چیلنج قبول کیجیے

چیلنج قبول کیجیے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانی

ضلع دیامر کے حوالے سے بہت لکھا، سینکڑوں امراض کی نشاندہی کی۔ سنجیدہ احباب نے تشخیص شدہ امراض کی دوا کا تقاضہ کیا۔ اور جذباتی دوستوں نے حسب سابق جذبات سے ہی کام لیا۔ اور مجھے  ناہنجار ٹھہرایا۔ آج میں انتہائی اختصار کے ساتھ صرف ایک دو  پہلوں کی وضاحت کیے دیتا ہوں۔ اگر کسی صاحب کو اس پر سنجیدگی سے غور کرکے کوئی خدمت کرنے کی توفیق ہوئی تو میں سمجھونگا کہ میری تحریر اپنے ہدف کو پہنچی۔

لاریب کہ دیامر ڈیم اور سی پیک کی وجہ سے ضلع دیامر میں ہر قسم کی تبدیلیاں رونما ہونگی۔ سب کچھ بدل کررہ جائے گا۔آج سے قبل ہمارے بزرگوں نے اور اصلاح پسندوں اور علماء کرام نے جس نہج پر بھی کام کیا یقینا قابل صدتعریف ہے۔ لیکن آج کے دور میں زمانہ بڑا سرگرم ہوا ہے۔خیالات،ضروریات، تقاضے اور میادین بدل گئے ہیں۔ نئے نئے چیلنجوں نے معاشرے کا سامنا کیا ہوا ہے۔ اور آئندہ مزید چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ہمارے بزرگوں نے جس انداز میں کام کیا ہے اب زمانہ اور حالات اس سے بہت زیادہ کے طالب ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ زمانے کا دامن جتنا سمٹ گیا ہے اتنا پھیل بھی گیا ہے۔ بلاشبہ جن لوگوں کو رہنمائی اور لیڈری کا دعویٰ ہے۔بالخصوص دینی رہنمائی،  زمانہ ان سے جدید سیاسی و سماجی اور معاشرتی تغیرات  اور ایک خاص پیمانے کے مطابق  رہنمائی چاہتا ہے۔ رہبری چاہتا ہے۔لاریب آج کا زمانہ کسی لیڈر، عالم، مصلح کو اس وجہ سے سند دے کہ وہ اچھی تحریر و تقریر پر قدرت رکھتا ہے یا کچھ متوسط درجے کی خدمات انجام دیتا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ضلع دیامر میں عام ذہنی انتشار اور ایک مخصوص قسم کی مایوسی پھیل رہی ہے۔جدید نوجوان طبقہ اور حاملین دین میں یہ مایوسی کچھ زیادہ ہی محسوس کی گئی ہے۔ اسی اعتبار سے آج ،پہلے سے زیادہ تیاری کی ضرورت ہے۔کل تک ہمارے علماء و صلحاء اور رہبرانِ قوم نے جس نہیج پر کام کیا ہے آج اس کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ ایک نئی سوچ ، فکر اور جدیدانداز کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم ان چیزوں پر اڑے رہیں گے اور انہی استدلالات اور مناہج پر ہی آگے بڑھنے کی سعی کریں گے تو بلاشبہ ہم مایوسی اور قنوطیت کے سوا قوم کو کچھ بھی نہیں دے سکیں گے۔آج بہت زیاد وسیع علم و عمل، اور زیادہ محنت و کاوش کی ضرورت ہے۔

یہ ماننے میں کوئی عیب نہیں کہ زمانہ آسانی کے ساتھ کسی کو تسلیم نہیں کرتا۔یہ سچ ہے کہ زمانہ بہت بڑا ظالم اور بے رحم ہے۔زمانہ کسی بڑی سی بڑی شخصیت اور مقدس جماعت کے ساتھ بھی آسانی سے مروت کرنے کے لیے تیار نہیں۔پرانا اور بوسیدہ طرز و اسلوب اور تسلسل کوقبول کیا جانا بعید ہے۔ جب تک حقیقت پسندی اور نئے انداز و اسلوب سے کام نہ کیا جائے اور زمانے کو مجبور نہ کیا جائے وہ کبھی بھی آپ کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بھی آپ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ آج کے مغربیت و مادیت سے بھر پور زمانے سے کسی قسم کی سند لینا، کوئی اعزا ز کا اعتراف کرانا، اور کوئی خراج عقیدت وصول کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے۔ لاریب اس کے لیے علمی معیار کو مزید بڑھانا ہوگا،سخت قسم کی جدوجہد کرنی ہوگی۔ قدیم طرز کے دینی و عصری اداروں کے بجائے جدید قسم کے ادارے اور نئے انداز قائم کیے جانے چاہیے۔ بے شک علم نے بہت ترقی کی، نئے نئے شعبے قائم ہوئے ہیں۔علمی و فکری دنیا نے کروٹ لی ہے۔ ایسے میں محض دلنشیں تقریریں، برجستہ تحریریں، خیالی افکار اور صدیوں پرانی کتابوں کی رٹفکیشن قطعا کافی نہیں۔ بلکہ قدیم و جدید علوم سے لیس ہونے کے ساتھ بلند کردار، دل سوزی و دردمندی کی بھی اشد ضروت ہے۔ یعنی ایسے رجال کار پیدا کیے جائیں جن میں زمانے کی تمام ضروریات  اور تقاضوں کی سمجھ بھی ہو اور ان ضروریات کو اسلام کی روشنی میں بیان بھی کرسکیں اور نہ صرف بیان بلکہ اسلام کی حقانیت اور قوانین اسلام اور افادیت اسلام کانقش معاشرے کے دلوں میں بٹھا سکیں اور زندگی کی ہر مشکل کے ساتھ اسلام کا پیوند درست طریقے سے لگا بھی سکیں۔ ایسے رجال ہوں کہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ اسلام جدید دور کی تمام ضروریات کو نہ صرف پورا کرسکتا ہے بلکہ اسلام کسی بھی خود ساختہ چیز سے بہت اعلی و ارفع ہے۔زمانہ خواہ کتنی بلندی پر فائز ہوا ہو، حالات نے کتنا نیا رخ لیا ہوا ہو،دنیا خواہ کتنی ترقی کے منازل طے کرچکی ہو لیکن اسلام ان سب کی رہنمائی کرتا ہے اور جدید ذہن اور مادیت کے دلدادوں کے دل و دماغ میں اٹھنے والے ہر سوال کا جواب دے سکتا ہے۔

میرا ضمیر روز مجھ سے مخاطب ہوتا ہے کہ فکری انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہرقسم کی چیلنجز کو قبول کرکے ان کے معیار کے مطابق خود کو بدلنا ہے۔ تیاری کرنی ہے۔ علم و عمل اور فکر واسلوب  اور ذہانت و سنجیدگی کا وہ معیار قائم کرنا ہے جو زبان کے اعتبار سے،  جو انداز و اسلوب اور سنجیدگی کے اعتبار سے اور مواد کے اعتبار سے غرض ہر اعتبار سے معاشرے کو ، جدید ذہن کو اور مغلوب سماج کو متاثر کرنے والا ہو، اور اس عظیم کوشش کو دیکھ کر زمانہ خود اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے کہ ایک ایسی چیز پیش کی گئی ہے جو وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔بے شک زمانہ ہم سے ان سب چیزوں کا طالب ہے جو زمانے کی ضرورت ہے۔ اور اگر ہم نے وہ چیزیں مہیا نہیں کی تو یاد رکھیں۔ ہم بہت پستی میں گِر جائیں گے۔

خلاصہ کلام، بدلتے اطور و افکار اور تہذیب و خیالات  کا مقابلہ کرنے کے لیے سینکڑوں رجال تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے شاندار  اور اعلی قسم کے علمی ادارے قائم کیے جانے چاہیے۔ ایسے ادارے جن سے نکلنے والے افراد دین و دنیا دونوں کی شمعیں لے کر معاشرے اور سماج کی رہنمائی کریں۔ سماج کی دنیاوی اور دینی و اخروی اصلاح اور درستگی ان اداروں اور درسگاہوں کے بنیادی مقاصد و وظائف میں شامل ہوں۔خدا نخواستہ اگر اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا تو دیامر اپنی تمام تر افادیت اور اہمیت  کوکھو بیٹھے گا۔اور پھر ہر قسم کی بدبودار چیزیں یہاں داخل ہونگی۔پھر ان کے تعفن اور مضرات سے کوئی روک نہیں سکے گا اور پوری فضا متاثر ہوگی۔

کسی ایک گروپ کو ان تمام مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔اس گروپ میں اصلاح احوال کا جذبہ ہونا چاہیے۔ کردار کی بلندگی، قلب کی درمندی، سوز دروں وافر مقدار میں موجود ہو، اور اس کی کاوشوں اور محنتوں سے ہزاروں دل گرما جائے اور ایک درست معاشرتی انقلاب کا آغاز ہوجائے۔ ورنہ تحریروں، تقریروں اور نعروں اور روپیہ پیسہ کی فراوانی سے اور نہ ہی نادر علمی تحقیقات اور قلم کی روانی سے انقلاب آئے ہیں نہ آئیں گے۔ اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی سے کسی معاشرہ اور قوم کی قسمت بدل جاتی ہےنہ بدل گئی ہے۔ پرانے خیال کو نئے طرز میں پیش کرنے سے بھی کام نہیں بنے گا۔یا نہ ہی نئے جام میں شرابِ کہن کو زمانہ قبول کرتا ہے۔ بلکہ زمانہ ٹھوکر مار کر آگے نکل جاتا ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

انداز بیاں گرچہ میرا شوخ نہیں ہے

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔