‘بغیرتحقیق کی شادیوں نے چترال کی عزت و ناموس کو بُری طرح متاثر کیاہے’، اجلاس سے مقررین کا خطاب

‘بغیرتحقیق کی شادیوں نے چترال کی عزت و ناموس کو بُری طرح متاثر کیاہے’، اجلاس سے مقررین کا خطاب

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین) چترال کے ناظمین ، کونسلرز ،اور سماجی تنظیمات کے نمایندوں نے چترال کی بچیوں کی ضلع سے باہر شادی کرنے کی وجہ سے اُٹھنے والے مسائل کے سلسلے میں سنجیدہ اور سخت اقدامات اُٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے  اور کہا ہے ۔ کہ بغیر تحقیق کے ان شادیوں نے چترال کی عزت و ناموس کو بُری طرح متاثر کیا ہے ۔ جنہیں روکنے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر کام کیا جانا چاہیے۔

منگل کے روز چترال کے ایک مقامی ہو ٹل میں تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس کی زیر صدارت تحصیل کونسل کے ممبران ، ناظمین ،کونسلرز ، دعوت عزیمت کے عہدہ داران و ممبران اور سول سوسائٹی کے نمایندوں پر مشتمل ایک غیر معمولی اجلاس ہوا ۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے اجلاس کے منتظم تحصیل کونسلر فریدہ سلطانہ نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا  کہ شادی کی آڑ میں چترال کی بیٹیوں کو ضلع سے باہر لے جایا جاتا ہے اور اُن کی لاشیں واپس لائی جاتی ہیں ۔ اُن کی عزت و وقار اور مرضی کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ، یوں ان بچیوں کو خریداہوا مال سمجھ کر اُن کی قتل تک کی کوئی پروا نہیں کی جاتی ۔ جوکہ چترال کے سیاسی نمایندگان اور لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس مقصد کے پیش نظر ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جو اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے اس سلسلے میں پہلے سے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ معاون و مددگار ہو ۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس کام میں دلالوں کے علاوہ علماء ، کاروباری حضرات ،تبلیغ سے وابستہ لوگ اور مختلف این جی اوز کے افراد شامل ہیں ۔ اس موقع پر صدر دعوت عزیمت چترال جاوید اقبال نے یہ چشم کُشا ریکارڈ پیش کی ۔ کہ 2002سے2008تک چھ سالوں کے دوران 2800شادیاں ضلع سے باہر کی گئیں ۔ جن میں سے290شادیاں قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ عزت و ناموس سب کا مشترک ہے ۔ ضلع سے باہر کوئی بھی بیٹی کسی مسئلے سے دوچار ہوتی ہے ۔ تو پورے چترال کا نام لیا جاتا ہے ۔ کسی فرد کا نام نہیں لیا جاتا ۔ اس لئے اس بات کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے تنظیم دعوت عزیمت بے تحقیق شادیوں کو روکنے کیلئے کام کر رہا ہے ۔ اور اُن کی کوششوں سے شادی میں کردار ادا کرنے والے70فیصد دلالوں کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ تیس فیصد باقی ہیں ۔ جن کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوشش کی جانی چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم ضلع سے باہر شادی کے مخالف نہیں ۔ بلکہ اُن بے تحقیق شادیوں کے مخالف ہیں ۔ جن کی وجہ سے چترال کے ناموس کو دھچکا لگتا ہے ۔ اور ہماری بہنوں کی زندگی خوشی کی بجائے عذاب سے دوچار ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے پاس چترال کی بیٹیوں کے وہ انٹرویوز اور دستانیں محفوظ ہیں ۔ جنہیں سُن کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں چترال کو جتنی ضرورت انفراسٹرکچر کی تعمیر کی ہے ۔ اُس سے زیادہ ضرورت یہاں کی بچیوں کی زندگیوں کے تحفظ اور عزت وناموس بچانے کی ہے ۔

تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس نے کہا کہ مسئلے کی سنگینی کااحساس کرتے ہوئے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے اورہم سب کو مل کر اس میں کردار ادا کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا  کہ اس حوالے سے ویلج ناظمین ، آئمہ مساجد اور ہوٹل انتظامیہ اور کالج سطح پر آگہی دی جائے گی ۔ جن کے اخراجات ٹی ایم اے برداشت کرے گی ۔ اور یہ آگہی سب ڈویژن مستوج تک بڑھایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ اسلام سے دوری ہے ۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے ضلع سے باہر شادیوں کی تحقیق کے حوالے سے ضلع کونسل کے منظور شدہ قرارداد کو سراہا ۔ اور کہا ۔ کہ اس کی وجہ سے بہت حد تک شادیوں کے بارے میں تحقیق میں مدد ملی ہے ۔ تاہم اس کومزید بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے ۔ تاکہ اس مسئلے پر مکمل طور پر قابو پایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایسی شادیوں کے حوالے سے ویلج ناظمین اور آئمہ مساجد کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔ اور قریبی روابط پیدا کرکے بغیر تحقیق ضلع سے باہر شادی روکنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی ۔

اجلاس سے معروف قانون دان عبدالولی ایڈوکیٹ ،ناظم سجاد جغور ، قاضی فضل معبود تحصیل ممبر، شبیر احمد نائب صدر دعوت عزیمت ،بزرگ الدین انسپکٹر چترال پولیس، قاری جمال عبدالناصر ، قسوراللہ قریشی ممبر تحصیل کونسل ، فر یدہ سلطانہ ،مسلمہ بی بی ،آسیہ انصار ، الماس بی بی ، منصورہ بی بی اور رحیلہ کنول ایڈوکیٹ نے خطاب کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔