پسماندہ علاقوں میں انصافیوں کا راج

پسماندہ علاقوں میں انصافیوں کا راج

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : شمس الرحمن کوہستانیؔ

 وہ ارض  کوہستاں جہاں معدنیات ، جنگلات، جڑی بوٹیاں ،زرعی اجناس ، برقی پیداوار ،سیاحت ، قدرتی حسن ، حسین حیاتیات کی بہتات تو ہے مگر حکمرانوں کی دلچسپی نہیں ۔ اُن کی دلچسپی ہے توذاتی مالی معاملات اور مفادات میں جہاں سے انہیں اگلے الیکشن کیلئے کمائی ملے ۔ پسماندہ علاقوں کے پوشیدہ خزانے او روسائل یہاں کے غریبوں کے زندگیاں بدلنے کی ضمانت مگر نااہل حکمرانوں نے اب تک ان وسائل کو بروئے کار لانے کاشائد سوچا نہ ہو۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے عوام امید کی کرن لیکر تحریک انصاف کی حکومت کا جشن منارہی تھی کہ اُن کی زندگیوں میں تبدیلی آئے گی مگرپولیس اور تعلیم کے علاوہ دیگر زندگی کے مسائل جوں کے توں ہیں۔پسماندہ علاقوں کی بیوروکریسی سب اچھا ہے کی پالیسی پر عمل پیراں ہے اور جواب طلبی کے مواقع پر غلط بیانی سے ایک پل بھی نہیں کتراتی ۔ڈھٹائی کی انتہا یہ ہے کہ گزشتہ روزایک پسماندہ علاقہ پٹن کوہستان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے کوہستان کی ضلعی انتظامیہ سے صحت کے مسائل پر پوچھا تومتعلقہ ڈی ایچ او نے سب اچھا ہے کی رٹ لگائی تو پی ٹی آئی کے کارکن نے داسو کے ہسپتال میں ایک انجکشن اور گولی نہ ہونے کی شکایت کرکے کچا چٹھا کھول دیاگو کہ سوال حقیقیت پر مبنی نہ سہی مگر اس اہم معاملے کا وزیراعلیٰ نے نوٹس لے لیا۔ اس پسماندہ صوبے کے دورافتادہ علاقے میں انصافیوں کی حکمرانی میں بدعنوانی کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں اور نوکریاں بکنے کی گواہی خود تحریک انصاف کے کارکن دے رہیں ۔ ٹھیکوں میں اقرباء پروری اور گھپلوں کی بھی سخت بازگشت ہے ۔ جس کا اظہار آج پٹن کے سرکٹ ہاوس میں خود انصافیوں نے اپنی حکومت کے سامنے کھل کر کیا۔ صحت اور تعلیم کے مسائل پر جب راقم نے صوبے کے چیف ایگزیکٹیو سے سوال کرنے کی سعی کی تو ساتھ بیٹھے مشیروں نے ٹال دیا اور جواب نفی میں سرہلا تے ہوئے ملا ،

راقم کو ضمیر نے جھنجوڑدیا، صحافی ہوں عوامی مسلئے پر خاموش نہیں رہ سکتا وقت کے حکمرانوں سے سوا ل کر نا فرض ہے چاہے جس کی قیمت کچھ بھی چکانی پڑے!ہماری بچیوں کے مسقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور ہماری ماوں بہنوں کو سہولیات سے محروم رکھنے والوں کو بے نقاب کیا تو صوبے کے چیف ایکزیکٹو نے نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کی۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب کوئی مسلہ بیان ہو گا تو ایکشن لیاجائیگا ، یہ حکام جو سالہا سال ہمارے پبلک کے ٹیکس پر تنخواہ لیتے ہیں اُن کا کام عوامی مسائل کا ادراک ہے جس کا بیشتر کو علم ہی نہیں۔ ان میں بیشتر تو صرف تنخواہ لینے پسماندہ علاقوں میں آتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم نے جن لوگوں کو منتخب کیا ان کا محور اپنی ذات ہے اور انہیں عوام کی بہت کم فکر ہے ۔ ایک بات یہاں واضح کردوں کہ کوہستان کی تاریخ میں پہلی بار پٹن اصلاحی کمیٹی نے اتفاق کی صورت میں دو ممبران اسمبلی چنے جن کا نصب العین دو مقاصد تھے ، ایک پورے کوہستان کو بجلی کی فراہمی اور دوسرا لوئیر کوہستان کا قیام ۔ تاحال دونوں مقاصد ادھورے ہیں ۔آزاد تجزیہ اگر کیا جائے تو عوام کی اکثریت منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے نالاں ہے اور ہر کوئی بیزار نظر آتاہے ۔ منتخب نمائندوں کا اپنی اصلاحی کمیٹی کو بھی بائی پاس کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جو سپاسنامہ تیار کیا گیا اس پر مقامی لوگوں نے جلسے کے بعداعتراضات اُٹھائے۔ خیر یہاں بات پسماندہ اضلاع اور علاقوں کی محرومیوں کی ہے۔عمران خان نے بارہا کہا کہ سڑکوں کی تعمیر سے کمیشن بنتے ہیں قومیں نہیں بن سکتیں، ان کا موقف رہاہے سرمایہ اپنی قوم پر لگائیں ۔ مگر پسماندہ اضلاع میں اُن کی حکومت نے انسانوں پر بھی سرمایہ کاری نہیں کی۔ یہاں پر فنڈز لیپیس ہوجاتے ہیں استعمال ہی نہیں ہورہے مقامی لوگوں کا موقف ہے کہ جو فنڈز استعمال ہورہے ہیں وہ اُن کے چہیتوں کے ذریعے ہورہے ہیں جن سے کوئی پوچھنے والا نہیں اُس میں میرٹ اور انصاف کہاں؟

گزشتہ روز پٹن کے بڑے جلسے سے قبل وزیراعلیٰ کو اپنے سابق ساتھی اور حکومت کے موجودہ سینئر وزیر سکندر شیرپاو کے اعلان کی زیادہ فکر ہوئی انہوں نے اُس کے اعلان کی تکمیل کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہا کہ نہروں پر زیادہ پیسے لگائیں جس سے زیادہ زمینیں آباد ہوں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو کہا کہ بلدیات کو جو 80کروڑ روپے ملے ہیں وہ اُن کے قریبی دوست اور کوہستان سے سابق ایم این اے کی مشاورت سے استعمال کریں۔ شائدانصاف کی راج نیتی کو صرف تصویر کا ایک رُخ دکھایا گیا ہے ۔ خٹک صاحب شائد بھول چکے ہیں پسماندہ ضلع کوہستان کے چھتیس یونین کونسل دیگر بھی ہیں جن میں بسنے والوں کے بھی مسائل ہیں ۔ آپ نے تیسری بار پٹن کا دورہ کیا ، آپ نے بڑے بڑے اعلانات بھی کئے۔آپ نے ہائی سکول پٹن کو سکنڈری سکول کا درجہ دیکر احسن اقدام کیا، آپ وہاں پر سڑکیں بھی بنائیں آپ پٹن کو گل و گلزار کردیں ہم آپ کے احسان مند ہیں کیونکہ پٹن بھی ہمارا ہے ۔ مگر دیگر علاقوں کو بھی توجہ دیناآپکا فرض ہے ناں!

آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں سیلاب اور زلزلوں نے بستیاں اُجاڑ دی ہیں؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں ملبے میں دبے بائیس افراد کی جگہ کو حکومتی بے بسی کے باعث اجتماعی قبرستان قراردے دیا گیاہے؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں کوئی کالج یونیوسٹی فعال نہیں یہاں کا بچہ بچہ سکول کی فیس کو ترستا ہے ؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں کی عوام بجلی سے محروم ہیں؟آپ کو نہیں معلوم کہ بنکڈ، رانولیا، دوبیر، کولئی ، پالس، جلکوٹ ،شناکی ، کندیا ، سیو،کیال ، پٹن اور جیجال کے سیلاب متاثرین بے یار ومد د گار ہیں اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہیں ؟ آپ کو نہیں معلوم کہ یہاں میٹرک کے بعد نوجوان مزدوری پہ مجبور ہیں انہیں اعلیٰ تعلیم کیلئے درگاہیں نہیں؟آپکو نہیں معلوم کہ اس جدید دور میں بھی یہاں کی نسل ٹیکنکل ایجوکیشن سے محروم ہیں ؟آپ کو شائد نہیں معلوم کہ ہماری مائیں اور بہنیں لیڈی ڈاکٹر زکیلئے ترس رہی ہیں ؟آپ کو نہیں معلوم کہ پیچیدہ امراض میں ہماری مائیں اور بہنیں علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کی پیش نظر راستوں پر جان دے بیٹھتی ہیں ؟ آپ کو نہیں معلوم کہ ہماری بچیاں تعلیم سے محروم ہیں ؟ آپ کو نہیں معلوم کہ پسماندہ علاقوں کی پگڈنڈیاں ، راستے اور سڑکیں ملیامیٹ ہیں ؟آپ بخوبی جانتے ہیں داسو ڈیم میں متاثرین اپنی جائیدادوں سے محروم ہورہے ہیں اُن کے انتہائی جائیز مطالبات ہیں جن کو آپ سنجیدگی سے نہیں لے رہے ؟یہاں جو دو ممبران اسمبلی ہیں ایک شیر کاشیدائی جوآزاد بھی جیت کر شیر کا ہوگیا اور دوسرا قوموں کی لڑائی میں مصروف ہے۔ اگر آپ اچھے حکمران ہیں اور حقیقی منصف ہیں تو آپ اس قوم سے خود انصاف کریں اور آپکو ان کے مسائل کا ادراک ہونا چاہیے ۔آپ حق حکمرانی ادا کریں ورنہ آپکا حال بھی ماضی کے سیاستدانوں جیسا ہوگا۔آپ میری اس ناقص تحریر کو اپنے لئے تنقید نہیں اصلاح سمجھئے گا ! میرا خدا گواہ ہے اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ! یہ ہر پسماندہ علاقے کے فرد کی پکار ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا ۔۔۔۔ بے نام سے سپنے دکھلا کر ۔۔۔ اے دل ! ہرجائی نہ پھسلا کر یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا۔۔۔ اے چاند یہاں نہ نکلا کر۔ ناں ڈرتے ہیں ناں نادم ہیں ۔۔۔۔ ہاں کہنے کو وہ خاد م ہیں یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ۔۔۔ اس دیس میں اندھے حاکم ہیں یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا۔۔۔ اے چاند یہاں نہ نکلا کر۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ آمین ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔