دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پر احسان جو نہ کرتے تو یہ احسا ن ہوتا

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پر احسان جو نہ کرتے تو یہ احسا ن ہوتا

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : شمس الحق قمر

ہم وزیر اعظم کے مشکور ہیں کہ چترال تشریف لائے ، اعلانات فرمائے ۔ یونیور سٹی کا قیام ، بجلی کی ترسیل ، بونی مستوج روڈ، موڑکہو روڈ، تور کہو روڈ ، ہسپتال کے قیام کا اعلان اور لواری ٹینل منصوبے کی اگلے سال تک تکمیل بہت ہی خوش ائیند باتیں ہیں ۔ یہ وہ منصوبے ہیں جن سے چترال میں ترقی کی رائیں کُھل سکتی ہیں اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہی عوامل ہیں جو راہنماؤں کو عوام کے قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ چترالی قوم نے اُن تمام راہنماؤں کے احسانات کو فراموش نہیں کیا ہے جنہوں نے خلوص سے احسان بھیکیااور کسی بھی حالت میں اُس احسان کو جتاتے کی کوشش نہیں کی ۔ چترالی قوم کی حب الوطنی اور ا حسان شناسی کے چرچے پوری دنیا میں مشہور ہیں ۔ برصغیر کے مسلمانوں پر جب ہندوں نے حیات تنگ کی تو اس خطے کے مسلمان راہنماؤ ں نے اپنے طرز پر جینے کے لئے الگ ملک بنانے کے لئے بے مثال قربانیاں دینی شروع کیں انسانی خون کی ہولی کھیلی گئی لیکن انہی مسلمانوں میں سے کچھ شرف أ ایسے بھی تھے جو آستین کے سانپ بن گئے تھے۔آستین کے اُن زہریلے سانپوں کا ذکر اس وقت مقصود نہیں ہے ۔تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اُس وقت چترال لواری اور شندور کے بیچوں بیچ ایک پُر امن ریاست تھی جہاں مسلمان اپنے اسلامی عقاید کے مطابق اپنی زندگیاں گزاررہے تھے انہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں تھی اس کے باوجود بھی جب قربانی کا تقاضا ہوا تو چترال پاکستان کے حصے میں آنے والی وہ پہلی ریاست تھی جس کے حکمران نے انہی چترالیوں کی جمع پونجی سے پاکستان بنانے والوں کو نہ صرف شاہی خزانے سے خطیر رقم چندے کے طور پر دیا بلکہ پاکستان میں ضم ہونے والی پہلی ریاست کا اعزاز بھی حاصل کیا ۔

احسان شناسی کی بہترین مثال یہ ہے کہ ۱۹۷۰ کی دہائی میں ضلع چترال جب قحط کا شکار ہوا تو عالمی شہرت یافتہ سیاسی راہنما جنا ب ذولفقار علی بھٹو مرحوم نے بذریعہ جہاز اناج پہنچا کر عوام کی جانیں بچائیں تو چترال کے عوام نے بلا تفریق پارٹی ، زبان ، مذہب اور نسل بھٹو خاندان کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے رکھا ۔ ۱۹۷۰ کی دہا ئی ہی میں ذولفقار علی بھٹو ( مغفور و مرحوم) نے اپنی دور اندیشی اور اعلی ٰ مثالی سیاسی بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے لواری منصوبے پر کام شروع کیا اور چترالیوں کے دلوں پر اپنے خاندان کی حکومت کی راج قائم کردی ۔ چترال کا ہرباسی چاہے اُس کا تعلق کسی بھی مخالف سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو سردیوں میں سر تا پا برف سے ڈھکی لواری کے ٹینل سے گزرتے ہوئے بھٹو کی روح کے ایصال ثواب کے لئے ضرور دعا کرتا/ تی ہے ۔یہ حکومت جب جب بھی بر سر اقتدار آئی چترال کے دکھ کو اپنا دکھ اور چترا ل کے سکھ کو اپنا سکھ سمجھتی رہی ۔ ۱۹۷۰ کی دہائی ہی میں ذولفقار علی بھٹو صاحب جب مستوج تشریف لائے تو معتبرات سے مصافحہ کرتے ہوئے اُن کی مادری زبان میں ( کچہ اسوس جام اسوسہ ؟) بول کے ہر ایک سے مصافحہ کرتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی زبانوں میں’’ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ‘‘کا نعرہ ہے

چترالی قوم کی احسان شناسی کی دوسری مثال ایک فوجی ڈیکٹیٹر سے جنون کی حد تک محبت ہے ۔ پرویز مشرف نے اپنی آنتھک کوششوں سے چترال کے لئے دو بڑے کام کئے جو کہ گلگت مستو ج روڈ اور لواری ٹنل پر از سر نو کام اور اُس کی تکمیل ہے ۔ چترال میں جب بھی گلگت مستوج روڈ یا لواری ٹینل کی بات ہوتی ہے تو جنرل مشرف کا نام بڑے احترام کے ساتھ ہر زبان پر ضرور آتا ہے ۔بہت سارے لوگ اس لئے بھی پرویز مشرف کو پسند کرتے ہیں کیوں کہ وہ اس علاقے کے لوگوں سے عزت و احترام کے ساتھ ملتا تھا ۔ یہی نہیں بلکہ اُن کے ساتھ رقص میں بھی شامل ہوتا تھا ۔ مشرف سے محبت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے ہ وہ متعدد بار شندور تشریف لائے اور اپنی ہر تقریر میں انہوں نے چترالیوں کی تہذیب ، اخلاق، تعلیم اور انسان دوستی و مہمان نوازی کی دل سے تعریف کی ۔

چترالی قوم ظاہری طور پر غریب ، اَن پڑھ اور حد درجہ سادہ لوح ضرور نظر آتی ہے لیکن جب بات عزت کی آتی ہے تو اپنے وقت کے کسی بھی فرعوں کے سامنے سر نہیں جھکاتی ۔ عزت و آبرو کے ساتھ بھوکی اور ننگی رہ سکتی ہے لیکن احسان کرکے پھر جتانے والوں سے کبھی بھی مدد کے خواہاں نہیں ہوتی

۔ میڈیا میں وزیر اعظم کا دورہ چترال زبان زد خاص و عوام رہا ۔ ٹیلی وژن والے چسکا لے لے کر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کا چترالیوں سے خطاب بالکل الگ تھا ۔ ٹیلی وژن والوں کا تجزیہ اور تبصرہ بالکل درست اور حقیقت پر مبنی ہے ۔ ہمیں بھی ایسا ہی لگا جیسے وزیر اعظم صاحب کسی پہاڑی کے دامن میں جاکر چراوہوں سے بات چیت کر رہے تھے ۔ قابل صد افتخار جناب وزیر اعظم صاحب کو دلی آسودگی ہوئی تھی کہ اُن کی معلومات کے مطابق چترال کے چند ایک لوگ آجکل اُردو جاننے لگے ہیں ۔ میں نے ذاتی طور پراس جملے سے یہ معنی اخذ کیا کہ اشرف المخلوقات میں شمار ہونے کے لئے ، تعلیم یافتہ کہلائے جانے کے لئے یا ترقی یافتہ قوم ہونے کی پہچان کے طور پر اُردو جاننا ضروری ہے ۔ بصورت دیگر پاکستان میں رہنے والی کوئی بھی قوم تعلیم یافتہ پاکستانی کہلائے جانے کا قطعی طور پر مستحق نہیں ہے۔

چترال کے خاموش اور ہشیار عوام کو اُردو زبان کی کسوٹی پر پرکھ کر اُنہیں تعلیم یافتہ یا ترقی یافتہ قوم گرداننا وزیر اعظم صاحب کا قصور نہیں ۔ یہ موصوف کے اُن علاقائی وزرأ اور مشیروں کا کمال ہے کہ جو نو وارد مہمانوں کو اُلٹی چیزیں سیکھاتے ہیں ۔ موصوف کے مشیروں کا فرض تھا کہ وہ چترال کی شرح خواندگی کا اول خود ادراک رکھے ہوتے اور پھر ہمارے معززمہمان کے کان میں ٹھونسے ہوتے ۔ بلکہ ہمارا مشورہ یہی ہوگا کہ وزیر اعظم صاحب پاکستان کے کسی اور علاقے کا دور ہ اگر فرمانے والے ہوں تو پہلے اُس خطے کے لوگوں کے مزاج، اُن کی تاریخ ، زبان ، ثقافت اور شرح خواندگی کے حوالے سے ضرور جانکاری حاصل کریں ۔ اگر کسی ملک کے سربراہ کو یہ معلوم نہ ہو کہ اُ س کے ملک کے کسی صوبے یا ضلعے میں شرح خواندگی کتنی ہے تو وہ اُ س جگہے کی ترقی کے لئے کیسے کام کر سکتا ہے ۔ ہم وزیر اعظم سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے لئے کچھ نہ کرے اور نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم پر جناب سے صرف ایک احسان کے متقاضی ہیں اور وہ احسان یہ کہ ہم پر کوئی احسان نہ کرے ۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author