میں لٹیرا ہوں

میں لٹیرا ہوں

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 مجھے پتہ نہیں کیوں یہ کہتے ہوئے جھجک محسوس نہیں ہوتا کہ میں لٹیرا ہوں ۔۔خائین ہوں ، ناشکرا ہوں ،بے درد ہوں بے وفا ہوں ،طوطا چشم ہوں ،نرگیسیت کا شکار ہوں ،خود غرض ہو ں وہ کونسی برائی ہے جو مجھ میں نہیں ۔۔۔میں اس مٹی سے ا ٹھا اس کے اوپر زندہ ہوں اسی میں سر رکھ کے سو جاؤں گا ۔۔اگر ایسا ہو تو اس کی تعمیر میرا خواب ہونا چاہئیے تھا ۔۔مگر ایسا نہیں ہے ۔میرا کوئی خوا ب نہیں ۔۔پیسہ میرا خواب ہے ۔غلط کمائی ، ڈیوٹی میں غفلت ،اپنی کمزوریوں کا قائل نہ ہونا میری پہچان ہے ۔۔میں لٹیرا ہوں مجھے قوم کے بچے حوالہ کیے گئے ہیں ۔۔گھنٹی بجتی ہے ۔میں لان میں دھوپ میں بیٹھا ہوں ۔۔حالانکہ وہ گھنٹی کی آوا زنہیں میری زندگی کا حوالہ ہے ۔۔میرے ایمان کا نظارہ ہے ۔۔میری غیرت کی للکار ہے ۔میرے واسطے دھائی ہے ۔۔مجھ سے دردمندانہ اپیل ہے ۔۔میرے لیے قسم ہے ۔۔ایک الارم ہے کہ اے قوم کے معمار قوم کے نونہال تیرے حوالے کئے گئے ہیں ۔۔تو ان کو تربیت کی آگ میں ڈال دو ۔وقت ضائع مت کرو ۔۔ان کو غیرت مند قوم کی سطح پہ لا کھڑا کرنا ہے ۔۔تم جوہری ہو جوہر تراشنا ہے ۔۔تم سونار ہو سونے کو کندن بنانا ہے ۔۔تم معمار ہو روح انسانیت کی صنعت گری کرنی ہے ۔۔یہ حوالاجات مجھے جھنجھوڑنے میں ناکام ہیں ۔۔میں پتھر ہوں ٹس سے مس نہیں ہوتا ۔۔قوم کے نونہال بے غیر مربی کے ہیں ۔کمرے میں غل غلاپا ہے ۔۔خام مال مزید بگڑتے ہیں ۔۔میں لٹیرا ہوں کیونکہ مہینہ پورا ہونے پر قوم کے خزانے سے ستر ہزار روپے لیتا ہوں اور مفت کے لیتا ہوں ۔۔۔۔مجھے اس مٹی کی تعمیر کا کام سپرد کی گئی ہے ۔۔پہاڑ کاٹ کر راستہ بنانا ہے ۔رقم قومی خزانے سے نکلی ہے ۔۔رقم مختص ہے ۔۔محکمے کے اہلکار پہلے سے تنخواہ لیتے ہیں ۔۔ان کی محنت کا عوض پہلے سے ان کو دیا جارہا ہے ۔۔مگر اس امانت کی رقم سے پہلے سے ان کے حصے ہیں ۔۔پچاس کروڑکے فنڈ کا نصف حصہ خرچ ہوتا ہے نصف آپس میں بانٹا جاتا ہے ۔۔وہ زمہ دار وہ فرد کبھی یہ نہیں سوچتا کہ کہ جب مروں گا تو مٹی کے اس کھڈ میں مجھے اپنے کئے دھرے کا حساب دینا ہو گا ۔۔یہ دولت وبال ہے یہ عیاشیاں دو دن کی ہیں ۔۔حکومت کا خزانہ خالی ہوتا ہے میں لٹیرا ہوں کہ ٹھس سے مس نہیں ہوتا ۔۔کل قیامت کے دن میرے ہاتھ بولیں گے میرے پاؤں گواہی دینگے ۔۔میری زبان پر تالا ہوگا ۔۔۔مجھے اقتدار ملا ہے ۔۔قوم کی پائی پائی میرے پاس امانت ہے ۔۔پوری قوم کے فرد فرد کے حقوق کا ز مہ دار ہوں ۔۔بھوکے کتے سے لیکر لاغر اونٹ سے لیکر یتیم بچے سے لیکر بوڑھے امیر تک سب کے حقوق کا زمہ دار ہوں ۔۔مگر یہ امانت دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہوں ۔اسلام کا نام لیتا ہوں قرآن کا حوالہ دیتا ہوں دعوے کرتا ہوں سچائی کا گیت الاپتا ہوں ۔۔امانت کے پل باندھتا ہوں ۔۔لیکن میرے قلم سے حق کی دھجیاں اڑتی ہیں ۔۔جس کاغذ پہ دستخط کرتا ہوں ۔وہ الفاظ آگ کے گولے بن جاتے ہیں ۔۔اس زات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے میں اگر ایسا ہوں تو یقیناًلٹیرا ہوں ۔۔۔میں کسی کی تعریف بردا شت نہیں کر سکتا ۔۔میں نرگیسیت کا شکار ہوں ۔۔میں اٹھلاتا ہوں تھرکتا ہوں میرے ہاتھوں میں گلاس ٹوٹتے ہیں ۔۔محفلیں افسردہ ہوتی ہیں ۔۔پوری کائینات میں تعفن پھیلتی ہے ۔۔۔مجھے کرسی ملی ہے ۔سونے کے پایوں والی کرسی ہے ۔۔میں آفیسر ہوں میں تروی پہ ترقی کرتا جاتا ہوں ۔۔میری مسکراہٹ پہ سب کھلکھلا کر ہنستے ہیں ۔۔میرے اشارے پہ ایک ہلچل مچ جاتا ہے ۔۔میں خوشا آمد کے الفاظ میں پگھل جاتا ہوں ۔۔مجھ کو میری حیثیت کا اندازہ نہیں ہوتا ۔میرا دفتر جو چھوٹا سا کمرہ ہے کھلی کائنات لگتا ہے۔۔میرے سامنے فائیلیں ہیں ۔ان پہ دستخط کرنے کو فرصت نہیں ہوتی ۔۔بس مہمان آتے ہیں ملاقاتی ہیں کہ کام کرنے نہیں دیتے ۔۔مجھے اندازہ نہیں کہ لوگوں کے کا م بند پڑ ے ہیں وہ مجھے دعا دے رہے ہیں کہ بد دعا میں کیوں نہیں سوچتا ۔۔مجھے احساس نہیں کہ ان فائیلوں کے کاغذوں میں جو الفاظ بکھرے پڑے ہیں ۔ وہ حق ہیں کہ نہیں وہ درست ہیں کہ غلط وہ سچ ہیں کہ جھوٹ بس مجھے دستخط کرنا ہے ۔۔یہ سیاسی کارکن کی ہے یہ کارخا نہ د ارکی ہے ، یہ جاگیردار کی ہے ،یہ رشتہ دار کی ہے ۔مجھے سچ اور جھوٹ کی قسم بس دستخط کرنا ہے۔۔۔میں عدالت کے کہٹرے میں کھڑا ہوں ۔۔میرے دائیں طرف حق اور انصاف اور بائیں طرف نا حق اور نا انصافیاں ہیں ۔۔میں دلائل کی بھر مار کرتا ہوں حق روتا ہے انصاف تڑپتا ہے ۔دھائی دیتا ہے کہ تیری دلائل جھوٹ ہیں ۔ تیری حمایت ناحق ہے ۔تو ظالم کا دفاغ کر رہا ہے ۔۔میں حق کی دھائی سننے سے قاصر ہوں میرے کانوں میں سیسہ پگھلا کے ڈالا گیا ہے ۔۔میرا دل پتھر کا ہے ۔مجھے تو فیس لینی ہے ۔۔۔ میرے اردگرد کے یہ سارے واقعات نجھے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں ۔۔اور میرا اس بات پہ یقین پختہ ہتا جاتا ہے کہ میں لٹیرا ہوں ۔۔میں دکاندار ہوں ،ڈرائیور ہوں،راج مزدور ہوں ،چھاپڑی والا ہوں ،پولیس مین ہوں ،جس طبقہ حیات سے ہوں عجیب ہوں ۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔