کہ جنت میں بھی ہم ، ہمسایہء کوثر میں رہتے ہیں۔۔۔۔۔

کہ جنت میں بھی ہم ، ہمسایہء کوثر میں رہتے ہیں۔۔۔۔۔

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جی بی کے پربتوں میں خزانوں کے راز ہیں
اہل وطن ہمارے مگر بے نیاز ہیں
قدرت نے دے دیئے ہیں وسائل تو کیا کریں
نااہل میرے دیس کے منصوبہ ساز ہیں

احسن اقبال، سید مشاہد حسین، مولانا عبدالغفور حیدری، اسد عمر اور عمرایوب خان کی خدمت میں عرض ہے کہ جتنا پوٹینشل (Potential)ہمارے خطے (گلگت بلتستان) اور اس خطے میں بسنے والوں میں ہے ’’شاید ہی دنیا میں کہیں ہو، لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم سونے کی کان کے اوپر بیٹھ کر دامن پھیلائے پھرتے ہیں اور بھکاری ہیں۔۔۔۔‘‘

پاکستان کا یہ ایک ایسا بدقسمت خطہ ہے جو آبی وسائل سے مالامال ہوتے ہوئے بھی پانی اور بجلی کی نعمت سے محروم ہے۔۔۔۔

پاکستان میں واحد خطہ ہے جس کے عوام نے بغیر کسی بیرونی امداد کے جنگ آزادی لڑی اور27ہزار مربع میل کا رقبہ دشمن سے چھین کر پاکستان کے حوالے کیا۔۔۔۔

اس خطے میں چالیس ایسے گلیشئرز واقع ہیں جن کی لمبائی قطبین سے باہر سب سے زیادہ ہے۔۔۔۔۔ یہ گلیشئرز اور برفانی پہاڑ پاکستان کے آبی وسائل میں شامل ہیں جہاں سے پنجاب اور سندھ آبپاشی کا پانی حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔۔ پاکستان کا سب سے لمبا دریا، دریائے سندھ اس خطے سے گزرتا ہے اور دریائے سندھ کا 80فیصد رقبہ آبگیر (Watershed)اس خطے میں واقع ہے جبکہ مٹی سے بنائی ہوئی دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل تربیلا ڈیم دریائے سندھ کے پانی پر تعمیر کی گئی ہے۔۔۔۔۔

اس خطے کوTHE CENTRE OF THE WORLDکہا جاتا ہے کیوں کہ یہاں پانچ ممالک چین، تاجکستان، پاکستان، ہندوستان اور افغانستان کا رابطہ موجود ہے۔۔۔۔۔ دنیاء کا بلند ترین پولو گراؤنڈ ’’شندور‘‘اور دنیا کا بلند ترین سطح مرتفع دیوسائی جس کی بلندی سطح سمندر سے 4000میٹر ہے کے علاوہ براعظم ایشیاء کے تین عظیم سلسلے کوہ ہمالیہ، کوہ ہندوکش اور کوہ قراقرم اس خطے میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک سو میل سے کم قطر کے رقبہ میں ایک سو کے قریب ایسی چوٹیاں اس خطے میں موجود ہیں جن کی بلندی5454میٹر سے لے کر8611میٹر تک ہے۔۔۔۔۔۔

کوہ پیمائی اور سیاحت کے شعبے میں پاکستان میں سب سے زیادہ آمدن اس علاقے میں ہے اور بیرونی تجارت کے سلسلے میں سوست کسٹم سے سالانہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ دور حاضر کا فاتح ماؤنٹ ایوریسٹ نذیر صابر اور ذاتی شجاعت و بہادری کے اعتراف میں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر پانے والا لالک جان بھی اسی خطے کے سپوت ہیں۔۔۔۔۔

آپ تمام معزز مہمانان گرامی قدر کی خدمت میں گلگت بلتستان کے سیاسی پس منظر کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔۔۔۔

گلگت بلتستان میں پاکستان کی عملداری کے بعد8اگست1949ء کو مسلم کانفرنس کی قیادت نے گلگت کا دورہ کیا اور یہاں اپنی پارٹی قائم کی جس کے مطابق مسلم کانفرنس نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔۔۔۔ مسلم کانفرنس گلگت بلتستان کے اولین صدر راجہ شاہ رئیس خان، جوہر علی خان ایڈووکیٹ نائب صدر ، عبدالرزاق جنرل سیکریٹری، غلام رسول اسسٹنٹ سیکریٹری، غلام سرور سیکریٹری، غلام محمد ، وزیر شمشاد، غلام محمد گون، عاقل خان، ارشاد علی اور راجہ کریم خان شامل تھے، ان کے علاوہ علاقہ بلتستان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ تمام تر ڈوگرہ شاہی کے جبر کے باؤجود1945ء میں وہاں مسلم لیگ کی ایک شاخ قائم کی گئی اور اس کا سہرا سکردو کے راجہ محمد شاہ کے سرجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگ آزادی کے رہنما کرنل میرزہ حسن نے1956ء میں گلگت لیگ قائم کی تھی،1970ء کی دہائی میں گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شاخیں قائم کی گئیں۔۔۔۔۔

سرزمین گلگت بلتستان پر سیاسی و عسکری قیادت کو خوش آمدید کہتے ہوئے گلگت بلتستان میں اداروں کے قیام کی تاریخ کے حوالے سے بھی آپ تک آگاہی پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی حکومت نے ملک کے دیگر حصوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی بنیادی جمہوریت(Basic Democracy)متعارف کرایا، اس نظام کا آغاز1961ء میں بلتستان اور بعدازاں1964ء میں گلگت تک دائرہ کار بڑھا دیا گیا۔۔۔۔۔

بنیادی جمہوریت کی بساط لپٹنے کے بعد حکومت نے گلگت بلتستان میں ایک مشاورتی کونسل کے قیام کا فیصلہ کیا،اس مشاورتی کونسل کا چیئرمین ریذیڈنٹ گلگت بلتستان مقرر ہوا، اس مشاورتی کونسل کے21اراکین میں منتخب اور نامزد دونوں شامل تھے، مشاورتی کونسل کیلئے انتخابات30دسمبر1970ء کو ہوئے۔۔۔۔اس مشاورتی کونسل کی مدت پوری ہونے کے بعد مشاورتی کونسل کا نام بھی تبدیل کردیا گیا اور 6نومبر1975ء کو ناردرن ایریاز کونسل کے انتخابات ہوئے اور ریذیڈنٹ گلگت بلتستان کی جگہ چیئرمین کا عہدہ بھی تبدیل کرکے اسے وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کا نام دیا گیا۔۔۔۔

شمالی علاقہ جات کونسل کیلئے تیسری مرتبہ11اکتوبر1979ء، چوتھی مرتبہ26اکتوبر1983ء، پانچویں مرتبہ انتخابات 11نومبر1987ء جبکہ چھٹی مرتبہ انتخابات 1991ء میں منعقد ہوئے اور ان انتخابات میں حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گلگت بلتستان بھر کی اکثریتی آبادی اہل تشیع نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔۔۔۔

مہمانان گرامی۔۔۔ ناردرن ایریاز کونسل کے لئے1991ء تک ہونے والے تمام انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوئے، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے ناردرن ایریاز کونسل کیلئے ہونے والے ساتویں مدت کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے اور پہلی مرتبہ ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو، مشیروں کے عہدے بھی متعارف کرائے۔۔۔۔۔

وفاق میں قائم پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے1999ء میں ناردرن ایریاز لیگل فریم ورک آرڈر1994ء میں ایک ترمیم کے ذریعے ناردرن ایریاز کونسل کا نام تبدیل کرکے ’’ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل‘‘ رکھ دیا اور یوں 1961ء میں پی ڈی نظام،1970ء میں مشاورتی کونسل جبکہ1975ء میں ناردرن ایریاز کونسل سے شروع ہونے والا سفر1999ء میں اپ گریڈ ہوکر ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل تک پہنچ گیا، ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل کی نویں مدت کے انتخابات14اکتوبر2004ء کو جماعتی بنیادوں پر منعقد ہوئے، جنرل (ر) پرویز مشرف نے 15دسمبر 2007ء کو گلگت بلتستان کیلئے چند ایک انتظامی و مالی مراعات کا اعلان کیا، جس کے مطابق لیگل فریم ورک آرڈر1994ء کو نیا نام دے کر اسے ناردرن ایریاز گورننس آرڈر کہا گیا۔

قانون ساز کونسل کو قانون ساز اسمبلی کا درجہ دیا گیا، ڈپٹی چیف کا عہدہ ختم کرکے چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ متعارف کرایا گیا۔۔۔۔ اور وفاقی وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کا عہدہ ختم کرکے چیئرمین شمالی علاقہ جات کا نام رکھ دیا گیا۔۔۔۔۔۔

مارچ2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی وفاق میں برسر اقتدار آئی۔۔۔۔۔ اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 2009ء میں گلگت بلتستان میں انتظامی و سیاسی اصلاحات کیلئے ایک کمیٹی قائم کی، قمر زمان کائرہ کمیٹی کے چیئرمین جبکہ ممبران میں وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، وزیر قانون، سیکریٹری قانون، سیکریٹری کشمیر و گلگت بلتستان، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی انٹیلی جنس بیورو شامل تھے (ان تمام عہدوں کو2009ء کی پوزیشن کے حوالے سے پڑھا جائے) طویل بحث و مباحثے کے بعد کمیٹی نے گلگت بلتستان امپاؤرمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر2009ء کا مسودہ تیار کرلیا اور وزارت انصاف و قانون نے اس مسودے کا جائزہ لیا اور29اگست2009ء کو وفاقی حکومت نے منظوری دے دی جبکہ صدر پاکستان نے7ستمبر2009ء کو گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر2009ء پر دستخط کئے، یوں علاقے کی پرانی شاخت گلگت بلتستان بحال ہوئی اور شمالی علاقہ جات کا نام گلگت بلتستان رکھ دیا گیا (واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 6نومبر1975ء کو گلگت بلتستان کا نام ناردرن ایریاز رکھ دیا تھا اور7ستمبر 2009ء کو تقریباً34سال بعد دوبارہ پاکستان پیپلز پارٹی نے شمالی علاقہ جات کی گلگت بلتستان کے نام سے شناخت دے کر کفارہ ادا کیا) کو انتظامی امور اور قانون ساز ی کے اختیارات دیئے گئے، صوبائی طرز پر گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزراء کے قلمدان متعارف کرائے گئے، گلگت بلتستان کیلئے باقاعدہ رولز آف بزنس وضع کئے گئے، علاوہ ازیں سیلف گورننس آرڈر2009ء کے آرٹیکل22کی رو سے سسٹم آف فنانشل مینجمنٹ اینڈ بجٹنگ بھی وضع کردیا گیا ہے۔۔۔۔

محترم مہمانان گرامی۔۔۔۔۔۔۔ موجودہ وفاقی حکومت نے بھی چھیڑ خانی کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے تاحال اس کا نتیجہ سامنے نہیں آیا اور گلگت بلتستان کے عوام کو شناخت دینے کا عمل بتدریج جاری ہے اور میرے ذاتی خیال میں دنیا کے اس واحد خطے کے عوام ہوں گے جو کسی ملک سے الحاق اوراس ملک کے آئین کو تسلیم کرنے کیلئے گزشتہ 70سالوں سے جدوجہد میں مصروف ہیں۔۔۔۔۔۔۔ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان بھر سے آئے ہوئے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے انتہائی ادب و احترام کے ساتھ صرف2گزارشات گوش گزار کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔۔۔۔۔

۱۔ گلگت بلتستان کے عوام کی معصومانہ جدوجہد (آئین پاکستان میں شامل ہونے کی ) کو تسلیم کرتے ہوئے کم مسائل اور زیادہ وسائل والے اس خطے تک آئین پاکستان کا اطلاق کرکے ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے اور اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی ریاست پاکستان سے الحاق کرنے کیلئے جدوجہد کرنے والے شہیدوں اور غازیوں کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے جبکہ اقتصادی راہداری منصوبے کے ذریعے سونے کی کان پر بیٹھ کر بھیک مانگنے والے بھی پانی، بجلی، صحت، تعلیم اور روڈ انفراسٹرکچر کی سہولتوں سے مستفید ہوسکیں۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے عوام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، گلگت بلتستان کے عوام کی قربانیاں بھی آپ سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام کی نظریں بھی2روزہ سی پیک کانفرنس پر مرکوز ہیں۔۔۔۔۔

جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت۔۔۔۔۔۔

ہم اپنے دیس جی بی کے حسیں پیکر میں رہتے ہیں

ذرا محلِ وقوع دیکھو زمیں کے سر میں رہتے ہیں

مری دھرتی کے سینے میں فقط سونا نہیں ہوتا

یہاں پر قیمتی پتھر ہر اک پتھر میں رہتے ہیں

زمیں کے حُسن اور چشموں کے میٹھے پن سے لگتا ہے

کہ جنت میں بھی ہم ، ہمسایہء کوثر میں رہتے ہیں

رجوع ہم سے کریں دیدو خبر صحرا نشینوں کو

کہ جلوے بانٹتے ہیں حسن کے دفتر میں رہتے ہیں

حیا داری کا دیتے ہیں سبق کو ہ و جبل میرے

کہ سر کہسار کے بھی برف کی چادر میں رہتے ہیں

پہاڑی سلسلے تینوں یہاں آپس میں ملتے ہیں

یہ دریا برف کے صحرا ہمارے گھر میں رہتے ہیں

یزیدی فوج میں اقوامِ ظالم کے سپاہی ہیں

مگر مظلوم اب بھی خیمہء حیدرؓ میں رہتے ہیں

محبت عام کر لینا دُکھی کارِ رسالت ہے

تعصب کے صنم سارے مری ٹھوکر میں رہتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔