غیر معیاری ادویات کے خاتمے کے لئے ڈرگ انسپکشن ٹیم نے چلاس میں میڈیکل سٹورز پر چھاپے مارے

غیر معیاری ادویات کے خاتمے کے لئے ڈرگ انسپکشن ٹیم نے چلاس میں میڈیکل سٹورز پر چھاپے مارے

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)ڈرگ انسپکشن ٹیم گلگت بلتستان کا چلاس کے میڈیکل سٹوروں پر چھاپے،ادویات کے معیار کی چیکنگ، ایکسپائری بل وارنٹی لائسنس کی جانچ پڑتال اور غیر معیاری غیر قانونی ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے ادویات کے نمونے بھی حاصل کر لئے گئے۔

چیف ڈرگ کنٹرولر سیکرٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ ڈاکٹر کفایت اللہ کی قیادت میں سینئیر ڈرگ انسپکٹر عبید خان پر مشتمل ٹیم نے اچانک چلاس شہر کے تمام میڈیکل سٹوروں پر چھاپے مارے۔اور ادویات کے معیار کی جانچ پڑتال کی ۔اس موقع پر انہوں نے ادویات کی بل وارنٹی بیچ نمبرز اور ایکسپائری کی بھی چیکنگ کی۔اور لائسنس سمیت متعلقہ افراد کی موجودگی ادویات کی فراہمی میں ردو بدل کا بھی بغور جائزہ لیا۔اور سٹوروں پر موجود کسٹمرز سے بھی ادویات سے متعلق معلومات بھی لی۔اور خریدی گئی ادویات کو ڈاکٹر کی پرچی کے مطابق ہونے یا نہ ہونے کی بھی چیکنگ کی۔

اس موقع پر انہوں نے غیر معیاری اور غیر قانونی ادویات کی بھی مکمل تلاشی لی۔دوران انسپکشن لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے سیمپل بھی حاصل کئے۔تاہم دوران انسپکشن کسی بھی سٹور سے ممنوعہ اور غیر قانونی سمگل شدہ ادویات برآمد نہ ہوسکی۔جس پر چیف ڈرگ کنٹرولر نے اطیمنان کا اظہار بھی کیا۔بعدا زاں میڈیکل سٹور مالکان کو ہدایات دیتے ہوئے چیف ڈرگ کنٹرولر ڈاکٹر کفایت اللہ خان نے کہا کہ ادویات کے حوالے سے عوامی شکایات کے ازالے کے لئے میڈیکل سٹور مالکان اقدامات اٹھائیں۔ادویات کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے عالمی تجویز کردہ ٹمپریچر کو برقرار رکھنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ادویات کی سپلائی کے دوران ٹمپریچر ادویات کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس سلسلے میں سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں اور سپلائی کے دوران ٹمپریچر کو برقرار رکھنے کے اقدامات کروائے جائینگے۔سیلف میڈیکیشن پر سختی سے پابندی عائد ہے۔کسی نے بھی اس پابندی کی خلاف ورزی کی تو انکے خلاف سخت اور موثر کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ڈاکٹری نسخے کو تبدیل کرنے کی چند شکایتیں موصول ہوئی ہیں ۔ان شکایتوں کو مد نظر رکھ کر کاروائی کی جائے گی۔

اس دوران میڈیا سے گفتگو میں چیف ڈرگ کنٹرولر نے کہا کہ ڈرگ انسپکٹر ضلع میں روٹین کے مطابق انسپکشن کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایکسپائرڈ ادویات کی برآمدگی پر کئی سٹور مالکان کے خلاف کاروائی عمل میں لاکر سزائیں دی گئی ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ڈرگ اینڈ فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری گلگت میں قائم کی جاچکی ہے۔لیبارٹری کو جلد ہی فنکشنل کر کے باقاعدہ ٹیسٹ کا عمل شروع کر دیا جائے گا تاکہ بروقت ادویات کی کوالٹی کا اندازہ ہو سکے اور عوام غیر معیاری اور مضر صحت ادویات سے بچ سکیں۔ا

نہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل سٹور مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادویات کے لین دین کو بزنس کے طور پر نہیں سوچیں گے۔معیاری ادویات کی فراہمی خدمت خلق سمجھ کر سر انجام دینگے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اب تک سینکڑوں افراد غیر قانونی اور غیر معیاری ادویات کی فراہمی کے جرم میں سزائیں بھگت رہے ہیں اور کئی کمپنیوں کو مکمل طور پر بند کروا دی گئی ہیں۔یہ سلسلہ بدستور جاری و ساری رہے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔