ابھی تو اور جانا اور جانا اور جانا ہے 

ابھی تو اور جانا اور جانا اور جانا ہے 

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ابھی تو منزلوں کے بعد بھی منزل نہیں ملتی
ابھی تو اور جانا اور جانا اور جانا ہے

اور

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

ایک رئیس زادے کی جیت کو یقینی بنانے کیلئے80ہزار آبادی والے ضلعے کوایک سال تک نمائندگی سے محروم رکھنا کوئی دانشمندی سمجھتا ہے تو مجھے ان کی دانشمندی پر سوائے ماتم کرنے کے اور کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔

صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرے کو کیا پیغام دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔

سکھوں اور انگریزوں کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کرکے مفادات حاصل کرنے والوں کی اولادوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت سب کچھ داؤ پر لگانے کا تہیہ کرچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس سوسائٹی میں نفرت کے بیچ بورہی ہے جس کی تاریخ پاکستان کیلئے قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔

نذیر صابر نے ماؤنٹ ایورسٹ پر پاکستان کا سبزہلالی پرچم لہرایا۔۔۔ امیر حیات جنگ آزادی گلگت بلتستان کا پہلا شہید ہے۔۔ ثمینہ بیگ نے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔۔ میرٹ پر گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں سرکاری نوکریاں نہ ملنے والے ہنزہ کے ان نوجوانوں نے عالمی اداروں میں اپنا لوہا منوالیا اور نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کیلئے بھی نیک نامی کا باعث بن گئے۔۔۔۔

مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ ضلع ہنزہ سے کم آبادی والے اضلاع کی قانون ساز اسمبلی میں تین سیٹیں ہیں، جبکہ ضلع ہنزہ جس کا رقبہ آٹھ ہزار مربع کلو میٹر سے بھی زیادہ ہے کی قانون ساز اسمبلی میں صرف ایک نشست ہے۔۔۔۔۔

میں کسی ضلعے کا نام نہیں لوں گا لیکن یہ بات ریکارڈ پر لانا ضروری ہے کہ ایک ضلع ایسا بھی ہے جس کی آباد ہنزہ سے کم ہے لیکن نمائندگی کا جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔

قانون ساز اسمبلی میں اس ضلعے کے پانچ ممبران ہیں، صوبائی کابینہ اور جی بی کونسل میں بھی نمائندگی دی گئی ہے اور ہنزہ کے ساتھ۔۔۔۔۔

قانون ساز اسمبلی میں صرف ایک نشست اور وہ بھی گزشتہ ایک سال سے خالی پڑی ہے۔۔۔۔ تماشہ بنایا جارہا ہے یا تماشہ لگایا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو اس بات کی اب تک سمجھ ہی نہیں آئی۔۔۔۔۔۔

نگران کابینہ میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کو نمائندگی دی گئی اگر کسی علاقے کو محروم رکھا گیا ہے تو وہ ہے ہنزہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ترقیاتی سکیموں میں سب سے کم حصہ ہنزہ کا ہے۔۔۔۔بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہنزہ میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری اداروں میں نوکریوں کا ذکر کیا جائے تو اس میں بھی ہنزہ کے پڑھے لکھے نوجوان نظر انداز کردیئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اب تو صورتحال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ چھوٹے چھوٹے ٹھیکوں سے بھی جان بوجھ کر اس علاقے کے عوام کو دور رکھا جارہاہے۔۔۔

کیا انصاف کا تقاضہ نہیں ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان تھوڑا سا وقت نکالیں اور سنجیدگی کے ساتھ ان اسباب کا جائزہ لیں کہ نگران حکومت میں ہنزہ کو کابینہ میں نمائندگی نہ دینے کی کیا وجوہات تھیں۔۔۔۔ خواتین اور ٹیکنوکریٹ (جس خاتون کواسلام آباد سے مسلط کیا گیا ہے اس کا ہنزہ کے عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے) کی مخصوص نشستوں پر ہنزہ کو نمائندگی نہ دے کر کیا پیغام دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہنزہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عالمی اداروں کیلئے مجوزہ اہلیت پر تو پورا اترتے ہیں، لیکن گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں ان کے ساتھ زیادتیاں کیوں ہورہی ہیں۔۔۔۔۔؟

باقی تمام اضلاع میں بجلی کی صورتحال بہت بہتر ہے، ہنزہ کو تاریکیوں میں کیوں دھکیلا گیا ہے۔۔۔۔۔

ہنزہ کے لوگوں نے جہد مسلسل کے ذریعے اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے، پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔۔۔۔

کیا ہنزہ کے عوام وزیر ا علیٰ گلگت بلتستان سے معصومانہ سوال کرسکتے ہیں کہ حضور والا۔۔۔۔۔۔ تانگیر میں صرف ڈیڑھ ماہ بعد ضمنی الیکشن کا انعقاد ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس کی حلف برداری بھی ہوتی ہے اور قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں وہ اپنے حلقے کی نمائندگی بھی کرتا ہے جبکہ ہنزہ کے عوام کا قصور کیا ہے جہاں 9ماہ بعد بھی ضمنی الیکشن نہیں ہوسکے۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے اگر ٹکٹ ایک ایسے آدمی کو دیا ہے جس کی جڑیں عوام میں نہیں ہیں بلکہ عوام سے تعلق ہی نہیں تو اس کا ملبہ عوام پر کیوں گرایا جارہاہے۔۔۔۔۔۔ اگر قیادت سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے، اس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں ہے کہ ہنزہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی جڑیں عوام میں موجود ہیں اور اگر کسی عوامی آدمی کی پارٹی حمایت کا اعلان کردے تو صورتحال سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے جیسی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت میں ’’قوت فیصلہ‘‘ موجود ہے اور بار بار الیکشن کو التواء میں ڈالنے کی بجائے عوامی امنگوں کے مطابق کئے گئے کسی بھی فیصلے سے صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے لیکن اس کیلئے شرط یہی ہے کہ ’’ذاتی مفادات‘‘ سے بالاتر ہوکر عوامی مفادات کو ترجیح دی جائے۔

جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت:۔

بیانوں تک تو خود مختار تم ہو
بڑے بے بس بڑے لاچار تم ہو
ہے یہ بے اختیاری باعث شرم
شمالی قوم کے سالار تم ہو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔