سی پیک اور ٹوپی

سی پیک اور ٹوپی

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنا کلچر سے سب کو پیار ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کلچر کی رٹ تو لگاتے ہیں لیکن کلچر کی ترویج پہ جب بات آتی ہے تو کہا یہ جاتا ہے کہ چھوڑیں جی  یہ چیزیں اب پرانی ہو چکی ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ یہ تو ماضی  کی یاد گاریں ہیں  اب جدید دور میں ان کا کیا کام۔ ٹوپی  ہی کو لے لیں  جس کے بارے   شینا زبان میں جو محاورے ہیں ان سے   اس کی اہمیت اجاگر ہو جاتی ہے۔جیسے کھوئی پائوٹ ویوک، کھوئی بدلی، کھوئی بنروک اور بہت سارے،اب ان محاوروں پہ ذرا غور کریں۔کھوئی پائوٹ ویوک یعنی اگر کوئی بہت ہی ناراض ہو جائے یا بہت ہی غصے میں ہو تو ایسے میں دوسرا شخص اپنی ٹوپی جھک کر اسکی پائوں کی طرف لے جاتا ہے ایسے میں دوسرا شخص  عزت کے طور پر اپنا غصہ ٹھنڈا کر لیتا ہے یعنی  ناراض ہونے والے نے   اس شخص کی خاطرٹوپی کی لاج رکھی  ۔دوسرا محاورہ  کھوئی بدلی ہے ۔جس سے دوستی کا رشتہ لا زوال کیا جاتا ہے۔اس کھوئی بدلی میں جب   دو افراد  آپس میں ٹوپیاں  ایک دوسرے کو پہناتے ہیں تو   ان کا آپس میں  پکی  بھائی بندی کارشتہ قائم ہو جاتا ہے  جو مرتے دم تک نہیں ٹوٹتا۔ٹوپی پہنانا بھی ہماری روایات میں  بڑا اہم سمجھا جاتا ہے۔جس کو ٹوپی پہنائی جا رہی ہوتی ہے اسے خاص  عزت   کا مقام حاصل ہوتا ہے۔پُرانے وقتوں میں ہمارے آبا و اجداد ان ہی اصولوں کے تحت اپنی ٹوپی کا استعمال کرتے تھے اور ٹوپی نہ پہنا  معیوب سمجھا جاتا تھا لیکن  وقت کے دھارے میں یہ ساری رویات بہہ گئی ہیں۔ اب  نوبت یا حالت  یہاں تک پہنچی ہے  کہ ٹوپی ایک مذاق بن کر رہ  گئی ہے۔اب ٹوپی پہنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔اگر کوئی ناراض ہوجائے ہماری بلا سے ٹوپی ہی سر پر نہیں تو جھک کر اسے کیسے منایا جائے اور کھوئی بدلی اب نا پید ہو چکی ہے اب غرض کی دوستی ہو جاتی ہے یا کی جاتی ہے۔ رہی بات ٹوپی پہنانے کی اس میں اب سب ماہر ہوگئے ہیں ۔ جس کا  آپ آئے روز تماشہ دیکھتے ہیں ۔ہم سب کو ٹوپیاں پہنائے جا رہے ہیں لیکن بدلے میں   ہمیں کوئی ٹوپی پہنانے کا نام ہی نہیں لیتا۔کوئی ہمیں ٹوپی پہنائے تو کیونکر ہم نے خود ہی ٹوپیاں  پہنا چھوڑ دیا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ  گلگت میں منعقدہ  دو روزہ سی پیک کانفرنس میں کس نے کس کو ٹوپی پہنائی ہے۔لیکن بھلا ہو پاکستان سے آئے ہوئے صحافی  سلیم صافی کا جس نے گلگت بلتستان کے لوگوں کے سر وں پر     ڈبل کلغی والی  ٹوپی  رکھی جس  کا کوئی جواب نہیں ۔سلیم صافی نے نہ صرف  اپنی عزت  بڑائی بلکہ   ہمارا  بھی مان رکھا۔اب  ہمیں  یہ امید  رکھنی چاہئے  کہ سفید ٹوپی  بمعہ  شانٹی  پہنے والے    بھی ہمیں سفید ٹوپی نہ سہی کوئی برون یا کسی اور رنگ کی ٹوپی پہنانے کا بندوبست ضرور کرینگے۔

امید اس لئے     کہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے    سی پیک کانفرنس کے فوراً بعدیہ اعلان کر دیا ہے کہ یکم ستمبر سے   گلگت  بلتستان میں ٹوپی ڈے منایا جائیگا۔اس اعلان سے اندازہ یہی ہو رہا ہے کہ جن کو ٹوپی پہنائی گئی ہے  ان کے دلوں میں بھی یہ بات آگئی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ٹوپی پہنائئے بغیر بات نہیں بنے گی۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنی ٹوپیوں کا خیال رکھنا چاہئے اور  اس کو  اپنے سر سے جدا ہونے نہ دیں یاد رہے ٹوپی ہماری عزت اور وقار ہے اور اگر  یہ عزت اور وقار بھی ہم سے چھن گیا تو ہم کہیں کے  نہیں  رہینگے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔