یہ بھی۔۔۔ اور۔۔۔۔ وہ بھی ۔۔۔۔۔

یہ بھی۔۔۔ اور۔۔۔۔ وہ بھی ۔۔۔۔۔

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
shams

تحریر: شمس الرحمٰن کوہستانیؔ

نماز جمعہ کیلئے داسوپُل والی مدنی مسجد جانے کا اتفاق ہوا۔ہمراہ سینئر صحافی قاری محمد سعید بھی تھے ۔الحمد للہ ہم اکثریتی نمازی ہیں ، مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ تل دھرنے کو جگہ تک نہ تھی۔ راقم کو مسجد کی چھت پر جانا پڑااورنمازیوں کے بیچ بیٹھ کر جید عالم دین مولانا محمد علی صاحب کو سننے کا موقع ملا۔حضرت مولانا نے نمازیوں سے اپنےخطاب میں موجودہ دور کی فرسودہ روایات و رسومات پر تسلی بخش بحث کی۔ انہوں نے سودی نظام اور سودی کاروبار کرنے والوں کا محاسبہ کیا اور حکومت کے بغیر بھی جذبہ ایمانی سے اس لعنت کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔جن جن موضاعات پر انہوں نے لب کشائی کی وہ برحق و حقیقت تھے ۔ انہوں نے پیسےلیکر گواہی دینے ، ملاوٹ سمیت ناپ تول میں کمی کرنے والوں کا بھی محاسبہ کیا، انہوں نے خو کو مسلمان اور دوسرے کو کافر کہنے کی منطق پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔

مولانا کی گفتگو سے ثابت ہونے لگا کہ الغرض ’’ہم یہ بھی کرتے ہیں اور وہ بھی کرتے ہیں‘‘ پہلی بات۔۔۔۔۔ ہم کتنے مسلمان اور دوسرے کتنے کافر ہیں اُس کا فیصلہ ہم خود کرنے لگے ہیں آپ کو اور ہمیں یہ اختیار حاصل نہیں کہ کسی پر کافر مسلمان کا مہر ثبت کریں ! ہم بنا تحقیق و تفتیش کے بے لگام گھوڑے بن جاتے ہیں جس کی بنا پر معاشرہ بگاڑ کی جانب رواں ہے ۔ بہترین اسلامی معاشرے میں برداشت لازمی جزو ہے جس کا فقدان دیکھنا کو مل رہاہے۔دوسروں کو حقیر سمجھنا عادت سی بن چکی ہے ۔ ہم سو فیصد نمازی ہیں مگر جھوٹ ہمارا شیوہ ہے ، ازراہ مذاق بھی جھوٹ ،لین دین وکاروبار میں بھی جھوٹ، سنجیدگی میں بھی جھوٹ اور معاملات میں بھی جھوٹ جبکہ مومن کی صفت جھوٹ سے پاک ہے۔ہم مسلمان تو بنے مگر مومن نہ بن سکے۔ہمارے حلیےاسلامی ہیں مگر ہمارے اعمال جابروں ، غاصبوں اور متکبروں جیسے ہیں ۔ کیونکہ ’’ہم یہ بھی کرتے ہیں اور وہ بھی کرتے ہیں‘‘۔ ’’جنگل کی شام ہواور عالم تنہائی میں مجبور کوئی دوشیزہ ملے تو بھوکے بھیڑئے کی طرح ہم اُس پر جھپٹنے سے نہیں کتراتے‘‘۔ غیرت کے نام پر آئے روز خون کی نہریں بہا کر ہم یہ ثابت کرچکے کہ ہم کتنے بے راہ و روی کا شکار ہیں۔برائی کی سزا کا علم رکھتے ہوئے بھی ہم باز نہ آئے، جس سے ہمارے ایمان کی تکمیل کا خوب اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ من حیث القوم اصلاح کی ضرورت ہے۔

دوسری بات۔۔۔ سودی نظام ہماری رگوں میں دھنس چکاہے۔ اس لعنت کے خاتمے کے بجائے آئے روز اس کی ترویج ہورہی ہے۔ بے چاروں اور مجبوروں کا خون چوسنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا وقت کا تقاضا ہے۔ علامہ اقبال نے تواخوت کیلئے کہا تھا۔۔۔۔ ’’ ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے‘‘ ’’نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر‘‘ میرے بھائیوں یہاں نظام الٹ ہے ۔ جب کوئی اچانک اس دارفانی سے کوچ کرجائے توسودخوروں کی چاندی ہوجاتی ہے اور پہنچتے ہی ورثا سے کہتے ہیں کہ ’’ کتنے چاہیے ؟ کب تک چاہئے ؟ اور کیسے چاہیئے ؟من حیث القوم ہم نے بھائی چارگی اور اخوت کے جذبے کا جنازہ نکال دیا۔اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو معاشرے میں کس کی مجال کی سودی کاروبارکرے مگر افسوس کہ ہم نہیں ہیں۔ ہم میں وہ سکت باقی نہیں رہی کہ ہم اس لعنت کو روک سکیں مگر حکومت کے پاس کردہ قوانین کو بھی ایڑھی کی نوک پر اُچھالا جارہاہے۔کسی مجبور کی لاچارگی اور بے بسی کا فائدہ لیتے ہوئے اُسے پوری زندگی زمین دوز کیا جاتاہے ، معاشرے میں کئی مثالیں ایسی ہیں جس میں سودی مقروض سالہا سال اپنے جگر گوشوں کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستا رہاہے۔ اس موذی مرض کا قلع قمع کرنے والا ہم سب کا ہیروہوگا۔

تیسری بات۔۔۔۔ مولانا محمد علی صاحب نے بتایا کہ شریعت تنازعوں کا حل ہے مگراسلامی شریعت میں گواہی دینے والا بعض اوقات غلط گواہی دیتاہے جس سے فیصلہ غیر مستحق کے فیور میں چلا جاتاہے۔ علما کو چاہئے کہ وہ اپنے تئیں حق و سچ کو جاننے کی تحقیق کریں اور انہیں محسوس ہو کہ یہ گواہ اجرتی ہے تو اسے رد کرکے حق دار کو اُس کا حق دینے کا اعلان کرے۔ میرے عزیز ساتھیو ! ہم نے خوشحال گھرانوں کی زندگیاں اُجاڑنے والوں کو دیکھا،ہم نے حقوق پر زبردستی قابضین گروہوں کو دیکھا، ہم نےکالے دھندوں کے گینگ کو بھی دیکھااور سہا مگر ہم میں یہ سکت بہت کم خوش نصیبوں کو ملی کہ وہ حق گوئی کرسکے۔ انصاف اور میرٹ کا قتل عام ہونے والے اس معاشرے میں گردے ہاتھوں میں تھامے لاچاروں کی فریاد کوبھی دیکھا مگر مسیحا بہت کم دیکھے۔مادہ پرستی عروج پرہے، مال ومتاع کی لالچ میں آکر حقوق غبن کرنے والوں کی مجبوریاں اُن کے نظریے پر غالب آجاتی ہیں۔ ہم صحیح طریقے سے زکوٰہ ہی ادا نہیں کرپاتے اور جو فطرانہ خیرات ادا کریں تو اُس میں بھی اقربا پروری کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے اس خوفناک منظر میں امید کی کرن ہمارے جید علما کرام اور ذی شعور طبقہ ہے جن کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح و احوال کیلئے کردار ادا کریں وورنہ ہم اجتماعی معاشرتی بگاڑ کی جانب رواں دواں ہوتے رہیں گے اور نتیجہ بھیانک ہوگا ۔ شکریہ ۔ اللہ ہمارا حامی وناصر۔۔ ہو آمین ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔