پھر کب آؤ گے؟؟؟

پھر کب آؤ گے؟؟؟

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے ہیں وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

شہیدوں کی سرزمین ضلع غذر جو چار وادیوں (پونیال، اشکومن، گوپس، یاسین) پر مشتمل ہے، جو خوبصورتی، دلکشی اور دلفریبی کا حسین شاہکار ہے۔ ہر طرف اُبلتے اُچھلتے چشمے، کاجل و رخسار کو چومتی بکھری بپھری ہوائیں، گرتی مچلتی آبشاریں، ہر چہار سو جومتے جھولتے چیڑ و چنار کے درخت، سبزہ سے لدی ہوئی وادیاں اور حسن و خوبصورتی کی شہزادیاں قدرت کے وہ عطایا ہیں جہاں ہر طرف حسنِ فطرت کی دیوی اپنے جلوؤں کی خیرات تقسیم کر رہی ہے۔ دِل کو سرور اور سکون بخشنے کے سبھی سامان وافر مقدار میں موجود ہیں۔ جب گاڑی ان راستوں پر چلتی ہے تو پہاڑوں کی سخت و سنگلاخ چٹانیں رس رس کر رستے میں بہتا ہوا پانی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اپنے آنے والے مہمانوں کا بے قراری سے انتظار و استقبال میں آنسو بہا رہا ہو۔ ہر طرف سبزہ سے بھرے ہوئے پہاڑوں کے درمیان سے صاف و شفاف بہتے ہوئے سفید چمکدار چشموں پر بلاشبہ یہ گمان گزرتا ہے جیسے کسی حسینہ کے رخ و رخسار سے بہتے ہوئے آنسو، بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیوں پر جمی ہوئی برف پر جب سورج کی کرنیں رقص کرتی ہیں تو یوں لگتا ہے، جیسے پہاڑوں نے آبدار موتیوں سے مرصع تاج پہن رکھا ہو اور اس کی چمک آنکھوں کو لبھاتی اور دِلوں کو چراتی ہے۔ قرمبر جھیل اور دریائے اشکومن کی دھیمے دھیرے انداز میں بہتی ہوئی لہریں اور پھر پتھر سے ٹکرا کر رقص کرتی ہوئی واپس لوٹتی ہوئی موجوں میں خوابیدہ دِلوں کو بیدار کرنے کا کونسا سامان نہیں ہے۔۔۔؟ اس کے ٹھنڈے پانی میں ذرا پاؤں ڈبو کر تو دیکھیں، رگ رگ میں ٹھنڈک و تازگی کی لہر دوڈ جاتی ہے۔ دریائے اشکومن، قرمبر جھیل، خلتی لیک، ہاکس گوپس یا شیر قلعہ دریا کے کنارے کھڑے ہوجائیں تو ساون کی بکھری بپھری ہوائیں بالوں کو چھیڑتی، لب و رخسار سے کھیلتی، نینوں کو میچتی، کپڑوں سے اٹھکیلیاں کرتی اور دامن کو اُڑاتی۔۔۔ دل اُڑا لے جاتی ہے۔ شاعر نے شاید اس لئے کہا ہے ؂

چھیڑتی ہیں مجھ کو ہوائیں بہار کی
سمجھاتی ہیں دل کو یہ راہیں فرار کی

سورج جب شرما کر بادلوں کی اوڑھ میں چلا جائے اور ذرا سایہ ہوجائے اور ہوائیں تیز ہوجائیں تو موسم اور بھی تیکھا ہو جاتا ہے۔ ٹھنڈے پانی میں ہاتھ دھو کر، پاؤں ڈبو کر ذرا لاہور ، ملتان اور کراچی کی چلچلاتی دھوپ، اُڑتی ہوئی دھول اور سر تا پا پسینے سے شرابور انسان کا تصور کریں تو انسان کے یخ بستہ احساسات اور تخیلات میں قدرے تلخی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور انسان بزبان حال و قال ربِ کریم کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اے اللہ! تو نے ہمیں کیا ملک عطا فرمایا جو بیک وقت متنوع اوصاف اور مختلف نعمتوں سے بھرا پڑا ہے۔ اگر اس ملک کے ایک حصے میں سخت سردی ہے تو لوگ شب کو رضائیاں اوڑھنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف اس قدر گرمی کہ پنکھے، ائیر کولر اور اے سی کے بغیر چارہ نہیں۔ دنیا میں کتنے ممالک ہیں جو سمندر جیسی عظیم نعمت سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے وہ سمندر کی موجوں سے نہ لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور نہ ہی سمندری تجارت کے لئے ان کے پاس کوئی ساحل و بندرگاہ ہے۔ اگر کسی ملک کو سمندر ملا ہے تو وہ بلند و بالا خوبصورت پہاڑوں کی چوٹیوں کے حسین نظاروں سے محروم ہیں اور کتنے ممالک صحرا کی ہوا اور اس کے فوائد سے تہی دست ہیں اور اگر کسی ملک کے پاس صحرا ہے تو وہ وسیع و عریض ذرخیز اور سرسبز و شاداب میدانی علاقوں سے محروم ہیں، لیکن قربان جایئے اپنے وطن پر کہ قدرت نے جہاں اسے کراچی کے خوبصورت ساحل و سمندر دیا ہے، تو وہاں کے ٹو اور ہمالیہ کی فلک بوس چوٹیوں اور طویل پہاڑی سلسلوں سے بھی نوازا ہے، جہاں اسے بلوچستان کا وسیع و عریض ڈیزٹ عطاء کیا ہے تو وہاں پنجاب کا اجناس اور میوہ جات سے لدا ہوا میدانی علاقہ بھی دیا ہے۔ اتنے حسین ملک کو سونے کی چڑیا اور گولڈن برڈ کے اور کیا نام دیا جاسکتا ہے، جہاں اہل یورپ کو ہمارے اسلاف اور بانیانِ وطن نے بڑی مشکل سے دھکے دے کر نکالا تھا اور اب بھی دِل بہلانے وہ یہاں آیا کرتے ہیں۔

اس قدر حسن، دِلکشی اور دلفریبی کے باوجود کسی نے شمالی علاقہ جات کو جنت نظیر نہیں کہا۔ اس سے آپ کشمیر کی خوبصورتی، رعنائی اور دلربائی کا اندازہ لگا سکتے ہیں، جس کو دنیا میں جنتِ نظیر اور جنت کا ٹکڑا کہا جاتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ انسان کا حسن ہی کبھی اس کی زندگی کے لئے وبالِ جان بن جاتا ہے اور یہی حقیقت ہمیں کشمیر میں مجسم شکل اختیار کئے ہوئے نظر آتی ہے۔

بات شہیدوں کی سرزمین غذر سے چلی تھی۔ اس علاقے کے لوگ سادہ، مخلص اور مہمان نواز ہوتے ہیں۔ مہمان نوازی میں چائے سب سے پہلے پیش پیش ہوتی ہے، جس کا پہلا پیالہ انسان کو بخوشی دوسرا باالصبر اور تیسرا بالجبر پینا پڑتا ہے۔

جب انسان ان علاقوں کو چھوڑ کر واپس آتا ہے تو گاڑی آگے کو بڑھتی ہے مگر دِل پیچھے کو کھینچا چلا جاتا ہے اور فراق میں آنسو بہاتے چشمے نظر آتے ہیں اور چیڑ و چنار کے خاموش کھڑے درخت اس حسینہ کا نقش پیش کرتی ہیں، جو اپنے ہرجائی کو دِل پر پتھر رکھ کر رخصت کرتے ہوئے بے بسی کے عالم میں صرف یہ کہہ پاتی ہے۔

…………پھر کب آؤ گے؟؟؟

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔