چترال کے محتلف علاقوں میں جنگلی پھلوں کی بھرمار ہے

چترال کے محتلف علاقوں میں جنگلی پھلوں کی بھرمار ہے

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے محتلف علاقوں میں جنگلی پھل اور پھولوں کی بھی بہتات ہے جو کہ نہ صرف ان پھلوں اور پھولوں کو لوگ مزے کے طور پر استعمال کرتے ہیں بلکہ اسے دواء کی طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

ان جنگلی پھلوں میں شینجور جسے روسی زیتون بھی کہا جاتا ہے بہت مشہور ہے شین جور بیر کی طرح پھول ہوتا ہو ساحت میں تو لوکاٹ سے چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کی شکل خربوزے کی طرح عمودی سی ہوتا ہے یہ پھل نہایت خشک ہوتا ہے اور جب یہ پک جاتا ہے تو لوگ اسے خشک کرکے گلے کی حرابی، زکام ، کھانسی اور دمے کی بیماری کیلئے بھی استعمال کی جاتی ہے

بچے تو اس پھل کو ویسے شوق کے طور پر کھاتے ہیں مگر بڑے عمر کے لوگ اسے پانی میں ابال کر اس کی جو س پیتے ہیں جو کھانسی اور (دم کوتاہی) یعنی دمے کی مرض کی نہایت تیز تریاق ہے اور کھانسی اور دمے کی مریضوں کیلئے بہت شفاء یاب ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک چھوٹے رنگ کا ایک اور پھل یہاں پایا جاتا ہے جو زیادہ تر صاف پانی ندی اور نہروں کے کنارے پر پائے جاتے ہیں اس کے پودے میں گلاب کی طرح کانٹے بھی ہوتے ہیں اور یہ پھل گلابی اور پکنے کے بعد اس کا رنگ کالا ہوجاتا ہے۔

اس پھول کو کرواڑئی کہا جا تا ہے اسے مقامی زبان میں اچو کہا جاتا ہے جو شوگر کی بیماری کیلئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے ۔ اس پھل کا ذائقہ قدرے ترش (کڑوا) ہوتا ہے جسے خواتین بہت شوق سے کھاتی ہیں مگر پکنے کے بعد یہ میٹھا ہوتا ہے۔ یہ پھل معدے اور ہاضمے کیلئے بہت مفید ہے اور اسے کھانے سے لکڑ ہضم پھتر ہضم والا معاملہ ہوجاتا ہے یعنی سب کچھ ہضم۔

اس کے علاوہ ایک حاص قسم کا میرون سرخ رنگ کا ایک پھول بھی یہاں پایاجاتا ہے جو دیکھنے میں نہایت خوش نظر مگر یہ بھی ایک دواء ہے۔

چترال کے بالائی علاقوں، وادی سوسوم اور دیگر مقامات میں بھی محتلف قسم کی جڑی بوٹیاں پائے جاتے ہیں جسے پرانے زمانے کے لوگ تو محتلف بیماریوں کی علاج کے طور پر استعمال کرتے ہیں مگر آج کے دور میں یہ قیمتی جڑی بوٹیاں صرف بکریا ں اور مویشی کھاتے ہیں ان سے کوئی استفادہ نہیں لیا جاتا۔حکومتی اداروں کو چاہئے کہ ان جنگلی پھول، پھل اور جڑی بوٹیوں پر تحقیق کرکے انہیں صنعت کے طور پر ترقی دے تو اس سے نہ صرف لوگوں کی سستی دوائی مل سکے گی بلکہ مقامی لوگوں کی غربت میں بھی حاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔