حکمرانوں کی بے بسی ایک قومی المیہ

حکمرانوں کی بے بسی ایک قومی المیہ

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مقامی اخبارات میں بیان دیتے ہوئے سینئر وزیر صاحب فرماتے ہیں کہ سی پیک میں حقوق دلانا،سکردو روڈ کی تعمیر اور آئینی حیثیت کا معاملہ ہمارے بس کی بات نہیں ۔یاد رہے اس سے پہلے سپیکر بھی اقرار کر چکے ہیں کہ انکی حیثیت ایک مینڈک سے بڑھ کر نہیں ہماری آواز سُننے والا کوئی نہیں۔ یعنی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے معاملات اور حقوق کی بات کریں موجودہ اسمبلی کو صرف داخلی معاملات میں وزیر امور کشمیر کی رضامندی سے قانون سازی کا اختیار ہے۔ جیسے قومی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والوں پر غداری کا مقدمہ درج کرنا۔ متازعہ خطے کی زمینوں کی بندر بانٹ کو قانون ساز سمجھ خاموش رہنا، عوام کو ڈرانے کیلئے شیڈول فور اور نیشنل ایکشن پلان نامی ہتھوڑے کو جو کہ قانون کے مطابق گلگت بلتستان میں نافذ ہونا ہی غیر قانونی ہے اسے استعمال کرنا وغیرہ وغیرہ۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے گلگت بلتستان کے حکمرانوں کو جو تقریبا سالانہ 15 ارب سے ذیادہ کا رقم مراعات اور اور تنخواہ کی مد میں اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں لیکن انکے پاس قوم کو دینے کیلئے سوائے جھوٹے وعدوں کے کچھ نہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے اہم عہدے داروں کی ماضی سے لیکر آج تک کے بیانات اور بے بسی کے داستانوں کا ذکر کریں تو ایسا لگتا ہے کہ انکا کام صرف اور صرف مراعات وصول کرتے ہوئے قومی شناخت اور 28 مربع میل رقبے کو گھر کی لونڈی سمجھ کر دوسروں کی جولی میں ڈال کر خود کو محب الوطن ظاہر کرنا ہے، حالانکہ حب الوطنی کا مطلب اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرنا ہے نہ کہ دوسروں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بندر کی طرح ناچنا۔ افسوس کی بات ہے کہ اراکین قانون ساز اسمبلی کی موجودہ حیثیت اس بندر کی سی ہے جو مالک کے کہنے پر ڈھول ٹھاپ پر رقص کرتے ہوئے داد وصول کرتے ہیں اگر ایسا نہیں تو عوام ہی بتائے کہ مہدی شاہ کی حکومت سے لیکر قاری کی حکومت تک کے سفر میں اس خطے کے عوام کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئی۔؟ البتہ قاری حفیظ کے آنے سے گلگت بلتستان میں قتل غار گری کا جو بازار کھلا تھا وہ کم ہوگئے کیونکہ یہی وفاق کی پالیسی تھی کہ سی پیک کی تکمیل تک چائنا کو یہ باور کرانا تھا کہ یہاں اب امن قائم ہوچکی ہے یعنی اس وقت تخت گلگت کے والی دہشتگردوں کے فیورٹ ہیں لہذا اب سیکورٹی کا معاملہ ٹھیک رہے گا جسکا اقرار فورس کمانڈر نے بھی اپنے اخباری بیانات میں کیا تھا۔ یعنی گلگت بلتستان کے عوام دوسروں کی مفادات کیلئے ایک طرح سے قربانی کا بکرا ہے جسے ضرورت پڑنے پر ذبح بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے حکمران تمام تر صورت حال کو سمجھنے کے باوجود مراعات کو چھوڑ کر قومی حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار نہیں جو کہ ایک قومی المیہ اور حکمرانوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان ہے۔ افسوس ہمارے حکمران وفاق پاکستان سے مطالبہ کرتے کہ اگر سی پیک کو کامیاب بنانا ہے تو ہمیں قانون سازاسمبلی کے بجائے مسلہ کشمیر کی ممکنہ حل تک کیلئے آئین ساز اسمبلی دیں ،ہمارے عوام کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنانے کے بجائے بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقوق دیں، لیکن یہ لوگ اپنے نفس کی غلامی میں اتنا غرق ہوچکے ہیں کہ انکے اندر اتنی ہمت نہیں کہ اپنے آقاؤں کے سامنے آنکھ اُٹھا کر بات کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت وفاق پاکستان گلگت بلتستان میں بننے والے سرکاری ہسپتالوں اور داخلی سڑکوں کو بھی سی پیک کے ثمرات میں شامل کرکے ہمارے عوام بیوقوف بنا رہے ہیں۔ اور کہا یہ جارہا ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی اکنامک زونز ابھی قابل غور ہیں جبکہ پاکستان کے آئینی صوبوں میں بننے والے اکنامک زونزز کے بارے میں باقاعدہ اعلان ہوچکے ہیں۔ یہ تمام صورت واضح طور پر نظر آنے کے باوجود ہمارے بیوقوف حکمرانوں نے رٹ لگا رکھی ہے کہ ہمیں بھی سی پیک سے فائدہ ہوگا جبکہ پاکستان کے کئی میڈیا ہاوسز اور صحافی کئی بار اس جھوٹ کو بے نقاب کرچُکے ہیں کہ گلگت بلتستان کو سی پیک گیٹ وے کا اعزاز حاصل ہونے کے باوجود یہ خطے اس اہم پروجیکٹ سے مستفید نہیں ہوپائے گی۔ لہذا وزیر اعلیٰ ہو یا اسپیکر، سینئر وزیر ہو یا گورنر ان سب کو چاہئے کہ اگر آپ لوگ واقعی میں آپ لوگ دھرتی ماں گلگت بلتستان کے محب وطن باشندے ہیں تو برائے مہربانی اب مقامی طور پر واویلا مچانے کی دنیا سے باہر نکل کر اعلان کرنا ہوگا کہ آئین ساز اسمبلی ہمارا حق ہے، سی پیک پروجیکٹس پر ہم سے مزید جھوٹ نہ بولا جائے،پیکج کے نام پر یہ لالی پاپ دینے کا ڈرامہ اب بند کرکے بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو مسلہ کی ممکنہ حل تک کیلئے داخلی خود مختاری کو یقینی بنائیں ورنہ آپ لوگ بقول اسپیکر ناشاد کے مینڈک ہی رہیں گے۔ اور آنے والی نسلیں آپ لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔لہذا اپنی حیثیتاور بین الاقوامی جعرافیائی اہمیت کو سمجھ کر فیصلے کریں تو آج آپ اگر این سی پی(نان کسٹم پیڈ) وزیر کے عہدے پرفائز ہیں تو کل ایک بااختیار وزارت کی عہدوں کے ساتھ خود کو دنیا کے سامنے کھڑے ہونگے۔ شکریہ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔