مسیحائی یا اندھی کمائی؟

مسیحائی یا اندھی کمائی؟

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلم چلاسی

کیا خوب زمانہ تھا جب بیمار ہوجائے تو طبیب کی خدمات گھر کے دہلیز پر ایک سیٹھی مارو طبیب میاں کندھے پر بیگ لٹکائے حاضر ہوجاتا نبض پر ہاتھ رکھتے ہی مرض کی تشخیص ہوجاتی اور میاں کا بیگ کھل جاتا رنگا رنگ پلاسٹک کی گٹھلیوں میں پیسے ہوئے جڑی بوٹیوں کا خوشبوچاروں طرف پھیل جاتا ایک تلی یعنی کہ ایک خوراک اسی وقت اور ایک رات کو کھانے کے بعد کا مشہورہ دیکرایک کپ نمکین چائے میزبانی کہے یا چک اپ فیس ۔نوش کر کے طبیب میاں چلا جاتا اور صبح ہوتے ہی بیمار ی غائب ہوجاتی بخار سر درد ۔نزلہ۔زکام تو طبیب میاں کی بائے ہاتھ کا کام تھا ایک درخت کے پتے توڑا اس کو کوٹ کر جوس نکال کر مریض کو ایک پیالی پلادی منٹوں میں شکایت ختم ہو جاتی۔پیٹ میں شکایت ہو تو ایک درخت کا چھلکا باریک پسائی کے بعد پانی کے ساتھ استعمال سے فورًً افاقہ ہوجاتاکچھ جڑی بوٹیاں تو ماشاء الللہ کئی ایک بیماریوں کیلے استعمال ہوتے تھے کمر درد کیلے، کرٹ،یا ،شغلو،(مقامی مخصوص جڑی بوٹیاں) کی چائے بنا کرایک چسکی چائے لینے کی دیر ہوتی تھی درد رفو چکر ہوجاتی کوئی ٹیسٹ الٹراسونڈ ایکسرے گن بلا کچھ نہیں تھا کلائی پکڑ کر نبض یعنی کہ خون کی رفتار سے بیماری کی نوعیت کا علم رکھنے والے ایسے ایسے گوہر نایاب ہستیاں تھی جو اب بلکل نا پیدہوچکے ہیں۔ان میں سے کچھ ایسے خدا کے بندے بھی تھے جو نئے نئے آنے والی جدید امراض کی دوا استخارہ کے زریعے معلوم کرتے تھے اور مریض استعمال کرتے ہی تندرست ہوجاتا تھاکچھ بزرگ طبیبوں کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ ان کے ہاتھ میں شفاء ہے مریض کے نبض پکڑتے ہی ادھی بیماری رفع ہوجاتی ہے ابھی بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو بظاہرتو درویش وضح قطع رکھتے ہیں مگر بہت سے لا علاج لوگوں کی علاج کر چکے ہیں میڈیکل سائنس نے جن کو آخری سانسوں کی یعنی چند لمحوں کا مہمان قرار دیا وہی لوگ ان درویشوں کی دوا کے استعمال سے بلکل تندرست ہو چکے ہیں ایک چھوٹی سی بیماری پتھری جو گردوں کو متاثر کرتی ہے جس کے تشخیص تک ہمارے معالج دوست ہزاروں روپے لیتے ہیں جیسا کہ الٹراسونڈ مختلف ٹیسٹ معائنہ فیس اور ادوایات کل ملا کر ہزاروں کی کیش امونٹ بنتی ہے جب کہ یہ طب کے فاضل درویش صرف تیس روپے لیکر اخبار میں لپیٹ کر تھوڈی سی دوائی دیتے ہیں جو تین ٹائم استعمال کرنے کے بعد پتھری کا مریض صحتیاب ہو جاتا ہے۔جب کہ ڈاکٹر حضرات دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں سر کار سے تنخواہ بھی لیتے ہیں معائنہ فیس ساتھ میں میڈیکل سٹور اور بیشتر ڈاکٹروں کے لیبارٹریزبھی ہیں جس میں تنخواہ پر ٹکنکل سٹاف کو رکھا گیا ہے سا ت سو سے لیکر ایک ہذار تک ڈاکٹر صاحبان کا فیس ہے ایک ڈاکٹر کم از کم چالیس سے پینتالیس مریضوں کو چک کرتا اور لیبارٹری ٹیسٹ پانچ سو سے لیکر سات سو تک اصول کیا جاتا ہے اور جو چالیس سے پینتالیس مریض چک ہوتے ہیں ان میں سے دو چار کو نکال کر باقی سب کا مختلف قسم کے ٹسٹ بھی لازمی قرار دیا جاتا ہے چو نکہ اس سے بھی امونٹ میں اچھا خا صا ازافہ ہوتا ہے کیو ہاتھ آئے روزی کو جانے دیں ٹیسٹ کی ضرورت ہو نہ ہو لکھدیتے ہیں اور اپر سے دوائی الللہ معاف کرے اتنی مہنگی ہے کہ غریب بچارہ خرید ہی نہیں سکتا ہے بیس دن کی دوائی پندرہ سو سے دو ہزار کل ملا کہ دو سے پانچ ہزار تک ایک مریض پڑتا ہے اور چالیس سے پینتالیس مریضوں کا حساب لگائے تو یہ رقم لاکھوں میں بنتی ہے اور یہ ایک ہی دن کی کمائی ہے اب یہ رقم مہینہ کے تیس دنوں میں کتنی بنے گی اور اپر سے تنخواہ بھی معقول ہے دوائی بھی ماشا ء الللہ پورا میڈیکل سٹور ایک مریض کو کھلا یا جائے تو بھی کوئی اثر نہیں ہوتا ہے گھاس پھوس ہے کہ دوائی کوئی سمجھ میں نہیں آتامعمولی مریض ان دواؤں کے استعمال سے مستقل مریض بن جاتا ہے۔جب کوئی حادثہ پیش آجائے سیریس زخمی ان حضرات کی کلینک میں لے جاؤ تو فورًًسرکاری ہسپتال لیے جانے کی ہدایت کرتے ہیں الللہ کے بندو پہلے فسٹ ایڈ تو دیدو بعد میں سرجن جانے اس کا کام جانے دن دو بجے کے بعد ایک ایک ہوکر یہ ڈاکٹر حضرات ہسپتال سے کھسکنا شروع ہو جاتے ہیں تھوڑی دیر میں محض ایمرجنسی ڈاکٹر اور لور سٹاف رہ جاتا

ہے سارے مسیحا اپنے اپنے دکان کہے یا کلینک ادھر چلے جاتے ہیں ایمرجنسی کی صورت میں پکڑ پکڑ کر ہسپتال لانا پڑتا ہے کچھ آتے ہیں کچھ ڈاکٹر صاحبان واپس ہسپتال آنے سے انکار کر دیتے سیریس مریض بچارے کچھ گزر جاتے ہیں اور کچھ قسمت سے بچ بھی جاتے ہیں کیا اندھا کمائی ہے کبھی کبھار دل کرتا ہے کہ کسی مصروف چوراہے پر ڈاکٹر کا بورڈ لگا کر بیٹھ جاؤ اور مفت علاج شروع کردوں دوائی تو ویسے بھی گھاس پھوس ہیں اس کی کیا سائڈ ایفکٹ ہوگی ان دوائیوں سے تو مریض ویسے بھی ٹھیک نہیں ہوتے ہیں کیوں نہ اپنے قوم کو ان سارے ٹیسٹ فیس ڈاکٹر فیس اور ان گنت دواؤں کی فیسوں سے بچاؤں کچھ بھی نہیں تو کم از کم ان مسیحاؤں کا کام تو خراب ہوگا۔الللہ کا خوف کھاؤ اتنے پیسوں سے کیا کروگے پچاس سے ساٹھ سال کی زندگی تھوڑا سا کفن اور چند فٹ زمین چاہیے جتنا بھی کماؤ گے یہاں چھوڑ کر جانا ہے۔جو خطاب مسیحائی کا ملا ہے وہ دنیاں و آخرت کی سب سے بڑی دولت ہے اس مسیحائی کو اندھا کمائی بنا کر اپنے ابدی دولت کو کیوں خراب کرتے ہو؟ ان دکانوں کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں بیشترڈاکٹر حضرات پورا وقت بھی نہیں دے سکتے ہیں عموماًًسرکاری ہسپتالوں میں عام غریب لوگ علاج معالجے کیلے جاتے ہیں چونکہ ان کی رسائی سرکاری ہسپتال تک بڑی مشکل سے ہوتی ہے کلینکوں تک کا خرچہ یہ بچارے برداشت نہیں کر سکتے گاؤں دھات میں بیشتر لوگ ایسے بھی ہیں جو چند سو روپے کرایہ ادا کر کے سرکاری ہسپتالوں تک نہیں پہنچ سکتے اور معمولی بیماری بڑھتے بڑھتے جان لیوا مرض کی روپ دھارتی ہے اور بغیر علاج معالجے کے دنیاں سے چلے جاتے ہیں اگر ان تمام غریب لوگوں کی رسائی سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ان کلینکوں تک بھی ہو جائے اور جائز اصولی بھی یقینی ہو تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ جو بغیر علاج کے بے موت مرنے والے ہیں ان میں خاطر خواہ کمی آجائے گی اس امید کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر حضرات اپنے پیشہ کے ساتھ انصاف اور گلگت بلتستان کے غریب عوام پررحم کرینگے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔