کہ دورظلم کے ہوتے ہیں مختصر سارے۔۔۔۔۔

 کہ دورظلم کے ہوتے ہیں مختصر سارے۔۔۔۔۔

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان میں بھی ملک بھر کی طرح یوم دفاع پاکستان روایتی جوش و خروش سے منایا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ گلگت بلتستان کے جانبازوں نے1948ء، 1965ء، 1971ء اور 1999ء کی کارگل جنگ میں جس بہادری، شجاعت اور دلیری کا مظاہرہ کیا ہے وہ اظہر من الشمس ہے اور گلگت بلتستان کے عوام بھی اپنے جانباز، نڈراوربہادر افواج کے شانہ بشانہ ملک کی تعمیر و ترقی اور دفاع وطن کیلئے ہر قسم کی قربانیوں کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔۔۔۔۔۔

میں بھی اہل وطن کو یوم دفاع پاکستان کے پرمسرت دن کے موقع پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے وطن عزیز کی سلامتی اور ترقی کیلئے دعا گو ہوں۔۔۔۔۔۔اب زرا دوسرا موضوع۔۔۔۔۔

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ گئی گزری صحافتی زبان بھی ’’عمدہ سیاسی زبان‘‘ کے مقابلے میں ’’مہذب‘‘ لگتی ہے۔۔۔۔۔ پوری صحافت مل جل کر پورے ایک سال میں بھی وہ تماشہ نہیں لگاسکتی، جو سیاستدان ایک سیشن میں لگادیتے ہیں۔۔۔۔

میں خود صحافی ہوں اور صحافت کی تمام تر اذیت کے باؤجود میرے سامنے کئی ایک دیگر آپشن رکھ دیئے جائیں تو میں اسی پیشے کا انتخاب کرنے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گلے شکوے غیروں سے نہیں، بلکہ اپنوں سے ہوتے ہیں اسی طرح مجھے بھی اپنی صحافتی برادری سے وقتاً فوقتاً گلے شکوے اور شکایتیں رہی ہیں اور میرے پیٹی بند بھائیوں (صحافیوں) کو مجھ سے بھی شکایتیں رہی ہوں گی، اپنے اپنے انداز میں ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ ان شکوؤں، شکایتوں کا اظہار بھی کہا ہے تاہم شائستگی اور حدود و قیود کو بھی تجاوز نہیں کیااور جن دوستوں نے تجاوز کیا ان کے ضمیر نے ضرور ملامت کیا ہوگا۔۔۔۔۔

مجھے اس بات کا یقین ہے کہ صحافت ایسے ایسے لوگوں کے وجود کا ذمہ دار بلکہ گنہگار ہے جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔۔۔۔۔جو کہیں بھی نظر نہیں آتے۔۔۔۔۔۔ مقامی اخبارات میں زندہ ہیں یا نظر آتے ہیں۔۔۔۔ اگر ہم ایک بات پر متفق ہوجائیں کہ ان سیاسی فرعونوں کو صحافتی مصالحہ لگا کر محفوظ نہیں کرتا اور ان بے جان وجودوں کو حنوط کرکے ’’باکسز‘‘ میں نہیں سجانا تو شاید ان میں سے 90فیصد تو چند ہفتوں کے اندر قصہ پارینہ بن جائیں گے۔۔۔۔۔۔ سیاستدان۔۔۔۔۔ صحافت اور صحافیوں کو ادب، آداب، تہذیب سکھانے، ضابطہ اخلاق اور حدود و قیود کیلئے قانون سازی کرتے ہیں، لیکن ہم صحافی یا صحافتی ادارے سیاستدانوں کو ادب، آداب سکھانے، ان کیلئے حدود و قیود کا تعین کرنے اور انہیں اخلاقیات کا ہیوی ڈوز(Heavy Dose)دینے کا فیصلہ کیوں نہیں کرپائے۔۔۔۔۔۔

عیسیٰ حلیم نے کون سا ایسا جرم کیا تھا کہ معذز ایوان کے ڈپٹی سپیکر کو اتنا غصہ چڑھ گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر قتل کی دھمکیاں دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔

اس طرح کی صورتحال کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے جب کسی صحافی بہت بڑی غلطی سرزد ہو۔۔۔۔ کسی کے ذاتی کردار پر رائے زنی کا مرتکب ہو یا خدانخواستہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کا مرتکب ہوا ہو۔۔۔۔۔ ایک سیدھا سادھا کالم جس میں کچھ حکومتی کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی تھی کو بنیاد بناکر ایک سینئر صحافی کو مبینہ طور پر قتل کی دھمکیاں دینا یقیناً’’الارمنگ‘‘ ہے اور اس طرح کے ماحول میں کام کرنے کیلئے صحافیوں کو جنگی محاذ والا لباس پہن کر دفتروں میں بیٹھنا یا فیلڈ میں کام کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔

جب یہ لوگ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو میڈیا کے گن گاتے ہیں اور جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو میڈیا کھٹکتا ہے، تنقید ناقابل برداشت ہوتی اور صحافی ازلی دشمن لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔

کیا صحافی اور صحافتی حلقے اتنی جلدی بھول چکے ہیں کہ سید مہدی شاہ جب اقتدار میں تھے تو سکردو میں ایک مقامی روزنامے کے دفتر پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی اور گلگت میں بھی ان کے جیالے سکردو والا ایکشن دہرانے نکلے تھے تاہم کہیں سے مداخلت نے روزنامہK2گلگت آفس کو بچالیا۔۔۔۔۔۔

میڈیا ہاوسز مہدی شاہ دور کے اس اقدام کو بھی نہیں بھولے جب انہوں نے مقامی اخبارات کے ساتھ روایتی محبت اور خلوص کا مظاہرہ کرتے ہوئے جون2014ء میںNISجاری کئے جانے کے بعد سیکریٹری فنانس کو خصوصی احکامات دے کر اخبارات کو جاری کردہ ایک کروڑ روپے لیپس(LAPS)کروادیئے تھے۔۔۔۔

صحافی اور صحافتی ادارے زخم در زخم جیسی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔۔۔۔۔

کہنے کو تو مقننہ ،انتظامیہ، عدلیہ اور صحافت ہی ریاست کے چار ستون ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا کردار متعین ہے، لیکن جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو، وہواں مخصوص حالات ہوتے ہیں اورمخصوص حالات میں تو مخصوص حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔۔۔۔

جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت۔۔۔۔۔۔۔

گلوں کے ہوگئے دامن لہو سے ترسارے

کہاں گئے ہیں نہ جانے یہ دیدہ ور سارے

چمن میں جس پہ عنا دل کا آشیانہ تھا

عدو نے کاٹ لئے ہیں وہی شجرسارے

میرے چمن کی تباہی میں پیش پیش تھے جو

وہی ہیں امن کی محفل میں جلوہ گر سارے

لگاکے آس میں بیٹھا تھا رہبروں سے مگر

عدو نے لوگ خریدے ہیں معتبر سارے

طوع صبح سے جمشید ناامید نہیں

کہ دورظلم کے ہوتے ہیں مختصر سارے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔