وزیراعلیٰ کی ایڈیٹرز اور کالم نگاروں کے ساتھ مشاورتی نشست 

وزیراعلیٰ کی ایڈیٹرز اور کالم نگاروں کے ساتھ مشاورتی نشست 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: اسرارالدین اسرار

ہمارے مسائل انگنت ہیں مگریہ بات درست ہے کہ اس بگڑے ہوئے نظام کو چند مہینوں یا سالوں میں مکمل طور پر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس کی درستگی کے عمل کی ابتداء کیا جانا ہی کسی غنیمت سے کم نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی طرف سے اپنی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد اپنے وژن اور مشن سے آگاہ کرنے کے علاوہ مزید بہتری کے لئے مشاورتی عمل کا آغاز کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی کار کردگی کو بہتر کرنے کے لئے فکر مند ہیں۔ وگرنہ مہدی شاہ کی طرح وہ بھی اگر خود کو عقل کل سمجھ کر وزیراعلیٰ ہاؤس میں موج مستیوں میں وقت گزارتے تو ان سے کس نے پوچھنا تھا کہ جناب آپ نے ایسا کیوں کیا؟

انسان ایوان اقتدار میں بیٹھا ہو یا فٹ پاتھ پر وہ خود کو عقل کل نہیں کہہ سکتا۔ دنیا کے ذہین ترین لوگوں سے بھی بڑی بڑی غلطیاں سرزدہوتی ہیں۔ اس لئے معاشرے کے اجتماعی امور کی انجام دہی کے لئے مشاروت کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ جمہوری نظام دراصل مشاورت کی جدید شکل ہے ۔ ماہرین نے جمہوریت کی مختلف اقسام بتائی ہیں۔موجودہ وقت میں جمہوریت کی سب سے اچھی شکل کا نام شرکت داری پر مبنی جمہوریت (Participatory Democracy) ہے۔ جس میں ہر سطح پر عوامی شرکت داری کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ قانون سازی اور ترقیاتی عمل میں بھی سول سوسائٹی کی مشاورت اور شرکت داری یقینی بنائی جاتی ہے۔تاکہ عوام کی ذہنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا نے کے علاوہ ان کے اندر اس احسا س کو بڑھایا جائے کہ وہ اس سارے عمل کا باقاعدہ حصہ دار ہیں۔

گذشتہ دنوں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ایڈیٹرز فورم اور کالم نگاروں کو سی ایم ہاؤس گلگت میں مشاورت کی دعوت دی تھی ۔ ا س دوران انہوں نے اپنی حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کا تفصیلی ذکر کیا اور بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے اور ان سے حکومتی امور کی بہتری کے لئے تجاویز بھی طلب کیں۔

اس موقع پر راقم نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ گلگت بلتستان میں حکومتی امور کی بہتر انجام دہی کے لئے سینئر صحافیوں کے ساتھ پہلی دفعہ طویل مشاورت کی گئی ہے۔ راقم نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ مشاورت کے اس عمل کوتسلسل کے ساتھ جاری رکھیں اور زندگی کے مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ ایسی مشاورتی تشستوں کا اہتمام کریں تاکہ متعلقہ شعبوں میں بہتری لائی جاسکے۔

اس نشست میں وزیراعلیٰ نے صحافیوں کی تنقید کا بھی سامنا کیا اور ان کے تند و تیز سوالوں کے خندہ پیشانی سے جوابات بھی دیئے۔ جبکہ کئی اہم امور سے متعلق ان کی مشاورت کو بھی تحمل سے سنا اور اپنی کار کردگی کو مزید بہتر کرنے کی یقیں دہانی بھی کرا دی۔

وزیر اعلیٰ نے اپنی ایک سالہ کار کردگی کا ذکر کرتے ہوئے مختلف امور پر تفصیلی روشنی ڈالی جن کا ذکر اگلے دن مقامی اخبارات میں بھی ہوا ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اس نشست کا لب لباب قارئین کی نذر کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے اس نشست میں کہا کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں بہتری کے لئے کوشاں ہیں۔ وہ صوبے کی آ مدنی بڑھانا چاہتے ہیں تا کہ مسائل کے حل کے لئے وسائل دستیاب ہو سکیں۔ وہ اب تک اس آمدنی کو ۴۳ کروڈ سے بڑھا کر ۸۳ کروڈ تک لے جا نے میں کامیاب ہو چکے ہیں ۔وہ تونائی کے شعبے کو بھی ترقی دینا چاہتے ہیں یہاں تک کہ ۲۰۲۰ ؁ء میں گلگت بلتستان سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے علاوہ یہاں کی بجلی کو ملک کے دیگر صوبوں کو فروخت کیا جانا ان کا خواب ہے اس سلسلے میں وہ پاور پولیسی کی جلد منظوری دیں گے۔ بیوروکریسی کی استعداد کا ر بڑھانے کے علاوہ نئی بھرتیاں بھی کرنا چاہتے ہیں اور دستیاب انسانی وسائل کی جدید خطوط پر تربیت بھی کرنا چاہتے ہیں ۔تعلیم اور صحت کے شعبے بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہیں انہوں نے اس سلسلے میں اب تک کئے گئے اپنے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی ذکر بھی کیا۔ وہ صوبے میں ہنر مند افراد کی کھیپ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ٹیکنکی تعلیم کے ادارے بنانا چاہتے ہیں۔ کے آئی یو کے کیمپس دیامر اور ہنزہ میں بنانا چاہتے ہیں جبکہ نئے کالج بھی ان کی تر جیحات میں شامل ہیں۔ وہ کئی نئے ادارے بھی بنانا چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے بین الاضلاعی سڑکوں کی تعمیر بھی عنقریب شروع کرنا چاہتے ہیں جبکہ زیر التواء کئی پراجیکٹ مکمل کر چکے ہیں جو بڑے پل یا دیگر پراجیکٹ رہ گئے ہیں وہ آئندہ ایک سال میں مکمل کرنے کا بھر پور ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے ۱۳ ارب مالیت کے ایفاد پراجیکٹ کا خصوصی ذکر کیا ۔ جس کے تحت گلگت بلتستان کی زرعت کو بام عروج تک پہنچانا ان کا خواب ہے۔وہ جی بی آر ایس پی کے تحت ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔کے آئی یو میں سولر پلانٹ کے تحت جلد ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت شہر کی سڑکیں اور پینے کے صاف پانی کے مسائل کے حل کے لئے کام تیزی سے جاری ہے۔ جبکہ شہر کی صفائی کا عمل بھی زور و شور سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کو مزید پائیدار بنانے کے لئے کئی منصوبوں کی بنیا د رکھی گئی ہے جس میں سیف سٹی پراجیکٹ بھی شامل ہے۔ جبکہ پہلی دفعہ پولیس کی بہتر کارکردگی پر انعام دینے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔اور ا ن کو بلٹ پروف جیکٹس بھی دی گئی ہیں۔ شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر کیا جارہا ہے جبکہ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں بھی اسی طرح کام کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ کا نظام بھی بہتر کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ بچت پر یقین رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے گھر کی بجائے سی ایم ہاؤس میں رہنے کو ترجیح دی ہے جبکہ اسلام آباد میں الگ سے سی ایم ہاؤس بنائے کے بنائے وہ جی بی ہاؤس میں رہائش رکھتے ہیں۔ گلگت میں انہوں نے اپنے ذاتی گھر پر ایک نیاء ٹیلی فون تک لگانے کی بھی اجازت نہیں دی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گلگت میں ۱۴ سو کنال اراضی پر انڈسٹریل زون بنایا جارہا ہے تاکہ اس کی مدد سے بے روزگاری ختم کی جاسکے۔ انہوں نے معذور افراد کی فلاح و بہبو د کے لئے منصوبہ بنانے کا بھی اعلان کیا جبکہ نوجوانوں کی بہتری کے لئے بھی کام کرنا ان کے ویژن کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماتحت عدالتوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے بھی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں کالج روڑ پر ایک اور جی بی ہاؤس تعمیر کیا جائے گا ۔انہوں نے خصوصی طور پر کہا کہ احتساب کا عمل تیز کیا جائے گا ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے قومی خزانے سے سکردو میں شاہ ویلاز تعمیر کرایا ہے اس کی تحقیقات کرائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے کام پنجاب حکومت کی مدد سے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چھ ہزار سے زائد لوگوں کو میرٹ پر ملازمتیں دیں گے جبکہ پرائیوٹ سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے مذکورہ تمام امور کے حوالے سے اب تک ہونے والے تمام کاموں کے اعداد و شمار بھی پیش کئے۔

گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ وفاق کے ساتھ مل کر اس کا بہتر حل نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ مسلہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا یہ سمجھا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ مشاورتی نشست میں صحافیوں نے ان پر سوالات کے تندو تیز تیر بھی بر سائے اور نیک مشورے بھی دئیے، جن کا ذکر اگلے کالم میں کیا جائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments