قلم چلنے کا راستہ مانگتا ہے

قلم چلنے کا راستہ مانگتا ہے

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر :۔ دردانہ شیر

گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بہترین تعلیم کے نام پر جگہ جگہ مختلف بورڈ آویزاں ہیں اور اس وقت خطے میں اگر کوئی منافع بخش کاروبار ہے تو وہ پرائیوٹ سکول کھولنا ہے اور اس کاروبار میں کوئی یہ بھی نہیں پوچھتا ہے کہ جو سکول کھولے گئے ہیں انھوں نے سرکار سے کوئی اجازت نامہ بھی لیا ہے یا نہیں اور جن اساتذہ کو ان سکولوں میں بچوں کی پڑھائی کے لئے رکھا گیا ہے وہ اس معیار پر اترتے ہیں یا نہیں اس حوالے گلگت بلتستان میں محکمہ ایجوکشن کے حکام بھی خاموش ہیں اور یہ لوگ تھوک کے حساب سے کھولے گئے پرائیوٹ سکولز اور کالجز کا دورہ کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے یہ بھی دیکھنے میں ایا کہ کسی شخص نے پرائیوٹ سکول کھول دیا ایک دوسال چلانے کے بعد اس کو کسی اور کو فروخت کر دیا ایسے کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوتی اور روزانہ بڑے بڑے بینر اور پوسٹر دیکھنے کو مل جاتے ہیں جہاں بچوں کو اچھی تعلیم اور اعلی ڈگری کے اساتذہ سے بہترین تعلیم حاصل کرنے کی نوید سنائی جاتی ہے اور یہ پتہ نہیں چل جاتا کہ جو ذکر پوسٹروں میں کیا جاتا ہے اس معیار کے اساتذہ ان سکولز میں ہیں یا نہیں بعض پرائیوٹ سکولز میں بہتر تعلیم دی جاتی مگر گزشتہ کچھ عرصے میں گلی محلے میں سکولز کا جال بچھایا گیا ہے جسکی وجہ سے سادہ لوح والدین اپنے بچوں کو ان پرائیویٹ اور بعض نام نہاد کالجوں جو نہ توکسی تعلیمی بورڈ سے رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ان سکولوں میں اعلی ڈگری یافتہ اساتذہ ہیں چند ایک پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کے دیگر گلی کوچوں میں بنائے گئے ان سکولوں میں میٹرک پاس مرد وخواتین قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں جسکی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں میں جو بورڈ سے بغیر کسی این او سی کے کونے کونے میں کھول دیئے گئے ہیں غریب والدین سے بہترین تعلیم کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں اس سے پہلے راقم نے محکمہ تعلیم کے اعلی حکام کے نوٹس میں یہ بات لائی تھی کہ گلگت بلتستان کے دیگر ڈسٹرکٹ کی طرح غذر میں سوائے چند ایک سکولز اور کالجزکے باقی تمام پرائیویٹ سکول اور کالجز جو کہ جگہ جگہ موجود ہیں ان کالجوں میں نہ تو فرنیچر کی سہولت موجود ہے اور نہ ہی لیبارٹری نام کی کوئی چیز اس کے باوجود غذر ابعض سرکاری کالجزکی انتظامیہ ان کالجوں کے طلباء کو کالج کے ریگولر طلباء میں شامل کر کے باقاعدہ بورڈ سے امتحان دینے کی اجازت دینے کا بھی انکشاف ہوا ہے حالانکہ پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء نے سرکاری انٹرکالج کو دیکھا تک نہیں کالج کے ایک ریگولر طالبعلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ سالانہ 75فیصد حاضری کو یقینی بنائے مگر نہ جانے کیوں سر کاری انٹرکالجز میں بورڈ کے اس رول کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور بغیر بورڈ کی اجازت والے نام نہاد کالجوں کے سٹوڈنٹس کو ریگولر شو کر کے ان کے فارم بورڈ کو ارسال کیے جاتے ہیں اگر محکمہ تعلیم کے اعلی حکام نے فوری طور پر ان نام نہاد کالجوں اور سکولوں کو بند نہ کیا تو گلگت بلتستان میں تعلیم کا معیار مکمل طور پر ختم ہوکر رہ جائیگا اس سلسلے میں ممبران قانون ساز اسمبلی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ قوم کے ان معماروں کے ،مستقبل سے کھیلنے والے افراد کا محاسبہ کریں جو ہر گلی کوچے میں ایک سکول کھول کر اور این جی او بنا کر ڈونر سے پیسے بٹورنے کی جو حرکت کرتے ہیں وہ کسی طور پر بھی یہاں کی قوم اور طلباء دونوں کے لیے نیک شگون نہیں ہے اورسرکاری انٹرکالجزکی انتظامیہ نے اس طرح کی حرکت بند نہ کی تو صرف کالج انتظامیہ کی بدنامی ہوگی بلکہ سالانہ آنے والا بدترین رزلٹ بھی کالج انتظامیہ کے لیے بدنامی کا سبب بنے گا اور یہ رزلٹ قراقرم بورڈ کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے آج کل سکول کھولنے اور ہر گاؤں میں دو دو کالج چلانے کا جو رواج چل رہا ہے اگر قراقرم بورڈ کے زمہ داران اپنے دفتروں سے نکل کر ان تمام نام نہاد کالجوں کا دورہ کریں تو ان اندازہ ہوگا کہ خطے میں کتنے غیر قانونی طور پر کالج چلائے جاتے ہیں اگر پھر بھی قراقرم بورڈ کے حکام تماشائی بنے رہے ا ورپرائیوٹ انٹرکالجز کو کھلی چھٹی دے رکھی تو گلگت بلتستان میں تعلیمی نظام بد سے بدتر ہوتا جائے گا اور معمار قوم کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author