح نظر انداز کیاتو69 سالوں سے محرومی کا شکار عوام کی مایوسی مزید آگے بڑھ جائیگی۔اب بھی حکومت پاکستان کے پاس وقت ہے کہ خطے کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا جائز حق دوسرے صوبوں کی طرح اس صوبے کو بھی فراہم کریں تاکہ احساس محرومی شکار اس خطے عوام بھی دیگر صوبوں کے برابر ترقی میدان میں اگے اسکے ،،،،،

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author