مرحبا ! کریمی صاحب !

مرحبا ! کریمی صاحب !

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مولانا جلا ل الدین رومی ؒ نے منثوی میں ایک شعر کہا جو ضرب المثل کی صورت اختیار کر گیا اور زبان زد عام و خاص ہوا

خشک مغز و خشک تارو خشک پوست
از کجا می آید ایں آوازِ دوست !

برادر م عبدالکریم کریمی نے وادی غذر کے حوالے سے خوبصورت تحریر لکھ کر اس کو دلکش و دل پذیر تصویروں سے مزین کر کے دل کو خوش کر دیا ہمیں مولانا روم ؒ یاد آگئے دل نے کہا تیری آواز مکے اور مدینے! حقیقت یہ ہے کہ سہ ماہی فکر و نظر کا سلسلہ تعطل کا شکار ہونے کے بعد عبدالکریم کریمی ، حشمت کمال ا لہامی ، احسان علی دانش ، عبدالخالق تاج ، جمشید خان دُکھی اور دیگر اہل قلم کی تحریریں پڑھنے کو ترس رہے تھے وادی غذر پر کریمی صاحب کی تحریر نے تازہ ہوا کے جھونکے کا کام دیا ہم نے دل سے دُعا دی ’’ اللہ کر ے زور قلم اور زیادہ ‘‘

وادی غذر پر اب تک جو کچھ لکھا گیا وہ بہت کم ہے وادی ہنزہ پر اس کے مقابلے میں بہت مواد دستیاب ہے سوات ، مری اور چترال پر نسبتا زیادہ لکھا گیا ہے اگر عبدالکریم کریمی نے اس سلسلے کو جاری رکھا اللہ نے چاہا اور فکر ونظر کی اشاعت کا تسلسل ایک بار پھر جاری ہو گیا تو ’’خدا دے اور بندہ لے ‘‘ کے مصداق وادی غذر کے تعارف کا حق ادا ہوجائے گا اور سیاحوں کو بھی سیاحوں کی اصل جنت کا بخوبی علم ہوگا ساغر صدیقی نے بجا فرمایا

شاید یہیں کہیں ہو ا تیرانقش پائے ناز
ہم نے گرادیے ہیں سرِ رہگزا ر پھول

عبدالکریم کریمی صاحب نے پھنڈر اور دیگر مقامات کی جو تصویر یں دی ہیں وہ ’’نمو نہ مشتے ازخر وارے‘‘کہلا سکتی ہیں ورنہ وادی غذر میں شیر قلعہ ، گوپس ، یا سین سنٹر ، طاو س ، سندی ، ایمیت چٹور کھنڈ، پھکورا ، دائین،اشکومن ، ہندارپ اور شو نج جھیل ایسے مقامات ہیں جنکی خوبصورتی پورے پاکستان میں بے مثال بھی ہے ، بے نظیر بھی ہے اگر ہندا رپ کو نا روے سے تشبیہہ دی جاتی تو طاو س کو کشمیر کانام دیا جاتا

از فرق تا بقدم ہر کجا می نگرم
کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا اینجا ست

مشہور حکایت ہے با و غیس کو فرغانہ کا گرمائی دارلخلا فہ کہا جاتا تھا بادشاہ گر میوں میں باوغیس گیا تو اس کو فرغانہ بھول گیا درباری سب فرغانہ جانے کے لئے بے تاب ہوئے مگر بادشاہ کے سامنے کوئی زبان نہیں ہلاسکتا تھا رودکی نے ایک غزل کہی اور اپنی خوش آوازی میں بربط و نے کے ساتھ اس کو گایا تو بادشاہ بے ساختہ اُٹھ کھڑا ہوا درباری بھی بے ساختہ روا نہ ہوئے بہت دور جا کر احساس ہوا کہ بادشاہ نے با وغیس سے کوچ کیا ہے غزل کا مطلع یہ تھا

بو ئے جوئے مو لیاں آید ہمی
یاد یار مہر بان آید یمی

گلگت اور غذر کی مثال بھی فرغانہ اور باو غیس جیسی ہے راجہ غلام دستگیر ، راجہ محبوب علی خان اور راجہ مراد خان اور راجہ حسین علی خان غذر کے عاشقوں میں سے تھے ہم بھی وادی غذر کے عاشق و دلدادہ ہیں مسئلہ یہ ہے کہ غذر کی تعریف کہاں سے شروع کی جائے عبدالکریم کریمی صاحب نے اچھی شرو عات کر کے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے مرحبا عبدا لکریم کریمی صاحب!

حسنِ گل تو بیسیار و دامن نگہ تنگ
گلچین بہار تو زتنگی داماں گلہ دارد

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔