اسلامی گرائمر سکول چترال کا نئے ویژن اور نئے انداز کا یادگار تقریب تقسیم اسناد 2016

اسلامی گرائمر سکول چترال کا نئے ویژن اور نئے انداز کا یادگار تقریب تقسیم اسناد 2016

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد) اسلامی گرائمر سکول چترال کی طرف سے تقریب تقسیم اسناد اتوار کے روز گورنمنٹ ڈگری کالج چترال میں منعقد ہوئی۔تقریب کے پہلے سیشن کے مہمان خصوصی کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ تھے۔جبکہ صدر محفل سکول کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید ریاض تھے۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ جس کی سعادت امیر جمعیت علماء اسلام قاری عبدالرحمن قریشی نے حاصل کی ۔تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ نے خطاب میں سکول کے بچوں کی کارکردگی کو سرہاتے ہوئے کہا ۔کہ مجھے یقین ہے کہ اس سکول میں جودین اور دنیا کو ملاکر تعلیم دی جارہی ہے ۔یہ بچے انشاء اللہ بڑے ہوکرسوسائٹی کے مفید شہری بنے گے۔اور اس سکول میں جتنے بچے اعلیٰ تعلیم اور تربیت حاصل کرینگے اس کا جزائے خیر ان اساتذہ کو ضرور ملے گی۔اُنہوں نے کہا کہ اسی پلیٹ فارم سے ڈاکٹر جاوید ریاض ،مولانا حسین احمد اور باقی جتنے فیکلٹی ہے کوجس لمحے بھی بحیثیت میں کمانڈنٹ چترال میں ہوں یا میں یہاں سے چلا بھی جاؤں کسی طرح کی بھی خدمات کی ضرورت ہوں تو مجھے اسے پورا کرنے میں خوشی ہوگی۔تقریب کے پہلے سیشن میں بچوں نے قومی ترانہ، ٹیبلو،نعت ،ڈرامے ،شاعری اور تقایریں پیش کی ۔مہمان خصوصی کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام شاہ نے سکول کے نمایاں پوزیشن ہولڈرز میں شیلڈ تقسیم کی۔تقریب کے دوسر ے سیشن میں بھی سکول کے بچوں نے خاکے، ٹیبلو وغیرہ پیش کیے جس سے شرکاء تقریب محضوظ ہوتے رہے۔

دوسرے سیشن کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ تھے۔سکول پرنسپل ،ڈاریکٹرز اور والدین نے سکول کے کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آجکل معاشرہ انتہائی خراب ہورہی ہے اردگرد نظر ڈورائی جائے تو جواعلیٰ اقدار لوگوں میں پائیے جاتے تھے وہ کم ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے۔بزرگوں کا احترام ،حلال حرام کی تمیز ایمان داری اورسچ معاشرے سے ختم ہورہی ہے۔جس کاحکومت کا قانون پر گرفت کمزورہونا بہت بڑی وجہ ہے۔انہوں نے فیصل آباد اور لاہور کا مثال دیتے ہوئے کہا کہ خون کے بجائے لال سیاہی اور بکرے گائے کے گوشت کے بجائے گدھے کا گوشت لوگوں کو کھلانے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ماں کی گود اور سکول میں اگر آغاز ہی سے بچوں کو صحیح تربیت نہیں سیکھائی جائیگی تو معاشرے میں ان جیسے واقعات رونما ہوتے رہینگے۔اُنہوں نے کہا کہ ہر تعلیمی ادارے کے لئے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی صحیح تربیت انتہائی ضروری ہے۔ ڈی سی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بہت اعلیٰ اقدار ہے۔ مغرب میں اعلیٰ اقدار ختم ہوچکی ہے۔مغرب میں اگر والدین بوڑھے ہوجائے تو انہیں اولڈ ہوم میں ڈالتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں بوڑھے والدین کو گھر کی برکت سمجھتے ہیں۔ہمارے ہاں بزرگوں کی ہر بات پر عمل کی جاتی ہے۔ان اقدار کے ساتھ جڑے رہنا ہم سب کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔اُنہوں نے کہا والدین اپنے بچوں کو وقت دیکر اُنہیں اعلیٰ تربیت دینے کی انتہائی حدتک کوشش کریں۔ اُنہوں نے ڈاکٹر جاوید ریاض اور مولانا حسین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ان جیسے بے غیر لالچ کے لوگوں کی اس معاشرے میں موجودگی یہاں پر تعلیم بھی پروان چڑی گی اور ہم آپس میں سوسائٹی کے دیگر پہلوں پر بھی ملکر کام کرینگے۔

تقریب میں مہمان خصوصی نے سکول میں نمایان پوزیشن حاصل کرنے بچوں میں شیلڈ تقسیم کی۔تقریب کے صدر محفل سکول کے ڈائریکٹر ڈاکٹرجاوید ریاض نے اپنے خطاب میں کہا کہ سکول کی بنیاد رکھنے سے پہلے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا حسین احمد نے مجھ سے کہا کہ یہاں پر جو حضرات مدرسے چلارہے ہیں وہ غنیمت ہے۔چترال کے مخصوص حالت کے تحت اور یہاں کے مخصوص پسماندگی کے تحت انگلش میڈیم سکول کی ضرورت ہے جو یہاں بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تربیت بھی دے ۔جس کی بناء پر ہم نے یہاں پر سکول کا آغاز کیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سکول کی آمدنی ہم اپنے ذات پر خرچ نہیں کرینگے بلکہ سکول کی بہتری پر خرچ کرینگے۔اور اُنہوں نے غریب اور نادار بچوں کے لئے کے اسکالرشپ کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ سکالرشپ غریب بچوں کے ساتھ ساتھ امیر والدین کے اُن بچوں کو بھی دی جائیگی جو ادارے میں نمایاں کارکردگی دکھائینگے۔مولانا حسین احمد نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس،ڈی سی چترال اور شرکاء تقریب کا سکول کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔

تقریب کا اختیام مولانا حبیب اللہ کی دعاسے ہوئی۔تقریب کے شرکاء کے لئے ڈاکٹر جاوید ریاض اور اُن اہلیہ کی طرف سے ظہرانہ کا انتظام بھی کیا گیا تھا ۔تقریب میں بڑی تعداد میں والدین،اساتذہ،مختلف محکموں کے افیسرز اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔