متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کی دو بارہ آبادکاری کے منصوبے سے پریشانیوں میں اضافے کا خدشہ

متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کی دو بارہ آبادکاری کے منصوبے سے پریشانیوں میں اضافے کا خدشہ

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(تجزیاتی رپورٹ: شہاب الدین غوری سے)متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کی دوبارہ آبادکاری کے منصوبے سے متاثرین کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ واپڈا کے 2oo7کے کرسڈل سروے کے مطابق 4ہزار 78خاندانوں کے لئے دوبارہ آباد کاری کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں کی تعداد 9ہزار سے 10ہزار تک ہے ۔

واپڈا کرسڈل سروے کے مطابق ہرپن داس میں 1350تھک داس میں 2850جبکہ کینو داس گوہرآباد میں 78متاثرہ خاندانوں کو بسانے کاپروگرام ہے جبکہ ان تمام متاثرہ خاندانوں کو زرعی زمین بھی گوہرآباد کینوداس میں دی جائے گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ چلاس شہر سے 50کلومیٹر دور کینوداس جاکر چلاس کے شہری زمین کو آباد کرپائینگے ۔

واپڈا حکام کو چاہئیے کہ وہ متاثرین ڈیم کی نئی سروے کریں اگر دوبارہ سروے ممکن نہیں ہے تو زمینوں کے معاوضوں کی ادئیگی کے دوران جو خسرات مختص کئے گئے اس کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی آباد کاری کی جائے ورنہ چار سے پانچ ہزار گھرانے ایسے ہونگے جن کی اپنی جائیداد تو پانی برد ہو چکی ہو گی لیکن اپنا گھر بنانے کے لئے اُنہیں ایک انچ زمین تک نہیں مل پائے گی جس سے غریب لوگوں کو بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واپڈا دوبارہ آباد کاری کا منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اس میں ترمیم کرکے تمام متاثرین کے لئے رہائشی اور زرعی اراضی زمین مختص کرسکتے ہیں۔اگر دیامر میں اراضیات و زمینوں کی قلت ہے تو متاثرہ لوگوں کو منگلا اور تربیلا کے متاثرین کی طرح پنجاب ہزارہ اور گلگت بلتستان میں بھی ان متاثرہ لوگوں کو زمین دینے کا بندوبست کریں ورنہ ملک کی خاطر اپنا سب کچھ لوٹا دینے والوں کو سرچھپانے کو جگہ نہ ملی تو ان کا مستقبل تباہ ہوگا ۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments