معاشرتی امراض

معاشرتی امراض

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ابراہیم آخوندی

گزشتہ کئی دہائیوں سے معاشرہ انسانی بڑے سادہ،چھوٹی زرعی کمیونٹی سے بڑی پیچیدہ صنعتی بلدیہ عظمی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔انسانی معاشرے کا تصور اتنا ہی قدیم اور دور ہے جتنا انسان خود،شروع شروع میں انسان اپنی پیٹ پوجاری کرنے کے لئے جگہ جگہ گھومتے،ڈھیرہ لگاتے اور اپنی خوراک کی ضروریات شکار،جنگلی پھلوں اور سبزیوں سے پوری کرتے تھے بعدازاں انسانون نے جانوروں کو سدھا کر انہیں پالتو بنایا اور انہی کے ذریعے خوراک اور لباس کی ضروریات پوری کرناشروع کیں۔

انسانوں کو زندہ رہنے کے لئے طبعی اور معاشی ضروریات کی تکمیل نہایت ہی ضروری ہوتاہے،طبعی ضروریات میں ہوا،خوراک،پانی،رہائش اور نیند وغیرہ شامل ہیں جن کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا،اسی طرح معاشرتی عوامل میں کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں کہ جن کے بغیر معاشرہ کھوکھلا اور خالی ہوجاتے ہیں ان میں معاشرتی مستحبات،معاشرتی اقدار اور معاشرتی ضبط شامل حال ہیں انہی میں سے ہم صرف معاشرتی معمولات کی اگر بات کی جائے تولفظ معمولات نے معاشرتی زندگی کے تانے کو اتنی شدید اور مضبوطی کے ساتھ بُناہواکہ معاشرے میں رہتے ہوئے ہم ان کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور جانے انجانے میں یہ تانا بانابکھر جائے تو افراد معاشرہ اپنی زندگی کو بے معانی اور بیکار تصور کرتے ہوئے موت یعنی خودکشی کو ترجیح دیتے ہیں اور دنیاے فانی کو خیرباد کہہ دیتے ہیں ۔

آج ہمارے معاشرے میں معاشرتی معمولات کی عدم دستیابی اور عدم وجودگی کی وجہ سے معاشرے میں معاشرتی امراض نے جنم لیا ہے،معاشرہ میں فاسد رسم وراج نے زندگی اجیران کردی ہے،بداخلاقی،چوری،دھوکہ دہی،دوسروں کا مال غصب کرناپیشہ بن چکا ہے۔شہوانیت،زنا جیسیاافعال نے معاشرے کے رواج کو بدل ڈالا ہے،مرد عورتوں کی اور عورتیں مرودں کی صفات اختیار کرنے لگے ہیں اور صاحب اختیار طبقہ ان امراض سے جزوی مصلحتوں کی بنا پر اعراض برتنے لگے تو صورت احوال امراض معاشرہ بن جاتی ہے۔آج معاشرتی عدم توازن ایسی معاشرتی حالت پر آگئی ہے کہ جس میں ایک مختصر و مخصوص طبقہ ضروریات سے زائد مال ودولت کا مالک بن گیا ہے اور دوسری طرف انسانوں کی بڑی تعداد بنیادی ضروریات زندگی کے لئے مجبور ہے اور اس قدر بربادی کی طرف گامزن ہوچکاہے کہ غریب معاشی تنگی پر مجبوری کے عالم میں خودکشی کرنے اور اپنے بچوں کو “بچے برائے فروخت”کے نام پر سرعام بازاروں میں لانے پر مجبور ہوا ہے کیونکہ مالدار طبقے کو دولت کی زیادتی اور محتاج و مجبور کو بے بس اور وسائل کا نکما بنادیتی ہے۔معاشرہ اسوقت تک کامل اور مکمل نہیں بن سکتا جب تک اس میں رہنے والے عام افراد معاشرتی معمولات اور اقدار پر عمل پیرا نہ ہوورنہ ایسا معاشرہ انسانوں کو معاشی اور اخلاقی نقصان کی طرف گامزن کرلیتا ہے جوکہ چوری ،ڈاکہ ،دھوکہ بازی،غصب،سود خوری ،ناجائز منافع خوری اور زخیرہ اندوزی کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور آج ہمارے معاشرے میں ایسی صورت حال ہمارے نظروں کے سامنے اوجھل ہیں پس ہمیں چاہے کہ معاشرے میں رہنے والے ہر شخص کواچھی زندگی گزارنے کے لئے ان کے ساتھ تعاؤن باہمی پیدا کر ے تاکہ غریب اور بے بس افراد کو بھی زندگی بسر کرنے کا حق مل جائے اور ساتھ ہی ہمیں اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ معاشرتی امراض کا خاتمہ ہو اور اجتماعی زندگی میں استحکام پیدا کرے تاکہ غریب اور بے بس افراد کو اپنی ضروریات کے حصول اور حاجات کی تکمیل ہو اور اس معاشرے سے معاشرتی امراض کا بھی خاتمہ ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔