بیوی کی قدر و قیمت 

بیوی کی قدر و قیمت 

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 جاوید احمد ساجد

آج صبح نماز پڑھ کر سویا اور جب اُٹھا توبچے سکول اور دیگر کام پر جاچکے تھے عبدل باقی صاحب چائے پی رہا تھا اورخود ہی اپنے برتن سنبھال کر تیاری کر کے چلا گیا ، میں اُٹھا اور کچن گیا تو بیٹی نے ناشہ تیار کر کے رکھا تھا اور ایک دیگچی میں پانی بھی گرم کر کے اپنی دفتر جا چکی تھی۔ اس پانی میں سے داڑھی بنانے کے لئے پانی مگ بھر کر لیا تو کم رہ گیا اور تھوڑا سا پانی اور ڈالا اور چولہا جلایا ۔ کمرے میں آ کر یاد آیا کہ برش باہر رہ گیا ہے دوبارہ اُٹھا اور برش لایا داڑھی بنا کر برش ریزر اور مگ کو بھی دھویا اور ان کو اپنی اپنی جگہ پر رکھا۔ غسل خانہ گیا تو یاد آیا کہ پانی چولہے پر گرم ہو نے کے لئے رکھاتھا؛ کچن گیادیگچے سے ڈھکنا اُٹھا یا تو ہاتھ جل گیا نیچے پھینک دیا اور ایک کپڑا ، ڈھونڈا، گرم پانی بالٹی میں ڈالاچولہا بجھایا اور اِش اِش کر تے ہوئے بالٹی اُٹھاکر نکل گیا ، بہرحال اس مر حلے سے بخیر و عافیت گذر گیا۔ نہا کر کمرے میں آ یا اور پھر ناشہ کی نوبت آگئی بچی نے ہر چیز تیا ر کیا تھا لیکن اس کے باوجود ہر چیز ادھر اُدھر پڑی نظر آئی۔ بچی نے دھی تیار کر کے فریج میں رکھا تھا جاکر دھی لایا کچن سے روٹی اور انڈا لایا تو چمچہ یاد آیا جا کر چمچہ لایا تو یاد آیا کہ شہد بھی لاؤں دوبارہ گیا فریج سے شہد لایا جب کھانے لگا تو دیکھا کہ شہد نکالنے کے لئے چمچہ نہیں ہے چوتھی یا پانچویں مرتبہ اُٹھا تو شاید ناشتہ کے تمام لوازمات پورے ہوے بلکہ ایک با ر پھر اُٹھااور جاکر پانی کا گلاس لایا تب جا کر ناشتہ کیا۔ اب سامان سمیٹنے کا وقت آیا تین یا چار چکر لگا کر برتن کو مشکل سے کچن تک پہنچایا اور پھر گراج سے موٹر سائکل باہر نکا ل کر کھڑا کیا اور واپس آیا اور بوٹ پا لش کیا پھر دانت صاف کیا اور اب تیا ری کا مرحلہ آگیا ۔ انٹرلاک اور انڈر ویر نزدیک ہی سے مل گئے ۔ ڈریس نکالا دیکھا کہ کون سا پہنوں دوسرا ، تیسرا ،بہر حال ایک نکالا۔ پہنا تو کف یعنی سٹڈ نہیں تھے الماری سے ڈھونڈ کر نکالا ۔ جرابیں دونڈھا اور تیار ہوا نکلنے سے پہلے ٹائی یاد آیا دوبارہ الماری کھول کر ٹائی ایک نکالا اور چلنے لگا تو پرس رومال وغیرہ یاد آیا اللہ اللہ کر کے تیا ر ہوا ۔ جلدی جلدی نکلنے لگا اور وقت دیکھا تو آٹھ بجکر بیس منٹ ہوچکے تھے جب کہ سات بجے اُٹھا تھا ۔ ایک گھنٹہ بیس منٹ میں مشکل سے ناشتہ کیا اور تیار ہو تو ایسا لگا کہ یہ سارا کام نہایت مشکل ہے ۔ کیونکہ گھر میں کوئی نہیں تھا اس لئے اپنے کمرے کو اندر سے بند کیا دوسرے کمرے سے بیٹھک میں گیا اس کا بھی ایک دروازہ اندر سے بند کیا اور تمام دروازوں پر جو اندر سے بند کرنے تھے ایک اچٹتی نظر ڈالا ، بجلی کے سارے بٹن بند کئےاور باہر نکل کر دوازے کو تالا لگایا اور مالک مکان کو چابیاں دیں اور شرمندہ سا ہو کر ان کا اس بار احسان کا کہ میرے بچے گھر آنے تک چابیاں سنبھالے گا۔ شکریہ ادا کیا اور دفتر کی جانب روانہ ہوا۔ یاد آیا کہ بیوی کس بلا کا نام ہے اور ان کی قدر و قیمت کیا ہے ۔

چونکہ بیس ستمبر کو ہم لوگ یاسین غذر گئے تھے اور ایک بیٹی کی شادی کی رسم بفضل تعالیٰ ادا کر کے میں اور میرا چھوٹا بیٹا واپس آگئے تھے اور میری بیوی اور پوتا یاسین میں ہی کچھ عرصہ کیلئے رک گئے تھے۔ ایک بچی اور بچہ پنڈی میں ہی تھے۔ میں اور عبدل باقی صاحب 30 ستمبر کو صبح روانہ ہو کر گلگت سے گیارہ بجے ایک کوسٹر میں براستہ بابوسر یا ببو سر اور ناران کا مفت میں نظارہ کر تے ہوے یکم اکتوبر کو رات ایک بجے پیر ودائی اڈہ پہنچ گئے تھے اور تب سے یہ روٹین بن چکاہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔

لیکن آج ذرہ ان تمام چیزوں پر غور کیا تو پھر بیوی کی قدر و قیمت کا مجھے اندازہ ہو اکہ واقع بیوی کس بلا کا نام ہے ۔ اللہ نہ کرے کہ اگر ان تمام کاموں کے لئے ایک نوکر رکھا جائے اور کچن کے لئے ایک خانصامہ رکھا جائے اور کپڑوں کی دھلائی اور استری کی خدمات دھوبی سے لیا جائے تو ان کے خراجات، کا اندازہ لگائے کہ کیا ہوگا ۔ اگر یہ تمام اخراجات برداشت بھی کر کے نوکر رکھیں جائیں تو پھر بھی بیوی کے ہاتھوں کا پکا ہوا کھانے کا مزہ کہاں ہوگا، یا یہ کہ بیوی چپکے سے ان تمام کاموں کو بغیر اُف کئے انجام جو دیتی ہے تو ان تمام کاموں کے کر نے کے لئے ہر دفعہ نوکر کو بلا کر بتا بتا کر تھک کر کہیں کرانہ ہوگا ۔ پھر یہ کہ شام کو سونے سے پہلے دودھ کا گلاس اور رات کو پینے کے لئے پانی کا جگ اور گلاس ، صبح کو پہننے کے کپڑے اور ناشتے کے ساری جنجٹ،کتنے کام ہیں جو ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا بیوی بے چاری کر کے دیتی ہے۔ اسی طرح کے ہزاروں کام ایسے ہیں جنکو انتہائی خاموشی سے انجام دینے والی بیوی کو میری طرح سال میں ایک دو ماہ کے لئے چھٹی پر بھیج دے توپتہ چلتا ہے یا یہ کہ خدا نہ کرے کہ کسی کی بیوی نہ ہو تو اگر ان تمام کاموں کو خود اپنے ہاتھوں سے انجام دے تو پھر بیوی کی قدر وقیمت کا اندازہ ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ بیوی اور میاں زندگی کے دو پہیے ہیں بلکہ میرے نظر میں اگر زند گی چار پہیوں اور ایک سٹیرنگ سے چلتی ہے تو پھر بیوی تین پہیو ں کی برابر ہے اور مرد صرف ایک پہیہ اور سٹیرنگ رہ جاتا ہے اس سے اندازہ لگا ؤ کہ زندگی بیوی کے بغیر چل ہی نہیں سکتی ہے ، ارے بابا کہیں ایک پہیے سے بھی کبھی کوئی گاڑی چلی ہے۔

انسان کو خاص کر میرے جیسے آدمی کو کبھی بھی بیوی کے ساتھ ناشکری نہیں کر نا چاہئے کیو نکہ روز مرہ کی زندگی میں ہزاروں ایسے کام ہیں جن کی بڑی اہمیت ہو تی ہے لیکن ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا ، مثلاََ یہ کہ آ پ ڈریس پہنتے ہوے دیکھتے ہیں کہ شرٹ کا ایک بٹن ٹوٹا ہو اہے، جراب کے بڑی انگلی کے اوپر سوراخ ہو ا ہے، شیو کے لئے گرم پانی کی ضرورت پڑ گئی ہے، گیس اور بجلی نہیں ہے سلنڈر پر پانی گر م کرنا ہے، واش روم گئے لیکن صابن یا شمپو ختم ہے، شام کو آرام کر تے ہوے بھی پانی کی ضرورت پڑ گئی۔ گرم دودھ کا گلاس بستر کے پاس لا کر دسمبر جنوری کی کڑاکے دار سردی میں دینا ہو۔جرابیں گندی ہیں، سر درد ہے اور چائے کی طلب ہے۔ صبح سویرے بچوں کی منتیں کر کر کے یا مدرانہ شفقت سے ڈانٹ ڈانٹ کر اُٹھانہ ، ان کو ناشتہ کرانہ، تیار کرانہ اور سکول بھیجوانہ اور سکول سے آگئے تو ان کی وردی، بوٹ اور کتابیں سنبھالنا، گھر کا کام کرانہ۔ دینی سکول وقت پر بھیجوانہ، اس کے علاوہ پھر گھر کی ، کچن کی ، غسل خانوں کی صفائی کرنا یا کرانہ، گھر کی اخراجات کی نگاہداری کرنا کہ گھر میں یہ یہ چیز نہیں ہے اور مار کیٹ سے لانا ہے یہ یہ چیز پڑی ہے سنبھالنا ،کل اتوار بازار جاناہے کون کون جائے گا کیا کیا لانا ہے۔فلاں رشتہ دار کی شادی پر جانا ہے فلاں کی خالہ اللہ نہ کرے مر گئی ہے تعزیت کر نے جاناہے ، فلاں رشتہ دار بیمار ہے بیمار پرسی کے لئے جانا ضروری ہے، فلاں کا پوتا ہو ا ہے مبارک بادی کے لئے جانا ہے، بچوں کے سکول میں میٹنگ کے لئے بلایا گیا ہے، یو م والدین پر جانا ہے، بچوں کا رزلٹ لینے جانا ہے، پتہ نہیں اور ایسے ہزاروں کام ، ان سب کے سب کاموں کو یہ غریب کی بچی سانس روک کر سب کچھ کر تی ہے ، بے شک مرد نوکری کرتا ہے لیکن بعض مرد ، دفتر کا غصہ بھی گھر میں آکر نکالتے ہیں کہ باس نے آج باز برس کیا تھا ، اور گھر میں آکر بیوی کو جلی کٹی سنائی اور دل کا بڑاس نکال دیا۔ کیونکہ پاکستان میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد کم ہے اگر ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ وہ خاتون ایک نوکری پیشہ بھی ہو تو پھر آپ خو د اندازہ لگائے کہ اس بے چاری کا کیا حال ہو گا۔لہٰذا بیوی کو سال میں ایک دو ماہ کے لئے کہیں جا کر آرام کر نے دو اور دیکھو کہ آپ کی محبت بڑھ جائے گی ۔ اور بیوی کی قدرو قیمت کا اندازہ بھی ہو گا جب کچھ وقت اپنا کا م خو د اپنے ہاتھ سے کروگے ۔ اللہ سب کی بیویوں کو صحیح سلامت اور تندرست رکھیں ، بس ان کا خیال رکھنا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔