رودادِ مشاعرہ

رودادِ مشاعرہ

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

حلقہ ارباب ذوق (حاذ) گلگت کے اہداف میں ایک ہدف یہ بھی ہے کہ شعراء کے افکار کو محدود کرنے بجائے امن و محبت اور اُخوت و انمول ثقافت کے جواہر کو عوام تک پہنچانے کیلئے جگہ جگہ ادبی تشستون کا اہتمام کیا جائے۔اس سلسلے میں محترم سید بزرگ شاہ صاحب سابق پولیس آفیسر کی خصوصی دعوت پر 28 اگست 2016 ؁ء کے سہ پہر 4 بجے دنیور محمد آباد ان کے دولت خانے میں ماہانہ طرحی و غیر طرحی مشاعرہ منعقد ہوا۔چونکہ محترم بزرگ شاہ صاحب گزشتہ سال سے اس خواہش کا اظہار کر رہے تھے کہ حاذ کے احباب کوئی ادبی نشست انکے دولت خانے میں منعقد کریں۔محترم کا دولت خانہ ایک ایسے خوبصورت مقام پر واقع ہے جہاں سے آپ پورے گلگت یعنی ہینزل بسین سے مناور ، جوتل اور چھلمش تک کا نظارہ کر سکتے ہیں۔محترم شاہ صاحب نے شعراء کے لئے پُر تکلف ریفریشمنٹ کا بھی بندوبست کیا تھا، بالخصوص روایتی کھانوں میں (گولی) قابل ذکر ہے۔اس محفل کے مہمان خصوصی پروفیسر محمد امین ضیا ء صدر حلقہ ارباب ذوق اور میر محفل جناب عنایت اللہ خان شمالی سر پرست اعلیٰ دیامر رائٹر فورم تھے۔ اس موقع پر میزبان محترم سید بزرگ شاہ صاحب نے حلقہ ارباب ذوق کے احباب کے علاوہ جناب عنایت اللہ شمالی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس دوران شاہ صاحب نے فراز کا ہدیہ سلام بحضور امام عالی مقام سنایا تو شعراء کے آنسو چھلک پڑے۔سید بزرگ شاہ صاحب ایک قابل ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق بھی خوب رکھتے ہیں اور ان کا مطالعہ بھی کافی وسیع ہے۔آپ شعراء و ادباء کے قدر دانوں میں شامل ہیں۔جن شعراء نے اس محفل میں شرکت کی ان میں پروفیسر محمد امین ضیاء، عنایت اللہ خان شمالی،محمد نظیم دیا، غلام عباس نسیم ، پروفیسر اشتیاق احمد یاد، پروفیسر احمد سلیم سلیمی، پروفیسر عبدالعزیز ،حُر شاہ حُر،شاہ جہان مضطر، فاروق قیصر، ناصر نصیر، توصیف حسن اور جمشید خان دکھی کے نام شامل ہیں۔ شعراء نے شینا اور اردو طرحی اور غیر طرحی کلام سنایا۔یاد رہے کہ گزشتہ مشاعرے میں درج ذیل شعر کا پسِ مصرعہ بطور طرح منتخب کیا تھا:۔

جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہونگے
’’کرایہ دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے‘‘

جن شعراء نے مصرعہ طرح پر طبع آزمائی کی ان کا نمونہ کلام ذیل میں نذر قارئین کیا جاتا ہے :

پروفیسر محمد امین ضیاء

جہاں میں آئے ہیں سب آزمائشوں کے لئے
فقط ہمارا یہاں امتحان ، تھوڑی ہے

محمد نظیم دیا:

یہ شاعری ہے کوئی کاروبار ہے تو نہیں
یہ آہ دل کی ہے ویسے بیان، تھوڑی ہے

غلام عباس نسیم:

لحد میں مجھ کو سنبھالے گا رحمت عالم
مجھے یقین ہے خالی گمان ، تھوڑی ہے

فاروق قیصر:

نکل ہی آئیں گے ہیرے کئی تلاش تو کر
جو دِکھ رہی ہے یہ کوئلے کی کان، تھوڑی ہے

ناصر نصیر:

کسی نفس کو یہاں پر امان تھوڑی ہے
مرا مکاں ہے ترا لامکان، تھوڑی ہے

اشتیاق احمد یاد:

ہیں خار بھی تو چمن میں مرے، گلوں کے ساتھ
سدا بہا ر مرا گلستان، تھوڑی ہے

جمشید دکھی:

میں صبح و شام بھٹکتا ہوں کوئے یثرب میں
ہے میرا جسم یہاں میری جان ، تھوڑی ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔