سی پیک منصوبہ اور صوبائی حکومت کی ناکام حکمت عملی

سی پیک منصوبہ اور صوبائی حکومت کی ناکام حکمت عملی

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحر یر ۔۔کلثوم مہدی

دُنیا اس وقت اپنے علاقائی،معاشی اور سیاسی مفادات کے پیشِ نظر منقسم ہوچکی ہے ہر ملک اپنے مفادات کے لئے کسی نہ کسی بلاک میں شامل ہوکر ملک کو معاشی،سیاسی اور علاقائی سطح پر مظبوط اور مستحکم کرنے کے لئے کوشاں ہے اسی نقطے کے پیش نظر پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی حکومت نے اپنے ہمسایہملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ملکر پاک ایران گیس منصوبے پرمعاہدہ کیا جو خطے کی معاشی تقدیر کو بدلنے اورتوانائی کے بحران کو ختم کرنے میں عالمی سطح پر اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد عالمی طاقتوں کا سکون تباہ ہوچکا تھا اور اس منصوبے کی ناکامی کے لئے ہر حربہ استعمال کیا گیا اور مذہبی انتہاپسندوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال بھی کیا گیا۔پاک ایران گیس معاہدے پرشدید عالمی دباؤ کے باوجود پی پی پی کے شریک چئیرمین اور اُس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی دباؤ کو پسِ پُشت ڈا ل کر مملکتِ عزیز پاکستان کے مفاد کوپیشنظر رکھتے ہوئے معاہدے پر عملدرآمد کرایا اور اب اُس آفاقی منصوبے پر کام مکمل کرنا موجودہ حُکمرانوں کی زمہ داری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستان کے غریب عوام کے مفادات کو ترجیح دیا ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے سی پیک منصوبے کی مخالفت کے بجائے حمایت اس شرط پر کیا کہ تمام صوبوں اور پورے مُلک کو اس منصوبے کے ثمرات ملیں اور تمام صوبوں کو اُن کی حیثیت واضح ہونی چاہیے لیکن مسلم لیگ (نواز) جو پیشے کے لحاظ سے کاروباری ہیں اور اُن کی سیاست کا مقصد بھی اپنے کاروبار کو توسیع دینا ہے اسی مقصد کے تحت مسلم لیگ (نواز)نے’’ چائینا پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے ‘‘ کوعملی طور پر ’’چائینا پنجاب اقتصادی راہداری منصوبہ‘‘ بنا ڈالا ۔مسلم لیگ (نواز) کی حکومت کے اس طرز عمل سے باقی صوبوں میں شدید تشویش ،بے چینی اور احساس محرومی دیکھنے میںآئی یوں معاشی طور اہمیت کے حامل اس منصوبے کو بھی ناکام بنانے کی دشمن کو موقع ملا جو خود وفاقی حکومت کی ناقص حکمت عملی کے سوا کچھ نہیں۔باقی تین صوبوں کی حکومتیں اور سیاسی و دینی جماعتیں وفاقی حکومت کی اس غیر منصفانہ اور ظالمانہ حکمت عملی کے خلاف آواز بُلند کر رہی رہیں لیکن گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نہ صرف مخلص نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی جی حضوری کے زریعے اپنی کُرسی کو مظبوط کرنے میں لگی ہوئی ہے۔اس منصوبے کے تحت 135ارب ڈالر صرف توانائی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا اور توانائی کے پیشتر منصوبے 2018ء تک مکمل ہوں گے لیکن گلگت بلتستان کا خطہ قدرتی طور پر پانی نعمت سے اتنا مالامال ہے اگر یہاں بہتر منصوبہ بندی کے زریعے کام کیا جائے تو پورے پاکستان میں توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے لیکن صوبائی حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث 135ارب ڈالر میں سے گلگت بلتستان میں ایک روپیہ تک خرچ نہیں کیا جائے گا اسی طرح 10ارب ڈالر سڑکوں کا جھال بچھانے پر خرچ ہوں گی لیکن گلگت بلتستان کے عوام کی بد قسمتی دیکھئے کہ پھٹے پُرانے کپڑوں کو تو ٹاکیاں لگاتے دیکھا تھا مگر پاکستان مسلم لیگ (نواز)کی صوبائی حکومت شہر کی چند معروف سڑکوں پر ٹاکیاں لگا کر گلگت بلتستان کے مینڈیٹ کی توہین کر رہی ہے اور ان ٹاکیوں کا نتیجہ بھی دس سے پندرہ دنوں میں عوام کے سامنے آرہاہے۔وزیر اعلیٰ کی ناقص حکمت عملی کہیں یا شاطرانہ چال سی پیک کے استعمال میں آنے والی گلگت بلتستان کے عوام کی ملکیتی زمینوں کو بھی خالصہ سرکار قرار دے کر ہتھیا نے کی مذموم کوشش ہورہی ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے وزراء خطے کی تعمیر و ترقی کے کام کرنے اور عوام کی خدمت کرنے کے بجائے سیر سپاٹے کرنے،سیلفیاں لینے ،فوٹو سیشن کرنے اور سابق حکومت پر بے جا تنقید کرنے میں مصروف ہیں حالانکہ دُنیا جانتی ہے کہ پی پی پی کی سابق حکومت کے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے کے سوا کوئی کام نہیں ہوا ہے اس تمام صورتِ حال کا سبب خود وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ہیں جو ’’ون مین شو‘‘ بنے ہوئے ہیں۔حکومت کی قائم کردہ کمیٹیوں کے زمہ داران اور خود صوبائی وزراء کے بیانات اور انکشافات ہی کافی ہیں کہ سی پیک کے منصوبے میں نہ تو گلگت بلتستان کی کوئی حثیت واضح ہے اور نہ ہی کچھ فائدہ یا مراعات ملنے والے ہیں فقط خطے کے سینے کو چیرتے ہوئے ٹرینوں کے دھوئیں کو دیکھ اور سونگھ سکتے ہیں جس طرح چائینا کی جہازوں کو گلگت کے اُپر سے گُذرتے دیکھتے ہیں۔کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ہماری صوبائی حکومت کی ناقص حکمت عملی اور نا اہلی کے سبب اس منصوبے کے اولین فریق کو ہی منصوبے کے ثمرات سے محروم رکھا جارہاہے اورکوئی حثیت نہیں دی جارہی ۔وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن کے دانہ گلگت بلتستان میں کھا کر انڈہ آزاد کشمیر میں دینے کا سلسلہ نہ صرف گلگت بلتستان کے عوا م کے ساتھ غداری ہے بلکہ خود اُن کے اپنے مرحوم بھائی سیف الرحمٰن کی روح کے ساتھ بھی غداری ہے۔موجودہ حکمرانوں کے طرز عمل پر بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ۔

آپ ہی اپنی اداؤں پے ذرا غور کرو
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔