شہادت گھول دے جام و سبوُ میں۔۔۔۔۔

شہادت گھول دے جام و سبوُ میں۔۔۔۔۔

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پاکستان اور گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی سمیت اقتصادی راہداری منصوبے کیخلاف کبھی کھل کر اور کبھی کبھار دبے الفاظ میں مخالفت کرنے والے عناصر کو 10ستمبر2010ء کے ضمنی انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار کرکے ہنزہ کے عوام نے واضح پیغام دیا کہ منفی سوچ رکھنے والے عناصر کیلئے ہنزہ میں اب کوئی پذیرائی نہیں ملے گی۔۔۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ایک واضح اکثریت نے قیام پاکستان کے بعد ہندؤوں او رڈوگروں کیخلاف علم بغاوت بلند کیا اور بغیر کسی بیرونی مدد، وسائل کی عدم دستیابی اور بے سرو سامانی کے باؤجود اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمن جو اُس وقت کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس تھا کو مار بھگایا اور28ہزار مربع میل پر محیط علاقہ آزاد کرانے کے بعد غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کردیا اور یوں ہندوستان کے ساتھ اپنی نفرت اور پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا برملا اظہار کیا۔۔۔۔۔۔۔

اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر کے مقابلے میں گلگت بلتستان میں پاکستان مخالف عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں اور اگر وقتاً فوقتاً اس طرح کی موومنٹ کے کہیں آثار نظر بھی آئے ہیں تو عوام نے ایسے عناصر کا سرکچل دیا ہے۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے عوام کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے ’’گیٹ وے‘‘ کی حیثیت رکھنے والے اس خطے (گلگت بلتستان) میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔

بھارت کو تکلیف ہورہی ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے سے نہ صرف پاکستان معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ہوگا بلکہ اس کے ثمرات گلگت بلتستان کے کونے کونے تک پہنچ جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔

بھارت نے گلگت بلتستان کے کچھ ایسے عناصر جو عوامی غیض و غضب سے بچنے کیلئے بیرون ملک فرار ہوگئے تھے اور جن کیلئے ’’پاک سرزمین‘‘ تنگ کردی گئی ہے کو میڈیا میں لاکر تاثر دینے کی ناکام کوشش کی ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی ہمارے ہمدرد موجود ہیں۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے عوام نے نریندر مودی کی اس غلط فہمی کو فوری دور کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے طول و عرض میں ان کے پتلے جلائے اور واضح پیغام دیا کہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی اپنے تمام تر اندرونی اختلافات کو بھلا کر ا پنے ازلی دشمن ہندوستان کے خلاف متحد ہیں اور دشمن کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے اپنے بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔

اس کے باؤجود بھی ہندوستان نے گلگت بلتستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سری نگر تک گھس جائیں گے اور ہندوستان کو یہ معلوم ہوناچاہئے کہ1947ء اور1948ء میں گلگت بلتستان کو آزاد کرانے کے بعد گلگت سکاؤٹس کے بہادر جوان سری نگر کے قریب پہنچ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، گلگت بلتستان کے مثالی امن کے بارے میں نہ صرف قومی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی تبصرے ہورہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کی بھارتی چالیں دم توڑتی نظرآرہی ہیں، بھارت کا خیال تھا کہ ڈالروں کے عوض اس علاقے کے غیور عوام کو خرید کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے راہ ہموار کرے گا، جس خطے کے عوام نے ننگے پاؤں، خالی پیٹ اور بغیر ہتھیار صرف ڈنڈؤں اور کلہاڑیوں کے زور پر اپنے علاقے کو آزاد کرایا ہو اس خطے کے عوام محنتی جفاکش اور محب وطن پاکستانیوں جو پاکستان اوراسلام سے گہری وابستگی رکھتے ہیں کے بارے اس طرح کا سوچنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔۔۔۔

بھارت کو گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے بار بار یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے ناگزیر ہے اور کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر معمولی اختلافات کافائدہ اٹھاکر اس خطے کے عوام کو گمراہ کرسکے گا۔۔۔۔۔

بھارت کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ایک ایسا شخص جو اپنے گاؤں اور علاقے میں عوامی نفرت کی وجہ سے بیرون ملک فرار ہوکر خوساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے کو پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کیلئے استعمال کررہا ہے اور میرے خیال میں ہندوستان کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔

جمشید خان دکھی کے ان اشعار کے ساتھ اجازت۔۔۔۔۔

نکلتا جنگ سے ہوں سرخرو میں

مگر ناکام ہوتا گفتگو میں

وطن کی آن میں کایاپلٹ دی

اثر کتنا ہے لالک کے لہو میں

میں پینے کیلئے آتا ہوں ساقی

شہادت گھول دے جام و سبُو میں

عدُو میرا مقابل خاک ہوگا

نڈر، بے باک جری جنگجومیں

میرے اہل وطن کب ایک ہوں گے

کٹی ہے عمر بس اس آرزو میں

کرم مولا کا جب تک ساتھ ہوگا

تو ہوسکتا نہیں بے آبرو میں

تعصب کے بتوں کو توڑ ڈالو

بھلا رکھا ہے کیا اس رنگ و بومیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔