کریمیؔ ، ایک خوبرو دلبر سا نوجوان

کریمیؔ ، ایک خوبرو دلبر سا نوجوان

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: سلمیٰ اعوان، لاہور

اُس دن میری آفس ٹیبل پر ڈاک سے آنے والے خطوں اور رسائل کا ڈھیر معمول سے زیادہ تھا۔ میں نے کھولنے اور دیکھنے شروع کیئے۔ پھر ایک جاذب نظر پرچہ میرے ہاتھوں میں چمکا۔

سہ ماہی ’’فکرونظر‘‘ اپنے خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ میری پوری توجہ کھینچ رہا تھا۔ اس کی پیشانی پر میرے محبوب شہروں غذر، گلگت، بلتستان اورچترال کے نام درج تھے۔ اور ایک خوبرو دلبر سا نوجوان اس کی چیف ایڈیٹری سنبھالے بیٹھا تھاعبدالکریم کریمیؔ ۔

تفصیلی مطالعے سے پہلے ہمیشہ صفحات کی پھولا پھرولی ہی ہوتی ہے۔ جو میں نے معمول کے انداز میں کی اور اندرونی صفحات میں اپنے پسندیدہ لوگوں یوسف حسین آبادی، شیرباز علی برچہ، عبدالخالق تاج، شمیم بلتستانی، کمال الہامی، محمد امین ضیا کو دیکھتے ہی بہت سی یادوں کے دریچے وا ہوگئے۔ 1986ء کا زمانہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ جب میں اپنے ملک کی اِن جنت نظیر وادیوں میں گھومتی پھرتی اپنے سفرناموں کے لیے مواد اکٹھا کرتے پھرتی تھی۔

تب دفعتاً ہنستے ہوئے میں نے خود سے پوچھا تھا۔

’’ارے! اُس وقت یہ پیارا سا عبدالکریم کریمیؔ کہاں تھا؟‘‘ اور میرے اندر نے جواب دیا تھا۔ ’’ارے بھئی! ہوگا کہیں بصرہ کھیلتا اور بستہ گلے میں ڈالے منہ بسورتے ہوئے ماں سے کہتا ہوگا۔ میں نے آج شکول نہیں جانا۔‘‘

پرچہ بہت خوبصورت تھا۔ علاقے کا نمائندہ تھا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ان سنگلاخ پہاڑوں سے گھری وادیوں میں اِس نوجوان نے قومی زبان میں علم و ادب کا جھنڈا لہرایا ہے۔ فون پر مبارکباد دی اور اِن کاوشوں کو سراہتے ہوئے دُعائے خیر سے نوازا۔

کچھ دنوں بعد ایک کتاب موصول ہوئی۔ ’’تیری یادیں‘‘ سرورق پر جو شاعری تھی۔ اُسی میں شاعر اپنے اندر کے خوبصورت رنگوں سے باہر آگیا تھا۔ دل کو چھونے والی شاعری۔ غنائیت سے بھری ہوئی۔ میں نے کتاب کے اندر گُھسنے سے پہلے ’’مجھے تم یاد آتے ہو‘‘ پڑھی۔ درد اور رومان میں ڈوبی ہوئی۔ مجھے کیٹس یاد آیا تھا۔ شیلے یاد آیا تھا۔ حُسن اور محبت کے شاعر اور جو کتاب میرے ہاتھ میں تھی۔ اس کا زیادہ حصہ حُسن و عشق کی شاعری پر مبنی تھی۔ جہاں جذبات و احساسات کی فراوانی تھی۔ یوں تو شاعر عمر کے جس حصے میں ہے وہاں ایسی ہی شاعری سے ابتدا ہوتی ہے۔ گُل و بُلبُل کے نالے سنے جاتے ہیں۔ غم روزگار دُنیا تو کہیں بعد میں طبع آزمائی کے موضوع ہیں۔ ذرا دیکھئیے تو شاعر کی رنگین طرحدار شخصیت کیسے سامنے آئی ہے۔ جیسے ؂

سبھی صفحوں میں اُجاگر ہیں تیری تحریریں

کتاب دیکھوں تو چہرہ دکھائی دے تیرا

کمال حُسن میں شامل ہے تیری زیبائی

شباب دیکھوں تو چہرہ دکھائی دے تیرا

یوں غزلوں میں کہیں موضاعاتی تنوع بھی ہے۔ اپنے اردگردکی کڑی حقیقتوں کا رنگ بھی ہے جو یقیناًآنے والے وقتوں میں زیادہ کُھل کر سامنے آئے گا۔

کریمیؔ چونکہ نثر میں بھی طبع آزمائی کررہے ہیں۔ کالم لکھتے ہیں۔ افسانے پر بھی قلم اُٹھایا ہے۔ ایڈیٹری جیسے مشکل کام میں بھی داخل ہوگئے ہیں۔ ادب کی یہ اتنی ساری جہتیں۔ مگر مجھے اُمید ہے کہ وہ ان میں بھی نام پیدا کریں گے۔ ان کا تعلق جس جگہ سے ہے میدانی علاقے کا قاری اُس کے بارے میں کم جانتا ہے۔

کریمیؔ سفرنامہ بھی لکھ رہے ہیں۔ ’’یہ میرا گلگت بلتستان‘‘ کے نام سے۔

ایک چھوٹی سی درخواست بھی ہے اگر وہ اپنے سفرنامے کو کوئی نیا نام دیں تو مہربانی ہوگی۔ 1987ء میں بلتستان پر جو میرا ناول چھپا تھا۔ اُس کا نام یہ’’میرا بلتستان‘‘ ہی ہے۔

’’میرا گلگت و ہنزہ‘‘ 1988ء اور ’’سندر چترال‘‘ غالباً 1990ء میں چھپے تھے۔ ابھی ان کے نئے ایڈیشن مارکیٹ میں آئے ہیں۔ کریمیؔ تو فرزندِ زمین ہیں ان کی تحریر میں زیادہ سچائی اور ثقافتی رنگ زیادہ گہرا ہو گا۔

بہت ساری نیک تمناؤں اور دُعاؤں کے ساتھ کہ آنے والے وقتوں میں اس نوجوان کی شاعری نکھرتی جائے۔ اُس کا سہ ماہی پرچہ ہر دل عزیزی کی منزلیں طے کرتا جائے اور وہ اُردُو ادب میں بہت نام اور عزت کمائیں۔ آمین!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔