چارٹر آف ڈیمانڈ کی عدم منظوری کے خلاف سکردو میں آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کا دھرنا

چارٹر آف ڈیمانڈ کی عدم منظوری کے خلاف سکردو میں آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کا دھرنا

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو( رجب علی قمر ) چارٹر ز آف ڈیمانڈ کی عدم منظوری کے خلاف سکردو میں بھی آل پارٹیز ایکشن کمیٹی کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر لبیک کہتے ہوئے زبردست احتجاجی دھرنا دیا گیا شہر میں کارو بازندگی پوری طرح معطل رہی تمام کارو باری مراکز،مارکٹیں اور نجی دفاتر بند رہے ، شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال، سڑکوں پر ٹریفک کی روانی معمول سے کم معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی نماز جمعہ کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جامع مسجد سکردو سے احتجاجی ریلی نکالی گئی احتجاجی ریلی کے شرکاء ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بیز ز اُٹھائے ہوئے تھے جن پر گلگت سکردو روڈ کی عدم تعمیر اور ٹیکس کے نفاز کے خلاف نعرے درج تھے ریلی کے شرکاء نے حق دو حق دو آئینی حق دو کے نعرے لگائے جبری ٹیکس نامنظور ، آئینی حق دو ٹیکس لو ،گندم سبسڈی کا خاتمہ نا منظور سے صدائے احتجا ج بلند کیا اس موقع پر عوام کا جم غفیر موجود تھے شرکا یادگار شہدا پرپہنچنے کے بعد دھرنے کی شکل اختیار کرگئی شرکاء دھرنا نے صوبائی و وفاقی حکومت کے خلاف بھی شدید نعرہ بازی کی۔

یاد گار شہداء سکردو میں عوامی احتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء آغا سید علی رضوی ، نامور عالم دین بلال ز بیری ، پی پی پی کے رہنماء محمد بشیر ، نجف علی ، پی ٹی آئی کے رہنماء محمد علی دلشاد ، اسلامی تحریک پاکستان کے رہنماء غلا م شہزاد آغا ، آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء منظور یولتر سول سوسائٹی کے رہنماء حاجی احسان علی ، عوامی تحریک کے رہنماء محمد نذیر ،محمد تقی عاصم ،رضا اختر ،جیمز سٹون کے صدر وزیر عباس و دیگر نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے گلگت سکردو روڈ کاتین بار جھوٹا افتتاح کیا اور اب اپنے کیے ہوئے افتتاح پر فاتحہ پڑھنے کے لیے سکردو آنے کا پروگرم کر رہے ہیں گلگت سکردو روڈ کی تعمیر میں تاخیری حربے اپنانے سے گریز کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا گلگت سکردو روڈ میں واقع پُلوں کی تعمیر کے لئے رکھے گئے فنڈز انتہائی قلیل ہے پلو ں کی تعمیرمیں ناقص میٹریل استعمال کرنے کے لیے ان کی لاگت کم کر دی گئی ہے ہم ایسا ہونے نہیں دینگے مقررین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم اور صدر اپنے ناراض گھر والوں کو منانے کے لیے گلگت سکردو سیر کے لیے روز آرہے ہیں اور انہیں منا کر یہاں سے چلے جاتے ہیں واپسی پر یہاں سے ڈرائی فروٹ اُٹھاتے ہیں اور یہاں کے عوام کو ٹافیاں کھلا کر واپس چلے جاتے ہیں وزیر اعظم پاکستان نے الیکشن سے قبل یہاں کے عوام کو بہلانے کے لیے جھوٹے اعلانات کیے اور مخض سبز باغ دکھا کر یہاں کے عوام کو الو بنایا اور اب اپنے وعدوں سے بھی مکر رہے ہیں انتخابات میں عوام سے کے گئے وعدے پورا نہ ہوئے تو ن لیگ کی حکومت کو چلنے نہیں دے گی ایک سال گزر گیا لیکن کوئی وعدہ وفا نہیں ہوا.

مقررین نے کہا کہ مکمل آئینی حقوق ہماری منزل ہے ہمیں اپنے حقوق سے محروم نہ رکھا جائے یہاں کے لوگ دیگر صوبوں کے لوگوں سے ذیادہ محب وطن ہیں ، محب وطن لوگوں کو آئینی حقوق سے محروم رکھنا دیوار سے لگانے کے مترادف ہے آئینی حقوق دینے سے قبل ہی گلگت بلتستان کے غریب تاجرو ں سے ٹیکس لینے کی بات کی جا رہی ہے جب تک ہمیں مکمل آئینی حقوق نہیں دیے جاتے تب تک ٹیکس کے نفاز کو برداشت نہیں کرینگے جبری ٹیکس کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے عوام سے جبری ٹیکس لینے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے مقررین نے کہا کہ گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون بنایا جائے گلگت سکردو روڈ بلتستان ریجن کے عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس اہم مسئلے پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے حکمران جھوٹے اعلانات کے زریعے عوام کی جذبات سے کھیل رہی ہے عوام کو بہلانے کے لیے تاریخ پہ تاریخ دی جا رہی ہے دفاعی اہمیت کے حامل سڑک کی تعمیر کو التوا کا شکار بنا نا سنگین غلطی ہوگی اب اس روڈ کی تعمیر کے لیے جلد عملی اقدامات کیے جائیں مقررین نے مطالبہ کیا کہ بلتستان ریجن کے عوام کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے کرگل لداخ روڈ کھولا جائے اس روڈ کے کھلنے سے بلتستان ریجن میں سیاحتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے ہمارے سینوں کو چیر کر سی پیک منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور ہمیں اس کے ثمرات سے محروم رکھی جا رہی ہے سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کا حصہ واضح نہیں کیا گیا سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کے عوام کو مکمل حصہ دیا جائے تاکہ اس کے ثمرات سے یہاں کے عوام مستفید ہو سکیں سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کے عوام کو صر ف گاڑیوں کا دھواں مل رہا ہے پنجاب حکومت سی پیک منصوبے کو ذاتی پروجیکٹ سمجھ رہی ہے پنڈی ،اسلام آباد اور لاہور میں اورینج ،میٹرو بن سکتا ہے تو گلگت بلتستان میں سڑکیں کیوں نہیں بن سکتی.

مقررین نے کہا کہ صدر کا دورہ سکردو قومی خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں تھا صرف تین روزہ دورے پر 5کڑور 46لاکھ روپے کے اخراجات آئے صرف 36لیپ ٹاپ دینے کے کڑورں کے اخراجات کیے گئے اگر یہی رقم گلگت بلتستان کے عوام کو دیا جاتا تو یہا ں کے عوام اس خطیر رقم سے گلگت سکردو روڈ پر واقع پل تعمیر کر سکتے تھے وزیر اعظم یوتھ لون اسکیم ، ہیلتھ کارڈ سکیم کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ن لیگ نے الیکشن میں جتنے اعلانات اور وعدے کئے ہیں ان پر پانچ فیصد بھی عمل درآمد نہیں ہوا ہے مقررین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے 65 ،71 اور کرگل وار میں پاک فوج کے شانہ بشانہ جنگیں لڑی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں حقوق نہ دینا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے نااہل اور کرپٹ حکمرانوں نے گلگت بلتستان کو چراگاہ بنا رکھا ہے حقوق نہ دینا شہداکے خون کے ساتھ غداری ہے جنہوں نے اپنے مقدس لہو سے اس خطے کو آزاد کرکے پاکستان کے جھولی میں ڈال دی تھی اگر آج ہندوستان کو گلگت بلتستان بارے بیان دینے کی جرات ہوئی ہے تو وہ ان نااہل حکمرانوں کی غلط پالیسوں کی وجہ سے ہوا ہے مقررین نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو مکمل آئینی خودمختاری دیے جائیں سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کے عوام کو جائز حق دیا جائے اور گلگت سکردو روڈ کی تعمیر میں تاخیری حربوں سے گریز کیا جائے بصورت دیگر آل پارٹیز ایکشن کمیٹی اپنے احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے گی اور پورے گلگت بلتستان کو جام کردیں گے گلگت بلتستان کے عوام کو گندم کی مد میں دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے سبسڈی ہمیں خیرات میں نہیں دی جا رہی اگر سبسڈی ختم کی گئی تو بھر پور مزاحمت کریں گے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔